ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کابل کی ہٹ دھرمی ، اسلام آباد نے ورلڈبینک سے 50 کروڑ ڈالر کا فنڈ چھوڑدیا

datetime 12  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن) افغانستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان نے ورلڈبینک سے خیبر پاس اقتصادی راہداری (کے پیک) منصوبے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے فنڈ چھوڑ دیے۔ میڈیا ر پورٹ کے مطابق کے پیک پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سہ ملکی تجارتی راہداری معاہدے (پی اے ٹی ٹی ٹی اے) کا ہی حصہ ہے۔

تاہم افغانستان کی جانب سے یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ پی اے ٹی ٹی ٹی اے معاہدہ واہگہ کے ذریعے کابل اور نئی دہلی کے درمیان تجارت سے مشروط ہوگا۔ادھر سرکاری حکام نے کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک نے واشنگٹن میں عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے وزرائے اعلیٰ کی ملاقاتیں کروائیں تھیں تاکہ تین ملکی تجارتی راہداری پر معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے۔علاوہ ازیں ملاقات کے دوران تینوں ممالک میں تجارتی راہداری کے لیے دیگر منصوبوں جیسے سڑکیں اور سرحدی سہولیات کے لیے چوکیوں کی تعمیر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس دوران ورلڈ بینک نے پی اے ٹی ٹی ٹی اے کے تحت کے پی ای سی کی تعمیر پر زور دیا اور 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے پائپ لائن منصوبے کے تحت اس کے نفاذ کو عمل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ افغانستان کے وزیر خارجہ نے علاقائی روابط کے مسئلے پر اجلاس کے دوران سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی رابطہ ان کے ملک کے لیے تب تک اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا جب تک افغانستان کے ٹرکوں کو واہگہ کے ذریعے بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔تاہم اسی وجہ سے پی اے ٹی ٹی ٹی اے یا کے پی ای سی منصوبے پر واشنگٹن میں کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی۔حکام کا کہنا ہے کہ پلانگ کمیشن کو پہلے ہی کے پی ای سی منصوبے پر تحفظات ہیں بالخصوص پشاور سے طورخم تک سڑکوں اور متعلقہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ہے جس پر تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی۔

کمیشن کا خیال رہے کہ کے پی ای سی منصوبے کو تنہا شروع نہیں کیا جاسکتا اور یہ تب تک کار آمد نہیں ہوسکتا جب تک سرحد کی دوسری جانب پہلے افغانستان اور پھر تاجکستان میں اسی طرح سہولیات میسر نہ آئیں۔چونکہ افغانستان نے پاکستان سے واہگہ کے ذریعے بھارت تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا جس پر پلاننگ کمیشن نے ورلڈ بینک کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں عالمی بینک کے ساتھ منصوبوں پر آگے جانے کا ارادہ نہیں رکھتا.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…