نئے بلدیاتی نظام کے بل پر تکرار اور تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد ن لیگ کے تین اہم اراکین اسمبلی پر پابندی عائد کردی گئی

  جمعہ‬‮ 26 اپریل‬‮ 2019  |  18:59

لاہور(این این آئی)پنجاب اسمبلی میں نئے بلدیاتی نظام کے بل پر تکرار اور تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے مسلمذ لیگ (ن) کے تین اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل کرتے ہوئے رواں سیشن کے دوران ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کر دی،ملک محمد احمد خان کی سربراہی میں وفد کی ڈپٹی سپیکر سے ملاقات بھی بے سود رہی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ اسمبلی پروسیجرز کے اندر یہ لکھا ہے کہ 60روز کے اندر کمیٹی پروسیڈنگ کے اندر سے بل نکلے گا پھر تین روز میں کیوں بلڈوز کر رہے ہیں،ہمیں اس کی


پرواہ نہیں کہ سسٹم ہم نے چلانا ہے بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم تو چاہیں گے کہ یہ کل کا جاتا آج جائے۔گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں بلدیاتی نظام کے بل سے شروع ہونے والی بحث ہنگامہ آرائی میں بدل گئی۔لیگی رکن اسمبلی عظمی بخاری اور ڈپٹی اسپیکر میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد عظمی بخاری نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف نعرے لگوائے۔ہنگامہ آرائی کے دوران ن لیگی رکن پیر اشرف رسول نے بھی ریمارکس دئیے جس پر ڈپٹی سپیکر نے پیر اشرف رسول کی رکنیت معطل کر دی۔بعد ازاں اسمبلی کارروائی کی ویڈیوز دیکھ کر عظمیٰ زاہد بخاری اور عبد الرؤف کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔معطل ہونے والے تینوں اراکین رواں سیشن کے دوران ایوان میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں صورتحال پر غور کیا گیا۔ بعد ازاں ملک محمد احمد خان کی سربراہی میں وفد نے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری سے ملاقات کی تاہم یہ ملاقات بے سود رہی اور ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ایوان کے تقدس کے لئے یہ اقدام ضروری ہے۔ ملک محمد احمد خان نے پارتی کے دیگر اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلاول بھٹو کو بلانا ہے تو بلاول صاحبہ کر کے تضحیک کرنی ہے،ڈپٹی سپیکر ایوان میں بیٹھ کر ایک معزز رکن اسمبلی کو تضحیک آمیز لہجے میں مخاطب کریں گے، اگر اپوزیشن کی کوئی رکن اسمبلی اٹھ کر کسی نقطہ اعتراض پر بات کرنا چاہیں گی تو وہاں پر کہیں گے بیٹھ جائیں اوراس انداز سے بات کریں گے جیسے کسی تضحیک کرنی ہوتی ہے بے عزتی کرنا ہوتی ہے اور جملے کسیں گے،پارلیمنٹ کو چلانے کا یہ طریق کار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اپوزیشن ممبرز کی تضحیک در تضحیک کرتے چلے جائیں، یہ کیسا فلسفہ ہے جس کا عمران خان نے پوری قوم کو شکار کردیا ہے، آپ ہیٹ سپیچز اورپولرائزیشن کے مجرم ہیں، ان کی گفتگو سن لیں اس میں سوائے الزام، بد تہذیبی کے کچھ نہیں ہوتا اور صرف گالیاں دیتے ہیں، انہیں بات کرنے کا طریقہ نہیں،انہیں یہ نہیں معلوم کہ کسی کوڈائیلاگ میں کیسے انگیج کرنا ہے او ردلائل کیسے دینے ہیں۔ اگر آپ پروسیجر ز کے مطابق اسمبلی نہیں چلا سکتے، خواتین ممبرز کے ساتھ بات کرنے کی تمیز نہیں تو پھر آپ کو حکومت میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔آپ کے مجھ سے لاکھ اختلافا ت ہوں لیکن آپ کو بد تہذیبی کا اختیار کون دیتا ہے، آپ کو کون یہ حق دیتا ہے کہ آپ معزز ممبران کی تضحیک کریں او ران کو اس طرح سمجھیں کہ وہ آپ کے احکامات کے اس طرح سے پابند ہیں کہ آپ ان کی تضحیک کرتے چلے جائیں اور وہ آپ سے بات نہ کر سکیں۔