پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کابل کی ہٹ دھرمی ، اسلام آباد نے ورلڈبینک سے 50 کروڑ ڈالر کا فنڈ چھوڑدیا

datetime 12  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن) افغانستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان نے ورلڈبینک سے خیبر پاس اقتصادی راہداری (کے پیک) منصوبے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے فنڈ چھوڑ دیے۔ میڈیا ر پورٹ کے مطابق کے پیک پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سہ ملکی تجارتی راہداری معاہدے (پی اے ٹی ٹی ٹی اے) کا ہی حصہ ہے۔

تاہم افغانستان کی جانب سے یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ پی اے ٹی ٹی ٹی اے معاہدہ واہگہ کے ذریعے کابل اور نئی دہلی کے درمیان تجارت سے مشروط ہوگا۔ادھر سرکاری حکام نے کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک نے واشنگٹن میں عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے وزرائے اعلیٰ کی ملاقاتیں کروائیں تھیں تاکہ تین ملکی تجارتی راہداری پر معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے۔علاوہ ازیں ملاقات کے دوران تینوں ممالک میں تجارتی راہداری کے لیے دیگر منصوبوں جیسے سڑکیں اور سرحدی سہولیات کے لیے چوکیوں کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس دوران ورلڈ بینک نے پی اے ٹی ٹی ٹی اے کے تحت کے پی ای سی کی تعمیر پر زور دیا اور 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے پائپ لائن منصوبے کے تحت اس کے نفاذ کو عمل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ افغانستان کے وزیر خارجہ نے علاقائی روابط کے مسئلے پر اجلاس کے دوران سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی رابطہ ان کے ملک کے لیے تب تک اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا جب تک افغانستان کے ٹرکوں کو واہگہ کے ذریعے بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔تاہم اسی وجہ سے پی اے ٹی ٹی ٹی اے یا کے پی ای سی منصوبے پر واشنگٹن میں کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔حکام کا کہنا ہے کہ پلانگ کمیشن کو پہلے ہی کے پی ای سی منصوبے پر تحفظات ہیں بالخصوص پشاور سے طورخم تک سڑکوں اور متعلقہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ہے جس پر تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی۔

کمیشن کا خیال رہے کہ کے پی ای سی منصوبے کو تنہا شروع نہیں کیا جاسکتا اور یہ تب تک کار آمد نہیں ہوسکتا جب تک سرحد کی دوسری جانب پہلے افغانستان اور پھر تاجکستان میں اسی طرح سہولیات میسر نہ آئیں۔چونکہ افغانستان نے پاکستان سے واہگہ کے ذریعے بھارت تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا جس پر پلاننگ کمیشن نے ورلڈ بینک کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں عالمی بینک کے ساتھ منصوبوں پر آگے جانے کا ارادہ نہیں رکھتا.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…