آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک مشین سے ہوں گے ، شیخ رشید

  بدھ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2021  |  15:52

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات اب الیکٹرانک مشین سے ہوں گے کیوں کہ یہ اب قانون بن گیا ہے ، شکر ہے اللہ نے ہمیں نالائق اور نااہل اپوزیشن دی ہے، 24 گھنٹے ٹی وی کو میٹیریل دینا بڑا مشکل ہے،40 حلقوں کا فیصلہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ سے ہوگا، کئی حلقوں میں 50 ہزار اوورسیز ووٹ ہیں۔راولپنڈی کے گرلز ڈگری کالج ایف بلاک میں

نئے ہال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپنے شہر میں یونیورسٹی کالجز سکولز کا جال بچھا دیا ہے، بچیوں نے 100 میں سے 100 نمبرز لئے میں تو 60 تک نمبر لیتا تھا، پاکستان کی بیٹی پڑھی لکھی جبکہ ہمارا بیٹے نالائق ہوگئے ہیں۔وفاقی وزیر نے داخلوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے تمام کالجز میں ڈبل شفٹ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کالج کو نئے کمپیوٹرز کے لئے 15 لاکھ روپے دینے کا بھی وعدہ کیا، اور کہا کہ راولپنڈی میں آئندہ ہفتے آخری کالج بنا رہے ہیں اس کے 35 کروڑ روپے موجود ہیں۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کابینہ نے ان لائن ویزہ کی منظوری دے دی ہے، ووٹ اب الیکٹرانک مشین سے ہوں گے کیوں کہ یہ اب قانون بن گیا ہے، آئندہ انتخابات سی وی ایم سے یوں گے، اوورسیز پاکستانیز آئی ایم ایف سے زیادہ پیسہ پاکستان بھیجتے ہیں ان کی کوئی شرط بھی نہیں ہے، 40 حلقوں کا فیصلہ اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ سے ہوگا کئی حلقوں میں 50 ہزار اوورسیز ووٹ ہیں، اوورسیز ووٹ تحریک انصاف کو ملیں گے تو اپوزیشن کہے گی دھاندلی ہوگئی ہے، شکر ہے اللہ نے ہمیں نالائق اور نااہل اپوزیشن دی ہے، 24 گھنٹے ٹی وی کو میٹیریل دینا بڑا مشکل ہے، قوم آگے چلے گئی سیاست دان پیچھے چلے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ادارک ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے، لیکن اب ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہے، سعودی عرب سے لازوال رشتہ ہے انہوں نے قرضہ دیا جس سے اکنامی میں بہتری آئی ہے، وفاقی وزراء کے بیرون ممالک جانے پر پابندی روٹین ہے میں تو راولپنڈی سے کہیں بھی نہیں جانا چاہتا۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