بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس ثاقب نثارکاپشاورسنٹرل جیل میں مینٹل ہسپتال کا دورہ ،ایسا منظر دیکھ لیا کہ فوراً ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو ہسپتال طلب کرلیا،افسوسناک انکشافات

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پشاورسنٹرل جیل میں مینٹل اسپتال کا دورہ کیا،مریضوں نے سہولیات نہ ہونے سے متعلق آگاہ کیا،چیف جسٹس نے سہولیات کی عدم دستیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس سے فوری رپورٹ طلب کرلی ۔

چیف حسٹس میاں ثاقب نثار پشاور کے دورے پر سنٹرل جیل میں قائم مینٹل اسپتال کا دورہ کیا ،چیف جسٹس نے مریضوں سے سہولیات کے حوالے سے پوچھا تو مریضوں نے بتایا کہ کسی قسم کی سہولیات نہیں ،چیف جسٹس نے سہولیات نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ،چیف جسٹس نے اسپتال میں موجود ڈاکٹروں سے سوال کیا کہ مریضوں کے لیے ورزش کے حوالے سے کوئی انتظامات ہیں جس کے جواب میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسپتال میں انفراسڑکچر پراناہے،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ،مریض ہیں ،ایک بیڈپر دو دو مریض لیٹے ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہسپتال میں انتظات ایسے ہوتے ہیں؟۔ سنٹرل جیل کے کچن میں سبزی اور جوتے ایک ہی الماری میں رکھنے پر بھی چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری کو وزیر اعلی کو طلب کرنیکی ہدایت کردی جس کے بعد وزیراعلیٰ پرویز خٹک مینٹل اسپتال پہنچے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پشاورسنٹرل جیل میں مینٹل اسپتال کا دورہ کیا،مریضوں نے سہولیات نہ ہونے سے متعلق آگاہ کیا،چیف جسٹس نے سہولیات کی عدم دستیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس سے فوری رپورٹ طلب کرلی ۔چیف حسٹس میاں ثاقب نثار پشاور کے دورے پر سنٹرل جیل میں قائم مینٹل اسپتال کا دورہ کیا ،چیف جسٹس نے مریضوں سے سہولیات کے حوالے سے پوچھا تو مریضوں نے بتایا کہ کسی قسم کی سہولیات نہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…