مراکو میں چند دن

  بدھ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2022  |  0:01

مراکو میں تمام نمازیں دو بار ہوتی ہیں‘ امام صاحب ایک جماعت کے بعد محراب خالی کر دیتے ہیں اور دوسرے امام صاحب آگے بڑھ کر دوسری جماعت شروع کر دیتے ہیں اور جوں ہی یہ نماز مکمل ہوتی ہے انتظامیہ مرکزی دروازے کو تالہ لگا کر مسجد بند کردیتی ہے اور یہ تالہ پھر اگلی نماز کے وقت کھلتا ہے‘ اب سوال یہ ہے مسجدیں بند کیوں کر دی جاتی ہیں؟ جواب بہت دل چسپ ہے‘

مراکش کے لوگ سمجھتے ہیں جو مسلمان نماز کے لیے بھی ٹائم پر مسجد نہیں پہنچتا اس کے لیے مسجد نہیں کھلنی چاہیے‘ وہ جماعت کے بغیر اللہ کے گھر سے باہر نماز پڑھے‘ مجھے یہ تصور اچھا لگتا ہے اور میں جب بھی مراکو جاتا ہوں کسی نہ کسی امام کا ہاتھ چوم کر اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اسے ٹوٹی پھوٹی زبان میں یہ ضرور کہتا ہوں ’’ہم مسلمان اگر وقت پر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تو پھر ہم اسلام جیسی عظیم نعمت کو ہرگز ڈیزرو نہیں کرتے‘‘۔میں دو مہینوں سے مسلسل سفر میں ہوں‘ مانچسٹر گیا‘ وہاں سے ترکی کے قدیم شہروںبودرم‘ ایفسس‘ اور کوش تاشی گیا‘ واپس آیا‘ پروگرام کیے اور جنوبی افریقہ نکل گیا‘ دو دن لندن میں رکا‘ واپس آیا‘ پروگرام کیے اور گروپ کے ساتھ مراکو چلا گیا‘ مراکو سے پاکستان واپس آ گیا ہوں‘ ٹی وی شوز کروں گا اور شاید ایک بار پھر سپین‘ فرانس اور سوئٹزرلینڈ جانا پڑ جائے‘ ہمارے گروپ وہاں جا رہے ہیں‘ اب ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے میں اتنا سفر کیوں کرتا ہوں؟ مجھے اتنا وقت اور پیسہ برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں ٹانگیں لمبی کر کے اپنے گھر میں پراٹھے اور چکن کڑاہی انجوائے کیوں نہیں کرتا؟ سیدھی بات ہے سفر میرا استاد ہے‘ یہ نہ ہوتا تو میں آج مکمل واہیات بغلول ہوتا اور دوسروں سے پوچھتا ’’پاکستان کا کیا بنے گا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور اس نے اس راستے پر ڈال دیا جو اس کی کائنات کی طرف جاتا ہے اور جس میں علم بھی ہے‘ مشاہدہ بھی‘ سکون بھی اور خوشی بھی‘ میں سفر کا بہت بڑا وکیل بھی ہوں‘

میرا دعویٰ ہے آپ کسی بھی مسئلے کا شکار ہوں‘ رزق کی تنگی ہو‘ علالت ہو‘ ٹینشن ہو‘فیملی لائف ڈسٹرب ہو‘ بچوں کے مسائل ہوں‘ علم کی کمی ہو یا پھر آپ خود کو سماجی لحاظ سے پست سمجھتے ہوں آپ بس سفر پر نکل جائیں‘ ان شاء اللہ آپ کے مسائل حل ہو جائیں گے‘ آپ نئی زندگی‘نئے آئیڈیاز اور نئی توانائیوں کے ساتھ لوٹیں گے‘ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء اتارے‘

یہ تمام سیاح بھی تھے‘ یقین کریں انسان جب تک اپنے کنوئیں سے باہر نہیں آتا اس پر اس وقت تک علم مہربان نہیں ہوتا‘ ہندوستان میں اسلام صوفیاء کرام نے پھیلایا تھا اور صوفیاء کرام بھی سیاح تھے‘ یہ اللہ تعالیٰ کی زمین سے علم کا رزق چنتے چتنے اچ شریف‘ لاہور‘ دہلی اور اجمیر شریف پہنچے اور وہاں دین کی مشعل جلا دی چناں چہ کہنے کا مطلب یہ ہے آپ سفر کریں‘ آپ کی پوری شخصیت بدل جائے گی۔