یہ عمران ان نے اس ملک کو کیا دیا ہے یہ کیسی تبدیلی ہے جوگالم گلوچ اورلوگوں کی تضحیک سے شروع ہوتی ہے،جیسی یہ شریعت قائم کریں گے ان کے پیرو کار بھی سب کچھ یہیں کریں گے۔ آج تماشہ لگ چکا ہے،یہ جو تقریریں کرتے ہیں اس میں کوئی مواد نہیں ہوتا اس میں دلیل نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر گالی ہوتی ہے اس کے اندر دوسرے کی تضحیک کا پہلو ہوتا ہے۔ہم متنبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی پرواہ نہیں کہ سسٹم ہم نے چلانا ہے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس نے سسٹم کو کیسے چلانا ہے، ہم تو چاہیں گے کہ یہ کل کا جاتا آج جائے، گالیاں دینے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے،آپ نے تماشہ بنا دیا ہے،آپ کے ہاتھوں کسی عورت کی عزت محفوظ ہے اور نہ آپ کسی پارٹی کے لیڈر کو لیڈر سمجھتے ہیں۔ یہ کیسا نیا پاکستان بنا رہے ہیں،آپ نفرت انگیز مواد کا بیج بو رہے ہیں اوریہ سخت قابل ذمت ہے۔ اگر رولز آف پروسیجر زکے اندر یہ ہے 60روز کے اندر کمیٹی پروسیڈنگ کے اندر سے بل نکلے گا توپھر یہ تین روز میں کیوں بلڈوز کر رہے ہیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ ممبران اور اسٹیک ہولڈز سے ان کی رائے لے لو لیکن پورے نظام کو تہس نہس کرنے جارہے ہیں۔سکیورٹی آف ٹنیور پر کاری ضرب لگا رہے ہیں،ایک ادارے کے ذریعے بنائے گئے سسٹم کو ایک قانون کے ذریعے توڑ رہے،یہ کیسا نظام ہے یہ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا او رانہوں نے ہماری بات سنی نہیں۔ ہمارا شدید احتجاج ہے اور ہم ڈپٹی سپیکر کے رویے کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اگر آپ یہی رویہ اختیار کریں گے تو ایوان نہیں چل پائے گا اوریہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ یہ خود سوچیں۔ آپ جس طرح اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہیں اس کی مزید اجازت نہیں دے سکتے۔ میں صرف یہ کہوں گاکہ جو طریق کار اسمبلی میں اختیار کیا گیا وہ درست نہیں ہے۔ آپ پہلے آب پاک اتھارٹی کا بل لے کر آئے جو گورنر کی طرف سے فورس تھا،سپیکر نے بل کوروک کر رکھا لیکن حکومت کے دباؤ سے اسے آگے بھیج دیا گیا۔ اسمبلی میں بھیجنے سے پہلے پارلیمانی پارٹی میں آپ نے ڈسکس کرنا ہے،اگر آپ نے بے گھر شخص کووزیرا علیٰ بنایا تھا اوراس کو گھر دینا ہے تو اسمبلی نے بل پاس کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم کے مسند پر وہ شخص بیٹھا ہے جو قانون سے بے پہرہ ہے،اسے معلوم نہیں کہ لوگوں سے عزت سے بات کیسے کی جاتی ہے،ان کی تربیت بولتی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ویلیوز کیا ہیں۔ آپ کسی کے خلاف بھی الزام کے بنیاد پر طے کر چل پڑتے ہیں،کرپشن کرپشن کی بھیڑ چال میں ہر کسی کی پگڑی اچھالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون سازی کرنی ہے تو رولز آف پروسیجرز کے ساتھ چلنا ہوگا،رولز کو معطل کر کے قانون سازی نہیں ہو سکتی۔گورنر سرور کی خوشنودی کیلئے رولز کومعطل کر کے قانون سازی کی گئی، اسمبلی کو تماشہ اورربڑ سٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔ محبوس وزیر اعلیٰ اور بے بس اسمبلی ہے اور ہم ان تمام اقدامات کی مذمت کرتے ہیں او رخصوصاًوزیر اعظم کی رویے کی جو انہوں نے اختیار کر رکھا ہے اور ان کی جماعت بھی ان کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ملک میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ اپنے مخالف کو گالی دو اور جتنی بڑے گالی دو گے اتنے بڑے معتبر گردانے جاؤ گے۔

موضوعات:

loading...