ن لیگ کے دور میں ملک کی معیشت میں 12 کھرب اور قرضوں کی مد 13 کھرب کا اضافہ ہوا،ایک کھرب کہاں گیا؟تشویشناک انکشاف

  اتوار‬‮ 23 جون‬‮ 2019  |  18:30

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے کہا ہے کہ ن لیگ کے دور میں ملک کی معیشت میں 12 کھرب اور قرضوں کی مد 13 کھرب کا اضافہ ہوا،ایک کھرب کہاں گیا اس کا پتہ نہیں،دنیا ترقی کر رہی تھی،(ن)لیگ کی ساری توجہ صرف موٹرویز پر تھی،ملک کو میثاق معیشت کی ضرورت ہے جس میں قرضوں کے استعمال کی بات بھی ہونا چاہیے،حکومت اپنے مالیاتی اہداف ضرور حاصل کرے گی،پیپلز پارٹی دیہی سندھ تک محدود ہوگئی ہے،سندھ کو رواں سال 200 ارب روپے زیادہ ملیں گے،کراچی،حیدر آباد اور سکھر کو حق دیں،ہم پانچ


سال کے اندر ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے۔ اتوار کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں حقائق سے سچائی کا تعین کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ورثہ میں بیس بلین ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ ملا، ہمیں 43 سو ارب کا مالیاتی خسارہ ملا،وزیراعظم کی ساکھ ہی کی وجہ سے ہمیں دوست ممالک نے نو اعشاریہ دو ارب ڈالرز کی بجٹری سپورٹ ملی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرکے ساڑھے بارہ ارب ڈالرز تک لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دنیا ترقی کر رہی تھی اور (ن)لیگ کی ساری توجہ صرف موٹرویز پر تھی، یہ آئی ایم ایف سے ہمارا آخری قرضہ ہے، ہم نے احسن طریقے سے آئی ایم ایف سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کے اندر پچھلے پانچ سال میں بارہ کھرب کا اضافہ ہوا جبکہ تیرہ ارشاریہ چھ کھرب کے قرضے بڑھے۔انہوں نے کہاکہ ملک کو میثاق معیشت کی ضرورت ہے جس میں قرضوں کے استعمال کی بات بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنے مالیاتی اہداف ضرور حاصل کرے گی۔انہوں نے کہاکہ جب ہم حکومت میں آئے تو بارہ ارب ڈالرز کی ادائیگیاں کرنا تھیں، بخوبی یہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم دو پارٹی نظام میں نئی تبدیلی لے کر آئے ہیں، ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح گیارہ فیصد سے بڑھاکر ساڑھے تیرہ فیصد پر لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ کے دور میں عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمت سے 32 ارب ڈالر کا فائدہ ن لیگ کی حکومت کو ہوا،ڈار نے پاکستان کی معیشت کو جھوٹے طریقے سے سنبھالا۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ کے دور میں ملک کی معیشت میں 12 کھرب کا اضافہ ہوا اور قرضوں کی مد 13 کھرب کا اضافہ ہوا،ایک کھرب کہاں گیا اس کا پتہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی پی کے دور میں 2 اعشاریہ 8 فیصد گروتھ ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا جی ڈی پی ٹیکس صرف گیارہ فیصد ہے بنگلہ دیش اور بھارت کا ہم سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی دیہی سندھ تک محدود ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کو اس سال 200 ارب روپے زیادہ ملیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی حیدر آباد اور سکھر کو حق دیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم موقع دے رہے ہیں تمام لوگ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کے پانچویں سال گروتھ چھ اعشاریہ پانچ ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ہم پانچ سال کے اندر ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے پراجیکٹس کو آگے لیکر چلیں گے پہلا پروجیکٹ بلوچستان میں بنا۔ انہوں نے کہاکہ سکھر حیدر آباد موٹروے اس سال شروع کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اتنی تنگ چادر ملی اس کے باوجود 900 ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ دیا۔انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ فوکس ہم نے فاٹا کو دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے سڑکوں پر نہیں بجلی پانی پر بھی کام کیا۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کے نظام کی ترسیل کے لیے 80 ارب روپے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ نے زراعت کے لیے 1 ارب رکھے تھے ہم نے پہلے سال زراعت کا بجٹ 13 ارب رکھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی تختیوں کیلئے نہیں ان لوگوں کے منصوبوں کے لیے بھی پیسے رکھے ہیں۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری تاشفین صفدر نے قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ بجٹ اس لیے بہترین ہے کیونکہ ہم معیشت کا استحکام چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں ہمارے ملک کا پیسہ ملک میں ہی رہے باہر نہ جائے۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کی اس حالت کے باوجود ایسا بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں اس ملک کی عوام حکومت کے ساتھ ملکر ملک کو اندھیروں سے نکالے۔ انہوں نے کہاکہ 50 لاکھ گھروں کا منصوبہ آج سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں اتنا اچھا منصوبہ نہیں دیا گیا۔

موضوعات:

loading...