خیسور کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے،عمران اپنی سیاسی غلطیوں سے جلد رخصتی کے قریب ہیں،اسفندیارولی خان نے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کردیا

  ہفتہ‬‮ 26 جنوری‬‮ 2019  |  19:30

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کپتان کی سیاسی کشتی میں سوراخ ہو چکے ہیں اور اب انہیں ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ، اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت گرانے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے،لاپتہ افراد کو اٹھانے والوں نے جو کرنا تھا وہ کر لیا ،اب ان لاپتہ افراد کو سامنے لایا جائے اور ان کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے،افغان حکومت کی شرکت کوافغان امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز مذاکراتی عمل میں افغان حکومت کی شرکت کی اہمیت جان رکھیں،ان


خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، افغان قنصل جنرل کے نمائندے محمد ہاشم نیازی نے تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت سمیت عہدیداروں اور کارکنوں کی کثیر تعداد اس موقع پر موجود تھی، اسفندیار ولی خان نے خان عبدالولی خان کی زندگی اور جدوجہد پر روشنی ڈالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی و جمہوریت کی بقا کیلئے ولی خان کی خدمات تاریخ کا انمٹ باب ہیں ، انہوں نے کہا کہ چالیس سال قبل ہمارے اکابرین نے جسے جہاد نہیں فساد کہا تھا آج ان کی باتوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے رد افساد شرع کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ آج تک حمو دالرحمان کمیشن کی رپورٹ سامنے نہیں آئی ،یہ ملک ٹوٹا لیکن کسی نے نہ پوچھا، چالیس برس سے پختونوں کا اتنا خون بہا جتنا دوسری جنگ عظیم میں بھی نہیں بہا ہو گا،یہ خون بہا اب بند ہونا چاہئے اور ایسا پائیدار امن قائم ہو جس سے ہماری آئندہ والی نسلیں محفوظ رہ سکیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ امن مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہیں اور اہم اس کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں ، انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شرکت کے بغیر مذاکراتی عمل کی کامیابی ممکن نہیں،خطے میں پائیدار امن کیلئے پرامن افغانستان اور پر امن پاکستان لازم و ملزوم ہیں،فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے میں انضمام کے بعد سے اب تک وہاں کوئی نیا قانون نافذ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے قبائلی عوام تذبذب کا شکار ہیں اور معاملے میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کو پر امن بنائے بغیر پاکستان اور افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی گمشدگی کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور ان کے لواحقین آج تک بے خبر ہیں کہ ان کے پیارے زندہ بھی ہیں یا مر چکے ہیں ،جنہیں غائب کر دیا گیا ہے انہیں قوم کے سامنے لایا جائے ، اسفندیار ولی خان نے خیسور واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دلخراش واقعہ ہے لیکن اے این پی کی قیادت کو وہاں جانے نہیں دیا جا رہا تاکہ حقائق سامنے آ سکیں ، انہوں نے کہا کہ ساہیوال واقعے کی کڑیاں راؤ انوار معاملے سے جا ملتی ہیں ،اگر نقیب اللہ سمیت چار سو سے زائد انسانوں کے قاتل کو پھانسی پر لٹکایا جاتا تو ساہیوال کا واقعہ پیش نہ آتا،انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ جس طرح اس واقعے کو ہینڈل کیا جا رہا ہےدکھائی ایسا دے رہا ہے کہ ہیرا پھیری کر کے اس پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،آج وقت آ چکا ہے کہ پوری قوم قاتل کو قاتل ، ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہنے کیلئے آواز اٹھائے ،سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہالیکشن سے پہلے سبز باغ دکھانے والا کپتان جب سے اقتدار میں آیاہے ایک دن بھی بھیک مانگے بغیر نہیں گزرا ،منی بجٹ پر خود نمائی کرنے والوں نے اسی روز بجلی مہنگی کر دی،پاکستانی روپے کو زمین بوس کرنے سے ملک کا قرضہ آسمان تک جا پہنچا ہے ،عمران نیازی نے بہتر سے بہتر بدتمیز اور گالیاں دینے والوں کو کیبنٹ میں بھرتی کر رکھا ہے جس سے ان کی شائستگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،قوم کو انڈوں اور مرغیوں پر ٹرخا کر خود باجی سلائی مشینوں سے اربوں ڈالر کی جائیدادوں کی مالک بن گئیں لیکن تحقیقات کرنے والوں نے خاموشی کا لبادہ اوڑھے اپنی توپوں کا رخ اپوزیشن ارکان کی طرف موڑ رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ جس کی والدہ علاج کیلئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مر گئی وہ بھائی بہین آج اربوؓ ڈالرز کے مالک ہیں ، انہوں نے کہا کہ بنی گالہ سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والا لوگوں کو ملک بھر میں تجاوزات کے نام پر بے روزگار کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کیلئے جو کوششیں کی جا رہی ہیں اے این پی اس کے خلاف سڑکوں پر نکلے گی ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اور پیپلزپارٹی کی حکومت میں اس ترمیم پر 5ماہ تک ایسی کمیٹی کام کرتی رہی جس میں اس وقت کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی،اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ ملک میں احتساب کی آڑ میں انتقام کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے قوم اس سے باخبر ہے،سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کیلئے احتساب کا سہارا لیا گیا جبکہ مسلط وزیر اعظم کی سیاسی چھتری تلے موجود نصف سے زیادہ لوگ کرپٹ ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ مجھ پر ملائشیا اور دبئی میں جائیدادیں بنانے کا الزام لگایا میں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ جائیدادیں سامنے لائیں تو آدھی میں انہیں دے دوں گا،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو دشمن کی ضرورت نہیں وہ اپنی غلطیوں سے خود زمین میں دھنسنے جا رہی ہے۔

موضوعات:

loading...