بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

دنیا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بڑی مضبوط ،ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے، قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے اہم ریمارکس

datetime 29  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ دنیا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بڑی مضبوط ہیں،ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے۔

ادویہ کی قیمتوں کا تعین ایک دن میں ڈریپ کو کرنا چاہیے،ٹاسک فورس کا جواز قانون میں کسی جگہ نہیں،ڈی پی سی قیمتوں کا تعین کیا،حکومت نے ڈی پی سی کے فیصلے پر ٹاسک فورس بنادی،اس طرح تو ٹاسک فورس پہ ٹاسک فورس بنتی جائیں گی،ڈریپ ڈیپوٹیشن پر لوگ کام کر رہے ہیں،ڈریپ چاہتا ہے تمام کمپنیاں اس کے دروازہ پر آکر بیٹھی رہیں۔ معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت فارما سیوٹیل کمپنی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ادویات کی قیمت کے تعین میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی،حکومت نے جو ایس آر او جاری کیا وہ عدالت کے حکم کے مطابق نہیں تھا،عدالت نے ادویات کی قیمتیں دو ہزار تیرہ کی سطح پرفریز کرنیکاحکم دیا تھا۔ڈریپ ڈائریکٹر نے اس موقع پر عدالت کو بتایاکہ ادویہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ڈریپ میں ڈائریکٹر لیول پر کوئی ڈیپوٹیشن پر کام نہیں کر رہا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ٹاسک فورس کی سفارشات آ چکی ہے، حکومت نے سفارشات پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا،ڈی پی سی کو قیمتوں کے تعین کا اختیارنہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک موقع پر کہا کہ حکومت غیر معینہ مدت معاملہ لیکر نہین بیٹھ سکتی۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر وفاقی حکومت کو ادویہ کی قیمتوں پر چار ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہو ئے معاملے کی سماعت ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…