ہم 35 لوگوں نے مراکو کا سفر کیا‘ یہ سب ایک دوسرے سے مختلف تھے‘ ان میں خواتین بھی تھیں‘ جوان بھی‘ بزرگ بھی اور علیل بھی‘ ان میں بزنس مین بھی تھے‘ صنعت کار بھی‘ ڈاکٹرز بھی‘ تاجر بھی اورملازمت پیشہ بھی اور ان میں مذہبی بھی تھے اور دنیا دار بھی‘ یہ ہمارا 37واں ٹور تھا‘ ہم نے ان ٹورز کی بنیاد پر کچھ نتائج اخذ کیے ہیں مثلاً ہم پاکستانی پریشان قوم ہیں اور ہمارے پاس ہماری پریشانیوں کی

کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں‘ آپ ککھ پتی اور ارب پتی دونوں کو اکٹھا بٹھا دیں آپ کو دونوں کے چہروں پر پریشانی اور سٹریس دکھائی دے گا‘ ہم لوگ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کیوں پریشان ہیں؟شاید شکر کی کمی‘ ایکسرسائز اور بلا ضرورت مقابلے نے ہمیں پریشان قوم بنا دیا ہے‘ دوسرا ہم دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے میں بھی صدیاں لگا دیتے ہیں اور یہ ہمارے سٹریس کی بڑی وجہ ہے‘

گروپ کے شروع میں زیادہ تر لوگ ایک دوسرے سے کھچے رہتے ہیں لیکن پھر ایک دوسرے سے گھلتے ملتے ہیں اور تیسرے دن ان کے چہروں سے سٹریس غائب ہو جاتا ہے‘ مائینڈ چینجر میں ہر ہفتے سٹریس مینجمنٹ کے لیے درجنوں لوگ آتے ہیں اور میں ان سے صرف ایک سوال پوچھتا ہوں‘ آپ نے آخری مرتبہ نیا دوست کب بنایا تھا؟ سو فیصد لوگوں کا جواب ہوتا ہے دس پندرہ برس قبل اور میں انہیں ایک فقرے میں علاج بتادیتا ہوں‘

آپ لوگوں سے دور ہیں‘ اس لیے سٹریس میں ہیں‘ آپ نئے لوگوں سے ملتے رہا کریں‘ آپ کو خوشی مل جائے گی‘ ہمارے گروپوں میں بھی لوگ لوگوں سے مل کر خوش ہو جاتے ہیں اور چند ماہ بعد ایک دوسرے کے رشتے دار بن جاتے ہیں‘ تیسری چیز ہم سماجی لحاظ سے دنیا سے بہت پیچھے ہیں‘ ہمیں آج تک قطار میں کھڑے ہونے‘ منہ اور ہاتھ دھونے‘ کھانا کھانے‘

دوسروں سے مخاطب ہونے اور واش رومز استعمال کرنے کا طریقہ نہیں آیا لہٰذا ہمیں من حیث القوم بیسک ٹریننگ کی ضرورت ہے‘ چوتھی چیز ہم نئی چیزوں‘نئے کھانوں‘ نئے کپڑوں اور نئی زبانوں کو ٹرائی کرنے میں بہت کم زور ہیں‘ ہمارے زیادہ تر لوگ مراکش‘ ترکی‘ اردن‘ شام‘ عراق اور ایران میں بھی بریانی‘ چکن کڑاہی اور چپاتی مانگتے ہیں‘ یہ مقامی کھانے اور مقامی کپڑے ٹرائی نہیں کرتے جب کہ دنیا بھر کے لوگ مقامی کھانے‘ کلچر‘ زبان اور کپڑے ٹرائی کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں‘

پانچویں چیز ہم ہر چیز کوگھورتے بہت زیادہ ہیں بالخصوص خواتین اور بچوں کے بارے میں ہمارا رویہ واہیات لیول تک چلا جاتا ہے چناں چہ لوگ ہمیں مڑ مڑ کر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں‘ چھٹی چیز ہم بہت اونچی آواز میں بات کرتے ہیں‘ ہماری سرگوشی بھی دائیں بائیں موجود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے‘ ساتویں چیز اللہ تعالیٰ جب ہمیں خوش حال بنا دیتا ہے تو بھی ہم کنجوسی نہیں چھوڑتے‘

مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے ہم اپنے اوپر پیسہ خرچ کرنا شاید حرام سمجھتے ہیں اور ہم کسی دوسری دنیا کے لیے کماتے چلے جارہے ہیں‘ مجھے اپنے زیادہ تر لوگ ایسے کھلاڑی محسوس ہوتے ہیں جو میچ ختم ہونے کے بعد بھی کھیلتے رہتے ہیں اور کھیلتے کھیلتے دم توڑ جاتے ہیں‘ ہمیں شاید آج تک کسی نے نہیں بتایا ہمیں کتنی دولت چاہیے اور زندگی کے کس موڑ پر پہنچ کر ہمیں کام بند کر دینا چاہیے اور آٹھویں چیز ہم سنتے نہیں ہیں اور اگر سنتے ہیں تو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘

