اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

ازبکستان نے اپنے سابق صدر کی بیٹی سے کس طرح ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر واپس وصول کئے؟ پاکستان میں ”ملزموں“ کی حفاظت پر کروڑوں خرچ ہوتے ہیں،جب بھی کوئی شہزادہ آتا ہے وزیراعظم (اس) کے جانے کے بعد ایک ہی بات کیوں کہتے ہیں؟جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 25  جون‬‮  2019 |

اسلام کریموف (ازبکستان) کے سابق صدر اور فادر آف نیشن تھے‘۔۔انہوں نے (ازبکستان) کو آزاد بھی کرایا اور۔۔اسے جدید (ملک) بھی بنایا‘ (گل) نارا۔۔ان کی بیٹی ہے‘(گل) نارا پر 2014ء میں کرپشن کا الزام لگا اور یہ والد کی زندگی اور دور صدارت میں ہاؤس اریسٹ ہو گئی‘ اسلام کریموف 2016ء میں انتقال کر گئے‘ نئی حکومت آئی (اس) نے بھی احتساب کا عمل جاری رکھا‘ سوئٹزرلینڈ‘ امریکا‘ سویڈن اور نیدر لینڈ چار ملکوں میں۔۔ان کے خلاف تحقیقات ہوئیں اور۔۔انہیں دس سال قید کی سزا ہو گئی‘۔۔

انہیں تاشقند کی بدترین جیل میں رکھا گیا‘ کل (گل) نارا کے اعصاب جواب دے گئے اور۔۔انہوں نے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر واپس کر کے صدر سے تحریری معافی مانگ لی‘ یہ احتساب کی تازہ ترین مثال ہے‘۔۔اس مثال میں ملک نے ایک شخصیت کو پکڑا اور پھر وصولی تک (اسے) چھوڑا نہیں جبکہ ہمارے ملک میں احتساب سے وصولی تو (دور) (الٹا) مقدموں‘ جیلوں میں ملزموں کی حفاظت‘۔۔ان کے میڈیکل بورڈز اور۔۔ان کے پروڈکشن آرڈرز پر کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں‘ آپ آج کی مثال لیجیے‘ نیب نے 4 ستمبر 2018ء کو بابر اعوان پر نندی پور ریفرنس بنایا تھا‘ بابر اعوان پر 9ماہ مقدمہ چلتا رہا۔۔لیکن آج احتساب عدالت نے انہیں باعزت بری کر دیا‘۔۔اس ریفرنس پر بھی ریاست کا انتہائی قیمتی وقت اور سرمایہ خرچ ہوا۔۔لیکن نتیجہ کیا نکلا‘ ہم نے وصولی کی بجائے قومی خزانے کی مزید رقم برباد کر دی‘ذمہ دار کون ہے؟ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری آزاد تھے تو یہ اپنے تمام اخراجات خود (اٹھاتے) تھے‘ یہ گرفتار ہوئے تو ریاست سرکاری خزانے سے۔۔ان کے تمام اخراجات (اٹھا) رہی ہے‘ اگر یہ احتساب ہے تو پھر۔۔اس کا قوم کو کیا فائدہ ہو رہا ہے‘ حکومت کو ایک لمحے کے لیے۔۔اس نقطے پر ضرور سوچنا چاہیے‘ ہم آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں،فیصل واوڈا کے پاس احتساب کے انوکھے طریقے موجود ہیں‘ حکومت اکاؤنٹیبلٹی۔۔ان کے حوالے کیوں نہیں کر دیتی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا اور عمران خان نے آج ایک بار پھر کہہ دیا یہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے‘ ملک میں جب بھی کوئی شہزادہ آتا ہے وزیراعظم (اس) کے جانے کے بعد یہ کیوں کہتے ہیں اور کل حکومت کے خلاف اے پی سی ہو گی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…