ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

وزیراعظم کے استعفیٰ ، اگلے وزیراعظم کےلئے مضبوط ترین امیدوار کا نام سامنے آگیا

datetime 13  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم نوازشریف کے استعفے،مسلم لیگ ن سے ہی نیا وزیراعظم لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا،اہم شخصیت مضبوط ترین امیدوار، تفصیلات کے مطابق پانامہ لیکس کے معاملے کے بعدپاکستانی حکومت ،مسلم لیگ ن اور شریف خاندان شدیدتذبذب کا شکار ہوچکا ہے ،اندرون خانہ ایک نئی آپشن بھی گردش کررہی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف جو کہ آج کل شدید ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں اور ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی جس کی وجہ سے انہوں نے متعدد اندرونی و بیرونی دورے بھی منسوخ کردیئے ہیں اورعلاج کی غرض سے لندن جارہے ہیں وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں اور ان کی جگہ مسلم لیگ ن سے ہی کوئی دوسرا اہم رہنما یہ منصب سنبھال لے ،ذرائع کے مطابق موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے اس آپشن کو بہترین قرار دیاجارہا ہے ،اگر میاں محمد نوازشریف وزارت عظمی سے مستعفی ہوگئے تو وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد وزارت عظمی کے سب سے مضبوط امیدوار ہوں گے ۔ادھر دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن)سندھ کے سینئر رہنماﺅں اور سابق گورنرسندھ سردارممتازبھٹوکے قریبی ساتھیوں محمد انور گجر اوررزاق باجوہ نے وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کو اپنے منصب سے الگ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ فوری طور پراپنے منصب سے مستعفی ہوکر پارٹی کے کسی سینئر رہنماءکو وزیراعظم منتخب کریں تاکہ (ن) لیگ کے گرتی ہوئی حکومت اورساکھ کو بچایاجاسکے۔
وزیراعظم کی اس تجویز کو ان کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے یکسر مسترد کردیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ عبوری مدت کیلئے وہ خود یا ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کردیا جائے ۔ آن لائن کو ملنے والی مصدقہ معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم کی اس تجویز کی روشنی میں پیر کو وفاقی دارالحکومت کا ہنگامی دورہ بھی کیا اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے خصوصی ملاقات بھی کی ۔ معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب وزیر داخلہ کو اپنے لئے متفق کرتے رہے لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ اگر وزیراعظم میاں نواز شریف کچھ عرصہ کیلئے اپنا عہدہ چھوڑتے ہیں تو عبوری مدت کیلئے وہ سب سے مضبوط امیدوار ہونگے ۔ اس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے ان پر واضح کیا کہ ان کو اگر وزیراعظم نامزد کیا گیا تو وزراء کی بڑی اکثریت اس کی حمایت نہیں کرے گی ۔
خاص طور پر وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر برائے پلاننگ و کمیشن چوہدری احسن اقبال اس فیصلے کو قبول نہیں کرینگے اس پر وزیر داخلہ نے خادم اعلیٰ پر واضح کردیا ہے کہ مجھے کسی وفاقی وزیر کی پرواہ نہیں ہے ان ہاؤس تبدیلی کیلئے میں اراکین اسمبلی کی تعداد پوری کرلوں گا ۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب واپس لاہور تشریف لے گئے جبکہ اس حوالے سے چوہدری نثار علی خان نے مولانا فضل الرحمن کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا ہے ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں مولانا فضل الرحمن چوہدری نثار علی خان کی سپورٹ کرینگے ۔
مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف رائیونڈ محل میں شدید دباؤ میں ہیں اور پچھلے 72گھنٹوں میں انہوں نے تین بار شریف کمپلیکس میں خود جا کر اپنا طبی معائنہ کروایا ہے اور چوتھی بار ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کو خود محل کے اندر جا کر وزیراعظم کو طبی ا مداد فراہم کرنا پڑی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو آئینی اور قانونی مشیروں نے آگاہ کردیا ہے کہ آف شور کمپنیوں سے متعلق حسین نواز کا انٹرویواور مریم نواز کی طرف سے اپنے فلیٹس کی ملکیت کی تصدیق ان کے لئے مشکلات پیدا کرے گی رائیونڈ کے محل اور وفاقی دارالحکومت میں سیاسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں دوسری طرف وزیراعظم نے اپنے بااعتماد ساتھی اسحاق ڈار کے ذریعے آصف علی زرداری سے لندن میں ملاقات کا وقت بھی مانگ لیا ہے واضح رہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی لندن روانگی شریف میڈیکل کمپلیکس کے ماہر ڈاکٹروں کے مشورے کے نتیجے میں ہورہی ہے تاکہ وزیراعظم دباؤ سے باہر آسکیں ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر داخلہ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…