جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اسد عمر کو فوری رہا کرنے کا حکم

datetime 24  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر و رہنما پاکستان تحریک انصاف اسد عمر کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔اسد عمر کے کیسز کی تفصیلات فراہمی اور گرفتاری کے خلاف کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی ،ان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ وہ تو آپ کو نہیں چھوڑیں گے، جب تک آپ پریس کانفرنس نہیں کریں گے ۔

اس پر بابر اعوان نے کہا کہ پریس کانفرنس تو ہم نہیں کریں گے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ہدایت دی کہ اسد عمر کے دو ٹوئٹس ہیں، وہ تو فوراً ڈیلیٹ کروائیں، اس پر بابر اعوان نے کہا کہ اگرچہ یہ خبر ہے لیکن ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔بابر اعوان نے استدعا کی کہ عدالت اسد عمر کو اس عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ اسد عمر کے خلاف کیسز میرے سامنے ہیں، اگر میں کوئی آرڈر کر دوں تو کل کیا ہوگا مجھے نہیں معلوم۔بابراعوان نے کہا کہ ہم نے کیسز کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست دی تھی، ہم چاہتے ہمیں دو دن دے دیں تاکہ اگر ، اگر رہائی ہو تو ہم متعلقہ عدالت میں سرینڈر کر دیں، جو کریمنل کیس درج ہیں ہم ان میں حفاظتی ضمانت چاہتے ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ہم نے شاہ محمود قریشی کو بھی بیان حلفی جمع کرانے کا کہا تھا، اس میں یہی تھا کہ 144 سیکشن کی خلاف ورزی نہ ہو۔

بابر اعوان نے کہا کہ اس سے قبل لوگ عدالتوں کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں، احتجاج ہمارا حق ہے، دلائل سننے کے بعد عدالت نے اسد عمر کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار دے دی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اسد عمر بیان حلفی جمع کروائیں، اگر بیان حلفی کی خلاف ورزی ہوئی تو پھر سمجھیں کہ سیاسی کیریئر بھول جائیں۔

ٹوئٹس بھی ڈیلیٹ کریں۔خیال ہے کہ 10 مئی کو سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد رہنماؤں کی گرفتاری کے جاری سلسلے میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔اسد عمر کو انسداد دہشت گردی فورس نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 16 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…