جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے، ایمرجنسی میں وفاقی حکومت جو کام کر رہی وہ تباہ کن ہے عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا حکم دیدیا

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک گھنٹے میں پی ایم ڈی سی کھولنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں وفاقی حکومت جو کام کر رہی ہے وہ تباہ کن ہے، سیکرٹری سے کہیں کورونا ٹیسٹ کروا کے آئیں میں اسے آج ہی جیل بھیجوں گا۔

وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے۔ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کوعدالتی حکم کے باوجود بحال نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ پی ایم ڈی سی ملازمین نے بتایا کہ حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا اور ہمیں پانچ ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی۔سیکرٹری ہیلتھ کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں سیکرٹری ہیلتھ کو چھ ماہ کے لئے جیل بھیجنے کا حکم دیتا ہوں، ایس ایچ او جائیں اور سیکرٹری ہیلتھ کو گرفتار کر کے جیل بھیجیں، حکومت عدالت کی توہین کر رہی ہے،وزیروں اور اعلی حکام کو جیل بھیج دونگا، کوئی ایسی بات نہیں،جیلیں انہی کے لئے بنی ہیں، ایمرجنسی میں وفاقی حکومت جو کام کر رہی ہے وہ تباہ کن ہے، سیکرٹری سے کہیں کورونا ٹیسٹ کروا کے آئیں میں اسے آج ہی جیل بھیجوں گا، وفاقی حکومت، وزیراعظم اور وزیر صحت کو شرم آنی چاہیے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ ایک گھنٹے میں پی ایم ڈی سی کا تالہ توڑ کر اس عدالت کو آگاہ کریں، میں اپنے فیصلے کو اس سطح پر لے جاؤں گا کہ کوئی برداشت نہیں کر سکے گا، وفاقی حکومت عدالت کے منہ پر تھپڑ مارہی ہے۔

وزارت والوں کو سمجھائیں یہ جیل چلے جائیں گے تو ان جیسے ہو جائیں گے جو جیلوں میں بند ہیں، ابھی جائیں اور پی ایم ڈی سی کے تالے توڑ کر رجسٹرار کو انکے دفتر میں بٹھا کر آئیں، عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے، وفاقی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ ایسا رویہ اپنائے، تین تاریخیں دے چکا ہوں، آپ انٹراکورٹ اپیل میں فیصلہ معطل کرا لیتے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت صحت کو نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن سے بھی روکتے ہوئے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو اختیار ہے کہ وہ نئے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کی درخواستیں وصول کرے۔

رجسٹرار پی ایم ڈی سی کو وہاں بیٹھائیں اور ایک گھنٹے بعد عمل درآمد رپورٹ دیں، اگر ایک گھنٹے بعد پی ایم ڈی سی نہ کھلا تو سیکرٹری ہیلتھ کو جیل بھیج دوں گا۔عدالت میں وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے پی ایم ڈی سی فوری ڈی سیل (کھولنے) کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ حکومت نے عدالتی حکم پر بحال ہونے والے رجسٹرار کو دفتر میں بیٹھنے کی اجازت بھی دے دی۔عدالت نے کیس احکامات کے ساتھ نمٹا دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…