ہم سوال کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں اور اگر سوال کریں گے تو بھی سرگوشی میں اور دائیں دیکھ کر کان میں پوچھیں گے۔ہمارا گروپ مراکو میں کاسابلانکا‘ مراکش‘ فاس (فیص)‘ شفشان‘ طنجہ اور رباط گیا‘ یہ مراکو میں میرا چھٹا وزٹ تھا‘ میں 2007ء میں پہلی بار مراکش آیا تھا‘ میں نے ان 15 برسوں میں مراکو میں بے شمار تبدیلیاں دیکھیں‘ پہلی تبدیلی سیاحتی انڈسٹری میں مسلسل اضافہ ہے‘

دنیا جہاں سے ہر سال دو کروڑ لوگ مراکو آتے ہیں‘ یورپ سے روزانہ سو سے زائد فلائیٹس آتی ہیں‘ آپ کسی شہر میں نکل جائیں آپ کو وہاں گورے گھومتے نظر آئیں گے‘ مراکو اسلامی ملک ہے‘ مسجدیں اور مدرسے آباد ہیں‘ خواتین برقعوں میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور حجاب میں بھی لیکن اس کے باوجود یورپ سے کروڑوں لوگ آتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ مراکشی لوگ سیاحوں کی قدر کرتے ہیں‘

انہیں تنگ نہیں کرتے‘ سوسائٹی مذہبی ہونے کے باوجود لبرل ہے‘ خواتین موبائل فون سے قرآن مجید سنتی رہتی ہیں اور جہاں میوزک بجتا ہے‘ یہ وہاں ناچ بھی لیتی ہیں‘ امام اور علماء کرام تک ثقافتی ناچ کے ایکسپرٹ ہیں‘ مساجد اور شراب خانے دونوںآباد ہیں‘ حمام‘ مساج اور ریستوران پورے ملک میں عام ہیں‘ مراکشی کھانے بہت لذیذ اور صحت بخش ہوتے ہیں‘ لوگ مہمان نواز اور ویل کمنگ ہیں‘

سیاحوں کی سیفٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ سیاح اگر پولیس بلائے تو مقامی لوگوں کے لیے جان چھڑانا مشکل ہو جائے گا‘ مراکو کے گھر بہت شان دار اور خوب صورت ہوتے ہیں‘ یہ گھر کو ریاد کہتے ہیں‘ ان کے گھر باہر سے عام اور بے توجہ سے محسوس ہوتے ہیں‘ دروازہ بھی چھوٹا اور غریبانہ ہوتا ہے لیکن آپ جوں ہی اندرداخل ہوتے ہیں تو آپ کے منہ سے بے اختیار واہ نکل جاتا ہے‘

یہ لوگ صحن میں انگور‘مالٹے اور انار کے پودے لگاتے ہیں‘ پودوں کے درمیان میںفوارہ ہوتا ہے اور گھر کی تمام کھڑکیاں اور دروازے صحن میں کھلتے ہیں‘ یہ آرکی ٹیکچر مراکو سے سپین اور سپین سے اٹلی گیا‘ مسجدوں کے مینار چوکور ہوتے ہیں اور صحنوں میں فوارے ہوتے ہیں‘ عمارتوں میں نیلے اور سفید رنگ کے موزیک لگائے جاتے ہیں‘ پورے مراکو میں سفید اورنیلا رنگ ڈامی نیٹ کرتا ہے تاہم مراکش شہر پنک ہے‘

اس کی تمام عمارتیں نارنجی کلر کی ہیں‘ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ہوٹل‘ گیسٹ ہائوسز اور ریسٹ ہائوسز ہیں‘ صحارا ان کا صحرائی علاقہ ہے‘ اس میں بھی ٹینٹ سٹی آباد ہیں‘ خواتین خوب صورت‘ صفائی پسند اور سلیقہ شعار ہیں‘ یہ خاوند کی بادشاہ کی طرح خدمت کرتی ہیں چناں چہ مرد دائیں بائیں دیکھنے کی بھی غلطی نہیں کرتے‘ خواتین ہر شعبے میں نظر آتی ہیں

یہاں تک کہ مسجدوں کی صفائی کا کام بھی عورتیں سرانجام دیتی ہیں‘ لوگ شام کے وقت تیار ہو کر صاف ستھرے کپڑے پہن کر خاندان کے ساتھ باہر نکل جاتے ہیں‘ کھاتے پیتے ہیں اور پھر رات گئے واپس آتے ہیں‘ مساج اور سٹیم باتھ عبادت کی حیثیت رکھتا ہے اور آپ اگر غلطی سے کسی سے راستہ پوچھ لیں تو وہ دس منٹ آپ کا حال اور احوال پوچھے گا‘ پھر آپ اور آپ کے خاندان کو ڈھیروں دعائیں دے گا اور آخر میں بڑی عاجزی سے جواب دے گا معاف کرنا میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔



زیرو پوائنٹ

تیونس تمام

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