جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

زینب کے قاتل عمران کا پیر جس کے دم کرنے کے بعد وہ کمسن بچیوں کو زیادتی کانشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیتا تھا اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے، خبر نے سب کو چونکا دیا

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی زینب کا قاتل عمران اس وقت قانون کے شکنجے میں ہے اور اس سے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ گرفتاری کے بعد قاتل عمران نے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا ایک پیر ہے جو اس پر دم کرتا تھا جس کے بعد اس میں جن آجاتا تھا جو اسے کم سن بچیوں کو اغوا کے بعد زیادتی اورپھر قتل کرنے پر مجبور کرتا تھا۔

پولیس نے عمران کے انکشاف کے بعد اس کے پیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ زینب کے قاتل عمران کی نشاندی پر پولیس نے جس پیر کو گرفتار کیا اس کا نام قاری سہیل احمد ہے۔پولیس نے مقدمے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر قاری سہیل احمد سمیت مزید چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ڈی پی او قصور زاہد مروت کے ترجمان محمد ساجد نے مقامی میڈیا کو ایک وٹس ایپ میسج جاری کیا ہے جس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ قاری سہیل سمیت کوئی بھی مشتبہ فرد پولیس کی تحویل میں نہیں ۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے رات گئے قاری سہیل احمد کو رہا کر دیا ہے جس نے رہائی کے بعد مقامی میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے دوران حراست اس کے موبائل فون ڈیٹا اور کال ریکارڈ کا معائنہ کیا اور قاتل عمران سے ان کے تعلقات بارے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔واضح رہے کہ زینب کے والد محمد امین انصاری نے گزشتہ روز اپنے وکیل آفتاب احمد باجوہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پولیس فوری طور پر مشتبہ قرار دئیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کرے ورنہ وہ جمعہ کے روز احتجاجی دھرنا دیں گے۔ مقامی میڈیا نمائندوں کے مطابق ڈی پی او کے ترجمان کی جانب سے وٹس ایپ پر جاری کیا گیا میسج بھی اسی تناظر میں جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کرنا تھاکہ پولیس نے تمام مشتبہ افرادکو رہا کر دیا ہے اور اس کے پاس کسی مشتبہ فرد کی اب تحویل باقی نہیں رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…