منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کے خلاف تحریک، اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی، اہم سیاسی جماعتوں کا مولانا فضل الرحمان کے ملین مارچ میں شرکت سے انکار، حیرت انگیز فیصلہ کر لیاگیا

datetime 23  جولائی  2019 |

پشاور(آن لائن) اپوزیشن اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کو پشاور میں ملین مارچ کے نام پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جلسے میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی ہے جس کے باعث ایک ہی دن پشاور میں 2 جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام پشاور میں ملین مارچ 14 جولائی کو ہونا تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات کے انعقاد کے روز 25 جولائی کو مشترکہ طور پر یوم سیاہ منانے کااعلان کیا،

جس پر جے یو آئی (ف) نے بھی اپنے ملین مارچ کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے 25 جولائی کو مشترکہ جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کردیا لیکن اب اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے ملین مارچ کے نام پر منعقدہ جلسے میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔اپوزیشن کے انکار کے بعد اب 25 جولائی کو ایک ہی دن پشاور میں 2 الگ الگ جلسے ہوں گے، دن 11 بجے موٹر وے کے قریب اپوزیشن کا مشترکہ جلسہ یوم سیاہ کے سلسلے میں منعقد ہوگا جس سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف کے بھی خطاب کا امکان ہے تاہم ان کی عدم شرکت کی صورت میں احسن اقبال اور خواجہ آصف مذکورہ جلسے سے خطاب کریں گے، اس کے علاوہ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاو، پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی کے علاوہ دیگر قائدین جلسے میں شرکت کریں گے جبکہ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی جلسہ میں شریک ہوں گے۔جے یوآئی (ف) ملین مارچ کے سلسلے میں اپنا الگ جلسہ سہ پہر 3 بجے دلہ زاک چوک رنگ روڈ پر منعقد کرے گی جس سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اورپارٹی کے دیگر رہنما خطاب کریں گے، جے یو آئی کے ذرائع نے اس بارے میں بتایا کہ ایک ہی دن میں دو الگ جلسے منعقد کرنا انتہائی مشکل اور سخت ترین فیصلہ ہے تاہم یہ فیصلہ اس وجہ سے لیا گیا کہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے قائدین نے ملین مارچ کے نام پر منعقد ہونے والے جلسے میں شریک ہونے سے انکار کردیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ یوم سیاہ کے سلسلے میں الگ جلسہ کیاجائے جس کی وجہ سے2 جلسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…