آشیانہ ہاؤسنگ سکیم 2 ارب 84 کروڑ کی دیوالیہ نکلی‘ افسران مراعات میں اضافہ کرکے بڑی رقم لے اُڑے،شہباز شریف نے پلاٹوں کا لالچ دے کر عوام کوکروڑوں کا نقصان پہنچایا، افسوسناک انکشافات

  جمعہ‬‮ 10 اگست‬‮ 2018  |  23:33

اسلام آباد (آن لائن) شہباز شریف کی سرپرستی میں احد چیمہ و دیگر کی کرپشن کے باعث آشیانہ ہاؤسنگ سکیم 2 ارب 84 کروڑ 68 لاکھ کا قرضہ واپس نہ کرنے پر دیوالیہ قرار دے دی گئی ہے جبکہ کمپنی کے افسران اپنی سالانہ تنخواہیں اور مراعات 2 کروڑ سے برھا کر 4 کروڑ دس لاکھ تک لے گئے ہیں، افسران کی کرپشن اور بدعنوانیوں کے باعث کمپنی کا دیوالیہ نکل گیا ہے جبکہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ حاصل کرنے والے شہریوں کے 85 کروڑ روپے بھی پھنس گئے ہیں۔ابتداء مین منافع ظاہر کرکے کمپنی انتظامیہ کی لوٹ مار

کے بعد اب سالانہ چار کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔ نیب حکام کی طرف سے جاری تحقیقات میں خوفناک کرپشن کی داستانیں سامنے آئی ہیں اس کرپشن سکینڈل میں ملک کے بڑے بڑے سیاسی لیڈر ان کے علاوہ احد چیمہ و دیگر افسران کو ملوث قرار دیا گیا ہے جن کے خلاف نیب حکام تحقیقات کر رہے ہیں اور احتساب عدالت میں لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کیلئے مقدمات قائم کر رکھے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق شہباز شریف نے پنجاب کے غریب عوام کو سستے داموں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیلئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی لاہور کے نام پر 2010 ء میں سیکیورٹیزایکسچینج کمیشن میں رجسٹرڈ کرائی اس کمپنی کے تحت صوبے کے تین شہروں لاہور ‘ فیصل آباد اور ساہیوال میں آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر کام کا آغاز کیا گیا ۔ دستاویزات کے مطابق 2014 ء سے 2016 ء کے دو سالہ دورانیہ کے دوران افسران کی کرپشن کے باعث سات کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی ہدایت پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے زمینوں کی خریداری کیلئے 2 ارب 84 کروڑ 68 لاکھ روپے کا قرضہ حاصل کیا گیا تاکہ پلاٹس کی ڈویلپمنٹ کرکے عوام کو دیئے جائیں۔ شہباز شریف نے کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ذریعے پنجاب کی غریب عوام سے پلاٹوں کے نام پر 84 کروڑ روپے اکٹھے کرلئے تاہم پلاٹ کسی ایک شہری کو بھی نصیب نہ ہوا۔دکھ کی بات یہ ہے کہ اربوں روپے کی خریدی گئی زمین ابھی تک آشیانہ ہاؤسنگ کے نام پر منتقل بھی نہیں کی گئی ہے جبکہ اربوں روپے کی ادائیگیاں بھی کردی گئی ہیں۔ دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکیدار چوہدری لطیف اینڈ سنز پر نوازشات کی بارش کی گئی اور 49 لاکھ روپے کا ٹیکس بھی وصول نہیں کیا گیا۔ دستاویزات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ہاؤسنگ سکیم کیلئے بہاولپور ‘ قصور ‘ چنیوٹ ‘ سرگودھا ‘ جہلم میں بھی عوام سے زمینیں خریدی گئی ہیں اور اس خریداری میں بھی بھاری مالی بدعنوانیاں کی گئی ہیں اس کرپشن سکینڈل کے دیگر ملزمان میں اعلیٰ افسر اسد اللہ فیض جو کہ اب کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں ‘ امتیاز احمد چوہدری اور شفیق اعجاز ہیں ۔نیب نے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز قادر خان ‘ عبدالرؤف مغل ایم پی اے ‘ مس ظحہ نون ایم پی اے ‘ کوکا کولا کے مالک اعلی اکبر ‘ عارف سعیڈ،فاروق کالرا اور سعد محمود خان کے علاوہ سیکرٹری خزانہ پلاننگ سے بھی پوچھ کچھ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں