عمران خان کے قریبی نہیں چاہتے تھے کہ یاسمین راشدلاہور کا ضمنی الیکشن جیتیں کیونکہ۔۔کپتان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بج اٹھی

  منگل‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2017  |  13:42

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف دھڑے بندی کا شکار، عام انتخابات میں اگر کامیابی چاہئے تو عمران خان کو پارٹی میں ڈسپلن لانا ہو گا، نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں معروف صحافی عارف حمید بھٹی اور سمیع ابراہیم کے درمیان ہونے والے سوال جواب نے پی ٹی آئی کی اندرونی کہانی طشت ازبام کر دی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی اے آر وائی نیوزکے پروگرام میں معروف صحافی سمیع ابراہیم نے جب عارف حمید بھٹی سے سوال پوچھا کہ سننے میں آرہا ہے کہ ن لیگ میں جیسے اندرونی طور پر سازشیں ہورہی ہیں


اسی طرح حلقہ این اے 120میں تحریک انصاف بھی اندرونی سازش کی وجہ سے الیکشن ہاری، اگر یاسمین راشد حلقہ این اے 120میں الیکشن میں کامیاب ہو جاتیں تو پنجاب اور لاہور کی آنیوالی سیاست میں ان کا جو مقام ہوتا بہت سارے ایسے لوگ جو عمران خان کے نہایت قریب ہیں مگر ماضی میں وہ ن لیگ کے امیدواروں کو نہیں ہرا سکے تو ان کی سیاست اور اہمیت میں کمی واقع ہوتی اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے تو اس پر عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پی ٹی آئی میں انتشار بہت زیادہ ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف میں ایک عمران خان کے کزن ہیں ان کا گروپ بنا ہوا ہے، دو چار کچھ اور لوگ ہیں، لیکن بات کرنے سے پہلے لوگ اعدادوشمار دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ حلقہ این اے 120میں ن لیگ پہلے 40ہزار سے جیتی اور اب 13ہزار سے جیتی ہے ۔ بلال یاسین کا حلقہ پہلے بھی مضبوط تھا اور اب بھی زیادہ مضبوط ہے، عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں انتشار پر اگر عمران خان نے بروقت قابو نہ پایا تو اس کا نقصان عام انتخابات 2018میں انہیں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ عمران خان کو دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی پارٹی میں بھی ڈسپلن لانا ہو گا۔ اس حوالے سے عارف حمید بھٹی اور سمیع ابراہیم نے کیا کہا۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

موضوعات:

loading...