منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

نیاپاکستان 9ماہ میں عالمی سطح پر بھارتی سفارتی پالیسی کا مقابلہ کرنے میں ناکام ، دنیا بھر میں 23 اہم ترین سفارتخانوں کا کیا حال ہے؟ افسوسناک انکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان عالمی سطح پر بھارتی سفارتی پالیسی کا مقابلہ کرنے میں ناکام ، موجودہ حکومت گزشتہ 9ماہ سے 23سفارت خانوں کے سربراہ تعینات نہ کر سکی ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنے من پسند افسران کی تلاش کے باعث فیصلہ سست روی کا شکارہے، بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی تنہا کرنے کی پالیسی اپنائی جبکہ حال ہی میں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے بعد بھارت نے جارحانہ انداز میں عالمی سطح پر پاکستان کے مخالف سفارتی محاذ تیز کردیا

جبکہ اس کے برعکس پاکستان عالمی سطح پر سفارتکاروں کی کمی کے باعث ہمسایہ ملک کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق 23 اہم مشنز میں سفارتخانوں کے سربراہ کی تعیناتی نہیں کی جاسکی۔ موجودہ حکومت 9 ماہ کے بعد بھی جاپان، فرینکفرٹ، بنگلہ دیش، نیویارک، بھارت سمیت 23 ممالک میں موجودہ حکومت سفارت خانوں کے سربراہ کا تعین نہیں کرسکی۔ ملائیشیا، بنگلہ دیش، پرتگال، سنگاپور، ترکمانستان ، تاجکستان، الجرئیریا، سوڈان ، جاپان، زمبابوے ، ایتھوپیا، کینیا، یونان اور جاپان شامل ہیں۔ جبکہ نیویارک اور فرینکفرٹ میں قونصل جنرل کی تعینات کو فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ چین میں تعینات پاکستانی سفیر کو دو مرتبہ مدت ملازمت میں توسیع دی جاچکی ہے جبکہ حال ہی میں سہیل محمود کو سیکرٹری خارجہ تعینات کیے جانے کے بعد بھارت میں بھی پاکستانی ہائی کمشنر کی پوزیشن خالی ہے۔اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بیرونی ممالک میں اپنے من پسند افراد کو تعینات کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وزارت خارجہ کی جانب سے پیش کردہ سفارشات انکی میز پر انتظار کررہی ہیں۔اہم سفارتی ذرائع کے مطابق سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کو چین تعینات کرنے کی سفارت کی گئی ہے، اس کے علاوہ سپیشل سیکرٹری امتیاز علی کو جاپان ، موجودہ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کو بنگلہ دیش اور ڈائریکٹر جنرل عطامنیم شاہد کو افریقہ میں تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…