پانی ناک تک پہنچ چکا ہے

  جمعرات‬‮ 13 جنوری‬‮ 2022  |  0:01

ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے مری میں سات اور آٹھ جنوری کی درمیانی رات سٹیٹ اور معاشرہ دونوں فیل ہو گئے تھے‘ آپ ریاست کی حالت دیکھیے‘ محکمہ موسمیات نے پانچ جنوری کو مری سے مالم جبہ تک شدید برف باری کی پیش گوئی بھی کر دی تھی اور یہ وارننگ بھی دے دی تھی 9 جنوری تک تمام رابطہ سڑکیں بند رہ سکتی ہیں‘ سیاحوں کو بھی احتیاط کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن کسی

سرکاری محکمے نے سرکاری محکمے کی رپورٹ کو سیریس نہیں لیا‘ پوری حکومت جانتی ہے مری میں تین ساڑھے تین ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے‘ ٹریفک پولیس نے چار جنوری کو اطلاع دے دی تھی شہر میں گنجائش سے زیادہ گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں‘ مزید سیاحوں کو روکیں‘ مری ٹریفک پولیس کے ترجمان اور ٹریفک وارڈن شفیق نے مجھے بھی ویڈیو بھجوائی تھی جس میں وہ برف میں کھڑے ہو کر بتا رہے ہیں ’’ہیوی سنول فال شروع ہو چکی ہے‘ سیاحوں کا بہت رش ہے‘ پلیز مزید لوگ نہ آئیں‘ ٹریفک جیم ہو جائے گی‘‘ لیکن عین اس وقت وزیر اطلاعات فواد چودھری ٹویٹ کے ذریعے دنیا کو بتا رہے تھے ’’مری میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں‘ ہوٹلوں اور اقامت گاہوں کے کرائے کئی گنا اوپر چلے گئے ہیں‘ سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوش حالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے‘‘وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی سات جنوری کوپولیس انتظامیہ اورریسکیو ٹیمز کو مثالی انتظامات اور کام یابی پر شاباش دے دی جب کہ عین اس وقت مری میں انسانی المیہ جنم لے رہا تھا‘ میں مری کا آدھا شہری ہوں‘ میں مقامی لوگوں کے ہاتھوں سیاحوں کے لٹنے کے سیکڑوں واقعات کا عینی شاہد ہوں‘ ٹھیکے دار ہوں یا ریستورانوں اور ہوٹلز کے مالکان ہوں یہ انتہائی خوف ناک‘ موقع پرست اور سفاک لوگ ہیں‘ یہ بچوں کے دودھ تک پر سیاحوں کو بلیک میل کرتے ہیں‘ آپ نے اگر غلطی سے کسی جگہ گاڑی کھڑی کر دی یا آپ نے کسی ہوٹل ایجنٹ سے کمرے کا ریٹ پوچھ لیا تو پھر آپ کو ہر صورت پیسے دینا ہوں گے ورنہ یہ آپ کو آپ کی فیملی کے سامنے ذلیل کر دیں گے اور سارا بازار دانت نکال کر ہنسے گا‘ یہ بات بات پر روڈ بھی بند کر دیتے ہیں‘ حکومت جب بھی رش کی وجہ سے ایکسپریس وے بند کرتی ہے‘ یہ مظاہرے شروع کردیتے ہیںاور حکومت ان کے سامنے لیٹ جاتی ہے‘ یہ دوسری طرف پورے پورے جنگل کاٹ کر کھا گئے ہیں‘مری ان کے ہاتھوں گنجا ہو چکا ہے‘ آپ جدھر دیکھیں آپ کو فلیٹس ہی فلیٹس نظر آئیں گے اور یہ تمام عمارتیں اس شہر کی کچی پہاڑیوں پر بنی ہیں جہاں انگریز نے دو سو سال پہلے کنکریٹ کی عمارتوں اور پہاڑوں کو چھیڑنے پر پابندی لگائی تھی‘ انگریز لکھ گیا تھا کنکریٹ کی عمارتیں ذرا سی لمبی بارش یا زلزلے کا جھٹکا برداشت نہیں کر سکیں گی لیکن آج مری میں کوئی قانون موجود نہیں‘ نہ تعمیرات کا اور نہ سیاحوں کے حقوق کے تحفظ کا‘ یہ لوٹ کھسوٹ اور بدتمیزی کی دلدل بن چکا ہے ۔

