اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال کی تحقیقات میں ڈرامائی پیشرفت ، مقتولین کے ورثا نے انسداد دہشتگردی عدالت میںایسا بیان دیدیا جس کی کسی کو بھی امید نہ تھی

datetime 11  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں سانحہ ساہیوال سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور دوران سماعت کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ۔ تفصیلات کے مطابق دوران سماعت مقتولین کے ورثا نے پولیس اہلکاروں کو پہچاننے سے انکار کردیا۔

مقتول خلیل کے بھائی نے کہا کہ میں موقع پر موجود تھا اسی لیے مجھے نہیں معلوم کہ کون سے اہلکار تھے۔مقتول خلیل کے بیٹے نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے والدین پر کن پولیس والوں نے گولیاں چلائیں۔ کیس میں صفدر حسین، سیف اللہ سمیت 12 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔ عدالت میں واقعہ میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو پیش کردیا گیا۔ مقتول ذیشان کے بھائی احتشام کا بیان بھی ریکارڈ کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ رواں برس 19 جنوری کو سی ٹی ڈی نے ساہیوال میں کارروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والوں میں ذیشان ، خلیل ، خلیل کی اہلیہ نبیلہ اور ان کی بیٹی اریبہ شامل تھی۔ فائرنگ کے دوران ایک بچہ گولی لگنے اور ایک بچی شیشہ لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے خلیل اور نبیلہ بچ جانے والے تین بچوں کے والدین تھے جبکہ اریبہ ان بچوں کی بڑی بہن تھی جو ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اور ان کے ساتھ موجود ذیشان ان کا محلے دار تھا ، ذیشان بطور ڈرائیور خلیل کے خاندان کے ساتھ گیا تھا جسے سی ٹی ڈی نے دہشتگرد قرار دیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے متاثرین کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی تو کروائی تھی لیکن تاحال ان کو انصاف نہیں ملا اور آج عدالت میں سماعت کے دوران مقتولین کے لواحقین نے ملزمان کو پہنچاننے سے انکار کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…