’’ مجرم کی لاش کو ڈی چوک لانے اور 3دن لٹکانے کی بات ‘‘ فیصلہ بہت کمزورقرار، چیلنج کیا جائے تو کیا نتائج آسکتے ہیں ؟ قانونی ماہرین نے حیرت انگیز انکشافات کر دیئے

  جمعہ‬‮ 20 دسمبر‬‮ 2019  |  14:57

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی تی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور نے کہا کہ فیصلہ نہ صرف غیر قانونی غیر آئینی بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے انسانیت کے تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتاہے اس جج کے خلاف مقدمہ ہونا چاہئےاس فیصلے کو کسی طور پر بھی ہم قبول نہیں کر سکتےفیصلہ کالعدم قرار دلوانے کے لئےدرخواست دینی پڑے گی اس میں نظر آرہا ہے کہ

یہ دشمنی کی بنیاد پر دیا گیا فیصلہ ہے جج نے فوج پر بھی حملہ کیا ہے۔آئینی ماہر بابر ستار نے کہا کہ فیصلے سے لگتا ہے جیسے کوئی ذاتی بغض اور عناد تھا پیراگراف چھیاسٹھ نہ ہوتا تو باقی فیصلہ نارمل لگتا ہے کوئی بھی اس کی نفی نہیں کر سکتا کہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔۔جسٹس (ر)ناصرہ جاوید نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر کو ڈی چوک میں پھانسی دینے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کی لاش کو ڈی چوک لانے اور 3دن لٹکانے کی بات خلاف آئین ہے۔سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ جس جج نے ڈی چوک میں پھانسی کی بات کی ہے اسے فوری معطل کیا جائے،اسے بطور جج آگے نہیں بڑھانا چاہیے ، مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ بد نیتی پر مبنی ہے دنیا میں جگ ہنسائی ہو ئی ہے فیصلے کو چیلنج کرنے کی بھی ضرورت نہیں صدر مملکت کو آرڈیننس جاری کر کے اسی وقت کالعدم قرار دینا چاہیے۔جسٹس (ر)شائق عثمانی نے کہا ہے کہ فیصلہ بہت کمزور ہے چیلنج کیا جائے تو اپ سیٹ آسکتی ہے اگرکوئی شخص مر جائے تو کریمنل کیسز ختم ہو جاتے ہیں،لاش کو گھسیٹ کر لایا جائے یہ تو تعصب والی بات ہے سپریم کورٹ میں چیلنج ہو تو فیصلے کو کالعدم قراردے سکتی ہے اور کوئی طریقہ نہیں سزائیں ختم کرناکا۔سینئر قانون دان جسٹس ریٹائرڈ مظہر کلیم نے کہا کہ لاش کو لٹکایا جائے،یہ ریمارکس ہماری اخلاقی ذلت اور گراوٹ کی انتہا ہے ایک آدمی کے انتقال کے بعد اس کی سزا ختم ہوجاتی ہے یہ نہیں ہوسکتا کے آپ اس کی لاش سے بدلہ لیں گے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