جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نائن الیون کے بعد بھارت امریکہ کو اڈے دینے کے لئے تیار تھا، پرویز مشرف

datetime 11  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان پر حملے کی تنہا مخالفت نہیں کر سکتے تھے جبکہ اڈے دینا پاکستان کی مجبوری تھی کیونکہ بھارت امریکہ کو اڈے دینے کےلئے تیار تھا جو کہ پاکستان کے لئے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ ) پرویز مشرف نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نائن الیون واقعات کے بعد پاکستان افغانستان پر حملے کی تنہا مخالفت نہیں کر سکتا تھا ، اس وقت پاکستان عالمی طور پر تنہائی کا شکار تھا، جبکہ صورتحال یہ تھی کہ بھارت امریکہ کو اڈے دینے لئے تیار تھا جس کا براہ راست نقصان پاکستان کی قومی سلامتی پر ہونا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ دور میں معیشت انتہائی دگرگوں حالت میں ہے جبکہ ان کے دور حکومت میں معیشت مستحکم تھی اور ملک ترقی کی جانب گامزن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 مئی کے واقعات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ الطاف حسین کے حالیہ  بیانات کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب پارٹی چھوڑ دینی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین کا پاکستان کی سیاست میں اب کوئی مستقبل نہیں ہے

انہوں نے مزید کہا کہ نائن الیون کی صورتحال کے بعد جو بھی فیصلے کئے وہ ملک کے مفاد میں کئے اور درست فیصلے کئے۔ اپنے دور میں واچپائی اور منموہن کے سامنے مسئلہ کشمیر کو صحیح طریقے سے اٹھایا اور اس وقت مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جبکہ کالا باغ ڈیم کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پہلے تین سال میں وہ ڈیم بنا سکتے تھے مگر بعد میں حکومت بن جانے کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکے ، حالانکہ انہوں نے حیدرآباد اور سندھ کے دورے بھی اس مقصد کے لئے فضا سازگار بنانے کی خاطر کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا امریکی وزیر خارجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کا کہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ہر معاملے میں دخل اندازی نہیں کرتا این آر او کے لئے بھی امریکہ کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بینظیر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں پہلے واپس آ گئی تھیں جس کےبعد نواز شریف کی واپسی کے لئے بھی دباؤ بڑھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سابق وزیر داخلہ نے اسلحے کے بے شمار لائسنس جاری کئے ، تمام جماعتوں کے مسلح ونگز موجود ہیں۔جن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی خراب پالیسیاں ملک کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہیں ۔ میں نے تین بار بلدیاتی انتخابات کروائے ، اور اصلاحات بھی متعارف کروائیں جبکہ موجودہ حکومت نے بلدیاتی نظام کو ہی سرے سے ختم کر دیا اور کئی سال بعد انتہائی پریشر پرایک بار الیکشن کروا لیا لیکن اس میں بھی انہوں نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…