میں ایشو کی طرف واپس آتا ہوں‘ مری میں ہر برف باری سے پہلے برف ہٹانے کی مشینری سڑکوں پر کھڑی کر دی جاتی تھی‘ مختلف مقامات پر نمک کا ذخیرہ بھی کر دیا جاتا ہے جوں ہی برف باری شروع ہوتی تھی مشینیں اپنا کام شروع کر دیتی تھیں‘ یہ ساتھ ساتھ برف بھی ہٹاتی رہتی تھیں کیوں کہ اگر ایک بار برف پڑ جائے تو پھر مشینیں بھی وہاں نہیں پہنچائی جا سکتیں اور برف بھی صاف نہیں کی

جا سکتی لیکن اس بار مشینیں سنی بینک کے ڈپو میں کھڑی رہ گئیں‘ نمک بھی کاغذوں ہی میں خریدا گیا اور کاغذوں ہی میں سڑکوں پر پھینکا گیا چناں چہ پھر کیا ہوا؟ ’’خوش حالی‘‘ کی وجہ سے ایک لاکھ 62 ہزار گاڑیاںشہر میں داخل ہو گئیں‘ ٹریفک جام ہو گئی‘ ہوٹلوں میں ٹوٹل کمرے دو سے تین ہزار ہیں اور لوگ چار لاکھ پہنچ گئے‘ہوٹلوں نے ریٹس پچاس سے ستر ہزار فی کمرہ کر دیے

لہٰذا لوگ خاندانوں سمیت گاڑیوں میں محصور ہو گئے لیکن حکومت عوام کی خوش حالی اور مثالی انتظامات پر بیوروکریسی کو مبارک باد پیش کر رہی تھی اور انتظامیہ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کو موسم انجوائے کر رہی تھی اور یہ صورت حال مری کے مافیاز کے لیے آئیڈیل تھی لہٰذا انہوں نے دل کھول کر سیاحوں کو لوٹنا کھسوٹنا شروع کر دیا‘ ابلا ہوا انڈہ پانچ سو

روپے کا ہو گیا‘ چائے کا کپ چھ سو روپے‘ پانی کی بوتل آٹھ سو روپے سے ہزار روپے‘ گاڑی کو دھکا لگانے کا ریٹ تین ہزار روپے اور چین کا ریٹ سات سے دس ہزار روپے ہو گیا‘ مقامی لوگوں نے جیپوں سے پٹرول کے کین تک اتار لیے‘ خواتین کے ساتھ بدتمیزی بھی کی اور روتے بلکتے بچوں کے ساتھ مذاق بھی ‘ یہ سیاحوں سے راستہ بتانے کے پیسے بھی مانگتے رہے لہٰذا پھر لوگوں کے پاس گاڑیوں میں پناہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اور یہ گاڑیاں آخر میں ان کے لیے گیس چیمبر ثابت ہوئیں۔

آپ یہاں یہ بھی یاد رکھیں مری ایک سرکاری ہل سٹیشن ہے‘ یہاں تمام بڑے چھوٹے محکموں کے ریسٹ ہائوسز بھی ہیں اور دفاتر بھی‘یہاں آرمی‘ نیوی اور ائیرفورس کے سینٹرز بھی ہیں اور ایک بڑی چھائونی بھی‘ حکومت نے 8 جنوری کو بھی فوج کے ذریعے ہی یہ کرائسیس مینج کیا تھا‘ پاک فوج کے جوانوں نے ہی آخر میں لوگوں کو خوراک‘ ادویات اور کمبل پہنچائے تھے اور راستے کھولے تھے

لہٰذا ریاست کے پاس جب مری میں وسائل بھی موجود تھے اور افرادی قوت بھی تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ قوت اور یہ وسائل اگر ایک دن یا ایک رات پہلے استعمال ہو جاتے تو کیا ہم 23 لوگوں کی جان نہیں بچاسکتے تھے؟ یہ سوال ہی اب بے وقوفی محسوس ہوتا ہے‘ ہم ایک گورکن قوم بن چکے ہیں جس کے پاس لاشیں دفن کرنے‘ رونے دھونے اور لواحقین کے لیے امدادی رقم کے اعلان کے سوا کوئی کام نہیں‘

آپ حد ملاحظہ کریں‘ آپ کے سامنے شہر میں ایک لاکھ 62 ہزار گاڑیاں ہیں‘ تیس ہزار گاڑیاں سڑکوں میں برف میں پھنسی ہوئی ہیں اور ریاست گھر میں بیٹھی ہے‘ کیا اس سے بڑا کوئی سٹیٹ فیلیئر ہو سکتا ہے؟ کیا اس سے بھی بڑی کوئی بے حسی ہو سکتی ہے؟ ریاست کو اگر لوگوں کی ذرا برابر بھی پروا ہوتی‘ حکومت اگر واقعی انسانوں کی حکومت ہوتی تو یہ معاملات کو اس نوبت تک نہ جانے دیتی

