جج ارشد ملک کے خط کو نوازشریف کی سزا کیخلاف زیر سماعت اپیل سے منسلک کر دیاگیا، اہم پیش رفت

  جمعہ‬‮ 12 جولائی‬‮ 2019  |  21:15

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے ویڈیوسکینڈل میں وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت نمبر2کے جج محمد ارشد ملک کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے جج کے ہائیکورٹ کولکھے گئے لیٹرکو سابق وزیر اعظم نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاکیخلاف زیرسماعت اپیل سے منسلک کردیا۔گذشتہ روزاحتساب عدالت کے جج محمد ارشداسلام آبادہائیکورٹ آئے جہاں انہوں نے اپنالیٹررجسٹرارہائیکورٹ کودیاجس کیساتھ بیان حلفی اوراتوارکے روزجاری کی گئی پریس ریلیزبھی منسلک کی گئی،جن میں جج ارشدملک نے اپنے اوپرلگائے گئے الزامات کی تردیدکرتے ہوئے کہناہے کہ ویڈیونہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ ان میں مختلف مواقع اور موضوعات پرکی جانیوالی گفتگوکوتوڑمروڑکرسیاق وسباق سے ہٹ کرپیش


کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے،نوازشریف اوران کے خاندان کے مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بارہانہ صرف رشوت کی پیشکش کی گئی بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں،جن کو میں نے سختی سے ردکیا،اگردباؤ یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا توایک مقدمہ میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا،میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بناپرنواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اورفلیگ شپ کیس میں بری کیا،مجھ پربالواسطہ یابلاواسطہ نہ توکوئی دباؤتھا اورنہ ہی کوئی لالچ پیش نظرتھا،میں نے یہ فیصلے خداکوحاضروناضرجان کرشواہدکی بنیادپر کیے، رجسٹراراسلام آبادہائیکورٹ ارشادکیانی نے جج کی طرف سے فراہم کیاجانے والا لیٹر،بیان حلفی اورپریس ریلیزقائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق کو پیش کیے اور تقریبا20منٹ تک جاری ملاقات کے دوران ویڈیوسے متعلق تبادلہ خیال کیا جس کے بعدقائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق نے دستاویزات کا جائزہ لیاجس کے بعداسلام آبادہائیکورٹ نے جج ارشدملک کو احتساب عدالت کے عہدہ سے ہٹادیا اس ضمن میں رجسٹراراسلام آبادہائیکورٹ دفترکی طرف سے وفاقی وزارت قانون کو باقاعدہ لیٹربھی لکھ دیاگیاجس میں جج محمدارشدملک کو عہدے سے ہٹانے اوران کی خدمات واپس وزارت کے سپردکرنے سے متعلق آگاہ کیاگیاہے،جبکہ جج محمد ارشدملک کی طرف سے فراہم کیے جانے والی خط کو سابق وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے العزیزیہ ریفرنس میں سزاکے خلاف زیرسماعت مرکزی اپیل سے منسلک کردیاگیاہے،ادھر جج ارشدملک نے پہلے احتساب عدالت میں کیسزکی سماعت کی جبکہ اسلام آبادہائیکورٹ کیطرف سے انہیں ہٹائے جانے کے فیصلہ کے بعدوہ اپنے چیمبرچلے گئے۔یادرہے کہ گذشتہ روز جج ارشدملک کی عدالت میں 5کیسزکی مقررتھے جن میں مفتی احسان وغیرہ کیخلاف مضاربہ سکینڈل،کامران علی قریشی وغیرہ کیخلاف سی ڈی ایکرپشن ریفرنس کے علاوہ امدادالدین وغیرہ،عبدالرزاق میمن وغیرہ اوربابرمشتاق وغیرہ کے خلاف ریفرنسز کی سماعت مقررتھی،جبکہ بشری بتول کی متفرق درخواست پربھی سماعت ہوناتھی۔

loading...