اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عمران خان اورخیبرپختونخوا حکومت کے امن و امان کے حوالے سے دعوئوں کی قلعی کھل گئی۔۔بھتہ وصولی میں پشاور ، کراچی کے برابر تاجروں نے شہر رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا

datetime 28  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)’’گو عمران گو‘‘پشاور کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے، شدید نعرے بازی، پشاور شہر کو رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پشاور آمد کے موقع پر پشاور کے تاجر سراپا احتجاج بن گئے اور سڑکوں پر نکل آئے۔ پشاور کی تاجر برادری نے عمران خان کی آمد کے موقع پر ان کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے

’’گو عمران گو‘‘کے نعرے لگاتے ہوئے پشاور شہر کو رینجرز کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اندرون شہر پشاور کی تاریخی عمارات کا دورہ کرنے کیلئے جب پشاور شہر پہنچے تو اس موقع پر بھتہ خوری اور عدم تحفظ کا شکار پشاور کے تاجر سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز پکڑ رکھے تھے اور ’’گو عمران گو‘‘کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ حکومت تاجروں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس لئے پشاور شہر کو رینجرز کے حوالے کیا جائے۔ تاجروں کے احتجاج کے باعث عمران خان اندرون شہر پشاور کا دورہ بھی نہیں کر سکے۔پشاور کے تاجر نعرے لگاتے ہوئے عمران خان کے دورے کے مقام کے نزدیک پہنچے،اس موقع پر تاجر نعرےلگا رہے تھے کہ ’’ہمیں تحفظ دو۔۔یا حکومت چھوڑ دو‘‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امن و امان کے حوالے سے مختلف مواقعوں پر خیبرپختونخواہ کے عوام عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ حکومت اور عمران خان صوبے میں امن و امان کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کرتے رہے ہیں۔ عمران خان مختلف مواقعوں پر اس بات کا متعدد بار اظہار کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت کی حکومت نے امن و امان کے حوالے سے

صورتحال کو اپنے اقدامات سے بہتر کیا ہے اور صوبے میں امان و امان کی صورتحال پہلے کی نسبت کہیں بہتر ہے مگرگزشتہ ہفتے جمعرات کے روز تاجروں کی جانب سے احتجاج نے خیبرپختونخواہ حکومت اور عمران خان کے امان و امان کے حوالے سے دعوئوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ پشاور شہر کے تاجروں نے بھتہ وصولی کا انکشاف کرتے ہوئے عدم تحفظ پر عمران خان کی آمد کے موقع پر شدید احتجاج کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…