ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’ڈالر جتنا مرضی بڑھا لیں آج کوئی حد نہیں‘‘عمران خان نہ اسد عمر،ڈالر کی قیمت بڑھانے کیلئے یہ فون کال کس نے کی؟اصل کہانی تو اب سامنے آئی

datetime 6  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی حکومت کے لیے معاشی بحران چیلنج بن گیا۔تفصیلات کے مطابق ڈالر کی قدر اور شرح سود کا تعین گورنر اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ڈالر کی قیمت میں دو بار بہت زیادہ اضافہ ہوا جس سے روپے کی بے قدری ہوئی اور حکومت کے لیے یہ تمام معاملہ پریشانی کا باعث بن گیا۔حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ایک بار ڈالر کی قیمت میں ایک ساتھ 11 روپے کا اضافہ ہو گیا تاہم روپے کی قدر میں کمی کی وجہ اوپن مارکیٹ نہیں، وزیر خزانہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ

بیلنس آف پیمنٹ کا بھی کوئی بحران نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ جس دن ڈالر کی قیمت بڑھی اس دن مارکیٹ میں اس کی طلب زیادہ نہیں تھی تو پھر ڈالر آخر بڑھا کیسے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق  ہر روز گورنر سٹیٹ بینک ٹریژری ہیڈز کو فون کرتے ہیں اور ڈالر کی حدود کا بتاتے ہیں مگر اس روز گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے ٹریژری ہیڈز کو فون کر کے کہا آج کوئی حد نہیں جو مرضی کر لیں یعنی کہ آپ کی مرضی ہے ڈالر کی جو قیمت بڑھا لیں اور اس کے بعد چند گھنٹوں میں ڈالر کی قیمت 142 روپے سے زائد ہو گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…