’’یہ وزیر فوری عدالت میں حاضر ہو‘‘ چیف جسٹس نے عمران خان کی کابینہ کے کس رکن کو بلالیا اور کیوں؟بڑی خبر آگئی

  جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018  |  10:47

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسز کے خلاف ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کو فوری طور پر عدالت طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی بنچ نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر ہوشربا ٹیکسز کے خلاف ازخودنوٹسکیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کو فوری طور پر طلب کرلیا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے پاکستان سٹیٹ آئل انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے


ایم ڈی پی ایس او کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی ایس او سربراہ کہاں ہیں جو 37 لاکھ روپے ماہانہ لیتے ہیں۔ پی ایس او کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او ریٹائر ہوچکے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایم ڈی صاحب پیسہ کھا کر جاچکے ہیں؟۔چیف جسٹس نے پی ایس او کی جانب سے نجی وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے پی ایس او نے نجی وکیل کی خدمات کیوں حاصل کیں ؟ سرکاری ادارے نجی وکیل نہیں کرسکتے جسٹس فائز عیسیٰ کے عدالتی فیصلے میں قانون واضح رہے۔ پی ایس او انتظامیہ نے ادارہ تباہ کردیا کیا وکلا غلط کام کو درست کہنے آتے ہیں ؟۔چیف جسٹس کااپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ پی ایس او تو کہتا ہے کوئی اقربا پروری نہیں ہوئی ، کیا وہاںسب دودھ کے دھلے اور فرشتے ہیں،جو کچھ ملک کے ساتھ ہورہا ہے کیا وہ بالکل درست ہے، کیوں نہ معاملہ نیب کو بھجوادیں؟۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ پیٹرول کے مقابلے میں ڈیزل کی قیمت کو کم کرکے مہنگائی کے توڑ کیلئے اقدامات کریں گے،اپنی مرضی کا تھانیدار، کمشنر، ڈپٹی کمشنر یا پٹواری لگاکر اور حکومت چلانے کی بجائے اہل اور میرٹ پر افسران کو تعینات کرکے ان کے ساتھ کام کریں گے، قومی اسمبلی کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر وزیراعظم عمران خان اور حلقہ کے لوگوں نے مجھے فری ہینڈ دے دیا ہے کہ جس کو چاہوں الیکشن لڑا سکتا ہوںنواز شریف سمیت کرپٹ لوگوں پر کسی قسم کا این آر او نہیں ہو رہا ہے، جس نےکرپشن کی ہے اسے سزا بھگتنا ہوگی، وہ گزشتہ روز اپنی وزارت میں آن لائن کو انٹرویو دے رہے تھے، گزشتہ دور حکومت میں قطر کے ساتھ ایل این جی کے معاہدے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی یہ معاہدہ دیکھا نہیں ہے اس کو دیکھنے کے بعد اس پر قانونی اور وزارت کے ماہرین کا نکتہ نظرلے کر فیصلہ کریں گے کہ ملک کے مفاد میں کیا ہے اگرملک کے مفاد میں ہوا تو اس کو پبلک بھی کریں گے، نیب اور ایف آئی اے کو اسکی تحقیقات کے فرائض بھی سونپیں گے، ڈیزل اور ایل پی جی کے حوالے سے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر رپورٹس مانگ لی ہیں جنہیں دیکھ کر بات کر سکوں گا، جبکہ ڈیزل کے حوالے سے انہوں نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، بنگلادیش اورسری لنکا وغیرہ میں پیٹرول کے مقابلے میں ڈیزل سستا ہے چونکہ یہ ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز، بڑی بسوں میں جو غریب کی سواری میں استعمال ہوتا ہے اس لیے ہماری بھی کوشش ہو گی کہ ڈیزل کی قیمتوں کو کم کریں، ایک ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات عالمی منڈی کی قیمتوں سے مشروط ہیں اگر وہاں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں بھی اضافہ کرنا پڑے گا،صدارتی الیکشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپوزیشن بالکل بیٹھ جائے گی، اور آہستہ آہستہ ٹھنڈے ہو جائیں گے اور ہمارا صدارتی امیدوار عارف علوی بآسانی صدارتی الیکشن میں کامیاب ہو گا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے سلطان سکندر راجہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے ایس ایچ او پٹواری اور کمشنر وغیرہ تعینات کرکے ادارے تباہ کئے گئے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ ہم نے غلط کام کرنا بے نہ کرنے دینا ہے۔

موضوعات:

loading...