بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

’’امریکہ نےچین اوربھارت کو ثالثی کی پیشکش اچانک کیوں کی ؟ دونوں ممالک کا آفر پر ردعمل کیا ہوگا ؟ پاکستان کیساتھ ثالثی کی پیشکش ،مقبوضہ کشمیر معاملے پر حکومت نے خاموشی توڑتے ہوئے چونکا دینے والا انکشاف کر دیا

datetime 29  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو بھارت اب تک چڑھائی کر چکا ہوتا، دنیا ایل او سی پر بھارت اور چین کے درمیان تنازع کو دیکھ رہی ہے۔ بھارت 2022 تک متنازع علاقے میں فضائی اڈٖے قائم کرنا چاہتا ہے۔ جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو بھارت بہت پہلے

چڑھائی کر چکا ہوتا اس حوالے سے بھارت کے خطے میں عزائم واضح ہیں ، بھارت کی تمام پالیسیاں واضح ہوتی جا رہی ہیں ان پالیسیوں سے پورے خطے کا امن و استحکام متاثر ہو رہا ہے پہلے پاکستان شکایت کرتا تھا جبکہ اب چین کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے۔ بھارت متنازع علاقے میں سڑکوں کا جال بچھانے کا منصوبہ رکھتا ہے جسے وہ فضائی اڈوں کی تعمیر سے عملی جامعہ پہنانا چاہتا ہے۔ یہ صورتحال چین کو قبول نہیں اس لئے انہوں نے رد عمل کا اظہا کیا ہے بھارت اور چین سرحد پھر تنازعے کا ذمہ دار بھارت ہی ہے۔ امریکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کو پیش کش کر چکا ہے جس سے بھارت نے انکار کیا تھا۔ اور تیسرے فریق کی مداخلت کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اب امریکہ نے بھارت کو دبائو میںدیکھ کر چین کو بھی ثالثی کی پیش کش کی ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ دونوں ممالک اس آفر کو قبول کرتے ہیں یا نہیں، اگر بھارت قبول کر بھی لے تو یہ دوہرا معیار ہو گا کہ وہ چین کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل پر تو ثالثی قبول کرے لیکن پاکستان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ثالثی سے راہ فرار اختیار کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…