اور یہ اگر ہو بھی گیا تھا تو یہ سات اورآٹھ جنوری کی درمیانی رات ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے مری کے تمام ہوٹلز‘ ریسٹ ہائوسز اور پرائیویٹ گھر قبضے میں لے لیتی اور لوگوں کو گاڑیوں سے نکال کر ان میں ٹھہرا دیتی‘ لوئر ٹوپہ اور کلڈنہ میں جہاں لوگ گاڑیوں میں مر رہے تھے وہاں دیواروں کی دوسری طرف ریاست تھی لیکن اس رات کسی کے دل میں رحم آیا اور نہ ہی احساس‘ آپ اہلیت کا معیار بھی

دیکھ لیجیے‘ ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن سرکار کے کسی ادارے‘ کسی سرکاری سقراط‘ بقراط کو یہ تک پتا نہیں تھا سائیلنسر کے سامنے برف اکٹھی ہو جائے تو گاڑی میں کاربن مونو آکسائیڈ جمع ہو جاتی ہے اور لوگ مر جاتے ہیں‘ ملک میں ہر سال دم گھٹنے سے سیکڑوں لوگ مرتے ہیں لیکن ہم آج تک عوام کو ’’دم گھٹنے‘‘ کی وجوہات نہیں بتا سکے‘ سوال یہ ہے اگر حکومت کو خود پتا ہو گا تو یہ کسی کو بتائے گی!ہمیں ماننا ہوگا ہم نے ملک کو حماقتوں اور نااہلیوں کا بازار بنا دیا ہے‘ ہم اسے خود فیل سٹیٹ بنا رہے ہیں‘

ملک میں ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جاتا ہے اور دنیا حیرت اور وحشت سے ہماری طرف دیکھنے لگتی ہے‘ ہم نے سیالکوٹ میں سری لنکن انجینئر مار دیا‘ دنیا پر سکتہ طاری ہو گیا لیکن ہم نے اس سانحے کے بعد بھی کسی قسم کے انڈسٹریل ایس او پیز نہیں بنائے‘ ہم نے مذہبی اتنہا پسندی کا راستہ روکنے کا بندوبست نہیں کیا‘ اس سے پہلے ٹی ایل پی نے چھ پولیس اہلکار مار دیے تھے

اور پورا ہفتہ جی ٹی روڈ بند رہا تھا‘ ریاست کو بالآخر مظاہرین کے سامنے ہتھیار بھی ڈالنا پڑے‘ ان کی شرائط پر معاہدہ بھی کرنا پڑا اور تمام ملزمان کو باعزت بری بھی کرنا پڑا‘ دنیا نے یہ تماشا بھی دیکھا اور اب مری کا سانحہ بھی پوری دنیا کے میڈیا میں نشر ہوا‘ پوپ فرانسس تک نے مرحومین کے لیے دعا کرائی‘ دنیا کا خیال ہے لوگ برف میں جم کر فوت ہو گئے لیکن ہم نے جب انہیں بتایا یہ واقعہ کاربن مونو آکسائیڈ کی وجہ سے پیش آیا تو دنیا مزید پریشان ہو گئی کیوں کہ ان کا خیال تھا ہم ایٹمی قوت ہیں‘

ہم کم از کم سائیلنسر کی سائنس تو جانتے ہوں گے۔ہمیں اب جاگنا ہوگا‘ ہم بہت پیچھے چلے گئے ہیں‘ ملک میں مذہبی جنونیت بھی ہے اور عوام بھی انتہائی بے ہنر اور ان ٹرینڈ ہیں‘ یہ چلنے پھرنے‘ گاڑی چلانے اور کچرا ٹھکانے لگانے تک کا طریقہ نہیں جانتے‘ یہ سوزوکی گاڑی میں سلیپروں میں برف میں پہنچ جاتے ہیں‘ حکومت بھی نااہلی‘ ناتجربہ کاری اور تکبر کا خوف ناک آملیٹ ہے‘ یہ لوگ سننے اور سمجھنے دونوں قسم کی صلاحیتوں سے محروم ہیں اور پیچھے رہ گئی ریاست تو یہ

محکمہ موسمیات کے الرٹ کو بھی سنجیدہ نہیں لیتی‘ یہ برف ہٹانے کی مشینری سنی بینک کے ڈپو میں کھڑی کر کے برف انجوائے کرتی رہتی ہے‘ عوام ساری رات گاڑیوں میں مرتے رہتے ہیں اور یہ گیٹ بند کر کے آرڈر کا انتظار کرتی رہتی ہے چناں چہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا ہم نے یہ ملک چلانا ہے یا پھر ہم نے اس کے خاتمے کا اعلان کرنا ہے لہٰذا پلیز جاگ جائیں‘ پانی ناک تک پہنچ چکا ہے‘ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