پنجاب میں پیپلزپارٹی کا جنازہ کیسے نکلے؟زرداری کے کارنامے سامنے آگئے بھٹو اور بینظیر کے دیرینہ ساتھیوں کو کیسےسرعام ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے؟ حامد میر اور مظہر برلاس کے حیران کن انکشافات

  منگل‬‮ 8 جنوری‬‮ 2019  |  14:41

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلزپارٹی کے رہنما ملک حاکمین خان اس دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں ، ملک حاکمین خان پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات و ہائوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ رہ چکے ہیں ، معروف صحافی حامد میر نے گزشتہ روز شائع ہونیوالے اپنے کالم میں ملک حاکمین خان کا ایک کارہائے نمایاں سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ یہ مالک حاکمین خان ہی تھے جو اصغر خان کیس کےروح رواں اور پہلے گواہ بنے۔ حامد میر لکھتے ہیں کہ ملک صاحب تین دفعہ پنجاب اسمبلی اور ایک دفعہ سینیٹ کے رکن رہے۔ اُنہیں ایک ایسا اعزاز حاصل ہے جو آج


بہت کم سیاستدانوں کو حاصل ہے۔ انہوں نے جس پارٹی سے اپنی سیاست شروع کی، مرتے دم تک اس پارٹی کو نہیں چھوڑا۔ ملک صاحب کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں کوٹ لکھپت جیل کے اُس سیل میں رکھا گیا جہاں ذوالفقار علی بھٹو بھی قید تھے۔ ایک دن جیل حکام نے ملک صاحب کو جنرل ضیاء کا پیغام دیا کہ آپ کو رہائی بھی دی جائے گی اور وزارت والی گاڑی بھی، بس آپ کو یہ کہنا ہے کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں فائرنگ بھٹو صاحب کے حکم پر کرائی گئی تھی۔ ملک صاحب نے انکار کر دیا۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ملک صاحب کے ایئر مارشل اصغر خان سے بہت قریبی تعلقات تھے۔ یہ تعلقات تحریک بحالیٔ جمہوریت (ایم آر ڈی) میں بنے تھے۔ 1990ء کے انتخابات سے قبل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے ملک حاکمین سے رابطہ کیا اور انہیں پیسوں کے عوض پیپلز پارٹی چھوڑنے کا لالچ دیا۔ ملک صاحب نے یہ بات محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی بتائی اور اصغر خان کو بھی بتائی۔ 1990ء میں انہیں ہروا دیا گیا تو انہوں نے عزم کیا کہ وہ اس دھاندلی کو بے نقاب کریں گے۔ کچھ سال کے بعد حالات نے پلٹا کھایا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو ملک صاحب نے اُن کا اصغر خان سےرابطہ کرایا اور پھر اصغر خان نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی جو اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے لیکن عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ عملدرآمد ہو یا نہ ہو لیکن اصغر خان اور ملک حاکمین خان اپنا کام کر چکے۔ آج پاکستان میں کرپشن کے خلاف بہت شور مچایا جاتا ہے۔ ملک صاحب نے پنجاب کے وزیر ہائوسنگ کی حیثیت سےبہت سی کالونیاں بنائیں اور غریبوں کو پلاٹ دیئے اُن پر کبھی کرپشن کا الزام نہ لگا لیکن جب اُنہوں نے اسد درانی سے پیسے لے کر اپنی وفا داری بدلنے سے انکار کیا تو انہیں الیکشن ہروا دیا گیا۔ خود سوچئے کہ ملک حاکمین خان جیسے ایماندار لوگوں کو سیاست سے کس نے اور کیسے نکالا؟ آج ہماری سیاست میں جو خرابیاں ہیں اس کی تمام تر ذمہ داری خفیہ اداروں اور فوجی آمروں پر ڈال کرہم سیاستدانوں، عدلیہ اور میڈیا کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ سب نے غلطیاں کیں اور ملک حاکمین خان جیسا صاف ستھرا سیاستدان ہم سب کی غلطیوں کا چلتا پھرتا ثبوت تھا، جس کے ساتھ فوجی آمروں نے ظلم کیا، عدلیہ نے انصاف نہ دیا اور جو تمام عمر ایک ایسے گناہ کی سزا بھگتتا رہا جو اُس نے کیا ہی نہ تھا لیکن ایک نیوز ایڈیٹر نے یہ گناہ اُن کے کھاتے میں ڈالا۔ ہم صحافیوں کو کسی کےبارے میں بولتے یا لکھتے ہوئے محتاط رہنا چاہئے۔یہاں پر ملک حاکمین کے حوالے سے مظہر برلاس نے بھی آج اپنے کالم میں حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک حاکمین خان کی سیاست میں درجہ بدرجہ گمنامی کی وجہ آصف زرداری تھے جو کہ انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے مظہر برلاس نے انکشاف کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ اتوار کے دن اٹک میں تھا۔اپنے پیارے مرحوم دوست ملک حاکمین خان کی تعزیت کیلئے شین باغ گیا، ملک صاحب کے فرزند شاہان ملک سمیت ان کے خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات ہوئی۔سرمد خان کے علاوہ ملک صاحب کے پوتے ملک شہ زور خان بھی وہیں تھے، جونہی شاہان ملک ،شیخ آفتاب اور مہدی شاہ کو الوداع کہنے کیلئے اٹھے تو معظم علی خان میرے پاس آ گیا، پیپلز پارٹی کا پرانا ورکر، اس نےآٹھ سال کی عمر سے پیپلز پارٹی کے ساتھ خود کو وابستہ کر لیا تھا۔ انہوں نے ایک داستان سنائی تو میں ہکا بکا رہ گیا۔یہ پچھلے برس کا قصہ ہے جب اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کا جلسہ ہوا، زرداری صاحب نے اس جلسے میں دھمال ڈالی تھی ۔ملک حاکمین خان بھی ایک بڑے قافلے کے ساتھ وہاں پہنچے۔جب ملک حاکمین خان نے اسٹیج کا رخ کیا تو جواب آیا آپ کا نام نہیں ہے، منتظمین کو بتایا گیا کہیہ شخص پیپلز پارٹی کا بنیادی رکن ہے، 1967ءسے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے، جیلیں کاٹ چکا ہے، بھٹو صاحب نے اسے وزیر بنایا تھا، پچاس سال سے زائد پارٹی کے لئے خدمات ہیں، اب پیپلز پارٹی کی جھولی میں اتنا پرانا رہنما کوئی نہیں۔ پھر جواب آیا کہ ملک حاکمین خان کا نام اسٹیج پر بیٹھنے والوں میں نہیں۔دکھی داستان بیان کرنے والا معظم علی خان لمحے بھر کے لئے رک گیا اورپھر بولا:اس دن ہمارے دل ٹوٹ گئے تھے کہ جس شخص نے بھٹو اور پھر بےنظیر بھٹو کی قبرسے وفا کی، جو بلاول سے پیار کرتا ہے اگر اس شخص کی یہ حالت ہے تو ہماری کیا ہو گی، ہم پارٹی میں تو رہے مگر ہمارے دل ٹوٹ گئے، اچاٹ ہوگئے‘‘ شاہان ملک لوٹا تو میں نے اس سے یہ سب کچھ پوچھا، اس نے ایک اور داستان سنا ڈالی، کہنے لگا ’’پیپلز پارٹی کے چوہدری منظورمیرے پاس آئے تو میں نے ان سے دو سوال کئے، کیا بھٹو صاحب وژنری لیڈر تھے اور کیا وہ مردم شناس تھے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں بالکل، اس جواب کے بعد میں نے چوہدری منظور سے پوچھا تو یہ بتائیے کہ جس شخص کو بھٹو صاحب نے پانچ وزارتیں دے رکھی تھیں، آپ لوگ اسے کیوں نہ پہچان سکے، کیوں نہ اس کی قدر کر سکے؟ اس سوال کے جواب میں چوہدری منظور کےچہرے پر پریشانی آگئی، ان کے پاس خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہیں تھا‘‘۔خواتین و حضرات! یہ ہے آج کی پیپلز پارٹی، جس پنجاب نے بھٹو کو محبت دی تھی، اقتدار میں بھی بھٹو صاحب پنجاب ہی کے باعث آئے تھے، آج وہاں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو سینکڑوں کے حساب سے ووٹ ملتے ہیں، اب پارٹی پر وفاداروں کا راج نہیں، وفادار قبروں میں چلے گئے، جو چند ایک ہیں انہیں ’’نکرے‘‘ لگا دیا گیا ہے، کیا کیا جائے پیپلز پارٹی وفا کی بجائے دولت کی قدر دان بن گئی ہے، یہی چلن اسے لے ڈوبا ہے،

موضوعات:

loading...