العزیزیہ کیس میں نوازشریف کی سزا کیخلا ف اپیل کی سماعت، اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھماکہ خیز حکم جاری کردیا

  بدھ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2019  |  15:16

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سابق جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی مصدقہ نقل نواز شریف کے وکلا اور نیب کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ بدھ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی ۔نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کررکھی ہے جبکہ نیب نے نواز شریف کی سزا 7 سال قید سے


بڑھا کر 14 سال کرنے کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔دور ان سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔ن لیگی رہنمائوں سابق گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، راجہ ظفر الحق ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ اور طاہرہ اورنگزیب ،سنیٹر پرویز رشید ، مریم اورنگزیب ،رانا تنویر ، سر دار ایاز صادق، خواجہ آصف اور برجیس طاہر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔نوازشر یف کے وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ اپیل کی فائل پر بہت سی دستاویزات زیادہ اور کچھ کم ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ کو تمام دستاویزات دی جائیں گی۔ خواجہ حارث نے کہاکہ کیس سے متعلق پیپر بکس گذشتہ ہفتے پی ملی ہیں،ان میں کچھ نقائص ہیں ۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اگر کوئی کاغذ آگے پیچھے یا غیر ضروری طور پر لگ گئے ہیں تو اس کو دیکھ لیں گے اس حوالے سے آپ نے اور نیب نے ہماری معاونت کرنی ہے۔ خواجہ حارث نے کہاکہ عدالت کے علم میں ہے کہ جس جج نے العزیزیہ کیس میں فیصلہ سنایا انہوں نے پریس ریلیز اور بیان حلفی جمع کرایا۔جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ انہیں اسی لئے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے کہ آپ معاونت کریں کہ اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے؟سابق جج کی پریس ریلیز اور بیان حلفی اوریجنل ریکارڈ کا حصہ ہے۔خواجہ حارث نے کہاکہ ہمیں بیان حلفی اور پریس ریلیز فراہم کی جائے۔جسٹس عامرفار وق نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی بیان حلفی مانگا تھا مگر وہ اوریجنل فائل کا حصہ ہے۔ خواجہ حارث نے کہاکہ میڈیا میں تو اس حوالے سے کافی کچھ آتا رہا ہے مگر ہم اوریجنل بیان حلفی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کو پہلے ہی کافی کچھ بتا دیا ہے کہ اس معاملے پر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔عدالت نے کہاکہ دیکھنا ہوگا کہ جج ارشد ملک کے بیان اور پریس ریلیز کا اپیل پر کیا اثر پڑے گا؟۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ میں آرڈر میں یہ لکھوا دوں کہ پیپر بکس کی تیاری کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ خواجہ حارث نے کہاکہ ایک ڈاکومنٹ ان پیپر بکس میں شامل ہی نہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کوئی ڈاکومنٹ جو شواہد کا حصہ ہے مگر پیپر بکس میں شامل نہیں تو وہ پیش کیا جا سکے گا۔خواجہ حارث نے کہاکہ اس اپیل کے ریکارڈ سے متعلق پانچ ہزار سے زائد صفحات ہیں۔عدالت نے کہاکہ اگر کوئی ڈاکومنٹ شامل ہونے سے رہ گیا ہے تو نشاندہی پر اسے شامل کر لیا جائے گا۔ دو را ن سماعت عدالت نے نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیل پر سابق جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی مصدقہ نقل نواز شریف کے وکلا اور نیب کو فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپیل کی سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی۔

موضوعات:

loading...