ہمیں رک کر سوچنا ہو گا

  منگل‬‮ 23 مارچ‬‮ 2021  |  0:01

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں‘ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے جنرل سیکرٹری ہیں‘ یہ 2013ءمیں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے‘ شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں مواصلات کے وفاقی وزیر رہے اور 2018ءمیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے۔حافظ عبدالکریم نے 11مارچ کو پریس کانفرنس کر کے الزام لگایا تھا مجھے فون کر کے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا حکم دیا جا رہا ہے‘ حافظ صاحب کے انکشاف پر مریم نواز‘ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے میڈیا میں شدید احتجاج کیا تھا۔

حافظ عبدالکریم اس نعرہ مستانہ کے باوجود مشکوک لوگوں کی فہرست میں شامل تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی ان کے ووٹ پر نظر رکھنا چاہتی تھی‘ حافظ

صاحب نے اتوار 21 مارچ کو مجھ سے رابطہ کیا اور اپنی پوزیشن کلیئر کرتے ہوئے بتایا ”پی ڈی ایم کے تمام سینیٹرز کو 12 مارچ دو بجے کمیٹی روم نمبر دو میں جمع کیا گیا تھا‘ ہم وہاں بیٹھے تھے‘ ہمیں اچانک بتایا گیا پاکستان مسلم لیگ ن کے تمام سینیٹرز اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے چیمبر میں جمع ہو جائیں‘ ہم وہاں پہنچ گئے‘ ‘حافظ عبدالکریم نے تصدیق کی ‘رانا مقبول کو اسی کمرے میں میز ٹوٹنے کی وجہ سے چوٹ لگی تھی‘ حافظ صاحب کے بقول ”چیمبر کے ساتھ چھوٹا کمرہ ہے‘ ہم سب کو کہا گیا آپ ایک ایک کر کے اس کمرے میں آ جائیں‘ ہم سب سینیٹرز باری باری اس کمرے میں جاتے تھے‘ کمرے میں پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے وزیر سعید غنی اور یوسف رضا گیلانی کے صاحب زادے قاسم گیلانی موجود تھے‘ ان کے پاس ہمارے ووٹوں کی فوٹو کاپیاں تھیں‘ ہر سینیٹر کی دو کاپیاں تھیں‘ ان پر باقاعدہ سینیٹر کا نام لکھا تھا‘ میں جب ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے میرے نام کی کاپی نکالی‘ میرے سامنے رکھی اور مجھے کہا‘ حافظ صاحب آپ نے خانے میں اس جگہ مہر لگانی ہے‘ مہر لگانے والی جگہ پر باقاعدہ نشان لگا تھا‘ مجھے اس کے بعد بتایا گیا‘ آپ نے ووٹ اس طرح دہرا کرنا ہے اور پھر اس طرح باکس میں ڈال دینا ہے۔

مجھے ایک کاپی دے دی گئی اور دوسری کاپی سعید غنی اور قاسم گیلانی نے اپنے پاس رکھ لی“ میں نے حافظ صاحب سے پوچھا ”کیا یہ کاپیاں اصل تھیں“ وہ بولے ”نہیں یہ ڈمی کاپیاں تھیں اور ہمیں ان کے ذریعے ووٹ دینے کا طریقہ بتایا جا رہا تھا“ میں نے پوچھا ”پیپلز پارٹی کے لوگ ایک کاپی اپنے پاس کیوں رکھ رہے تھے“ وہ ہنس کر بولے ”تاکہ یہ بعدازاں ہمارے ووٹ کو کاپی کے ساتھ میچ کر کے تصدیق کر سکیں‘ ہم نے واقعی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا “ میں نے ان سے پوچھا ”کیا پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگوں نے مختلف لوگوں کو مختلف جگہوں پر مہر لگانے کی ہدایت کی تھی“۔

حافظ صاحب نے جواب دیا ”میں زیادہ لوگوں کو نہیں جانتا لیکن مجھے خانے میں ایک خاص جگہ پر مہر لگانے کا کہا گیا تھا‘ سینیٹر عابدہ محمد عظیم میرے ساتھ بیٹھتی ہیں‘ یہ بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں‘ مجھے انہوں نے بتایا‘ پیپلز پارٹی نے مجھے رضا پر مہر لگانے کا کہا تھا اور میں نے رضا کے نیچے مہر لگا دی‘ میں یہ بات اپنی پارٹی کے لوگوں کے نوٹس میں لے کر آیا تو پھر پتا چلا پیپلز پارٹی نے اس قسم کی ہدایات مختلف لوگوں کو دی تھیں چناں چہ 12 مارچ کو جو بھی ہوا پاکستان پیپلز پارٹی کی مرضی سے ہوا اور یہ براہ راست اس کے ذمہ دار ہیں“ ۔

میں نے ان سے پوچھا ”کیا پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو جان بوجھ کر ہروایا“ حافظ صاحب کا جواب تھا ”میں اس سلسلے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن یہ حقیقت ہے مہریں پیپلز پارٹی کی مرضی سے لگی تھیں‘ ہمارے پاس 49 ووٹ تھے اور یہ سارے ووٹ یوسف رضا گیلانی ہی کو پڑے“ میں نے ان سے پوچھا ”مولاناعبدالغفور حیدری کو دس ووٹ کیوں کم پڑے؟“ حافظ عبدالکریم کا جواب تھا ”شاید جے یو آئی نے الیکشن کے لیے کمپیئن نہیں کی تھی اور دوسرا ہم جب چیئرمین کا الیکشن ہار گئے تو شاید ارکان ڈی مورلائزڈ ہو گئے اور انہوں نے مولانا عبدالغفور حیدری کو ووٹ نہیں دیا“۔

میں نے ان سے حلف کی تصدیق کی‘ ان کا جواب تھا ”آپ کی یہ بات درست ہے‘ ہم سب نے چیئرمین کے الیکشن سے ایک رات قبل شاہد خاقان عباسی کے گھر میں حلف اٹھایا تھا کہ ہم صبح یوسف رضا گیلانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ووٹ دیں گے“۔یہ سینیٹر حافظ عبدالکریم کا ورژن ہے‘ یہ اس کے ذریعے یہ کلیئر کرنا چاہتے تھے انہوں نے رضا پر مہر نہیں لگائی بلکہ خانے میں لگائی اور انہیں یہ ہدایت علی حیدر گیلانی کی بجائے قاسم گیلانی اور سعید غنی نے دی تھی اور یہ ہدایات پاکستان مسلم لیگ ن کے تمام سینیٹرز کو الگ الگ دی گئی تھیں۔

پیپلز پارٹی نے ان کے ووٹوں کا باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھا تھا لہٰذا یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ پارٹی کی مرضی سے ضائع ہوئے تھے‘ میں حافظ عبدالکریم کے ورژن کی عزت کرتا ہوں‘ ان کی تمام باتیں درست ہوں گی لیکن آپ اس کے ساتھ ساتھ افسوس کا عالم بھی ملاحظہ کیجیے‘ ہماری ریاست‘ ہماری حکومت اور ہماری اپوزیشن جماعتیں کر کیا رہی ہیں؟ ملک کی تینوں بڑی پارٹیاں اپنی مرضی کے لوگوں کو ٹکٹ دیتی ہیں‘ انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں لاتی ہیں لیکن پھر اعتبار اور اعتماد کا یہ عالم ہوتا ہے یہ ہر الیکشن سے پہلے ان سے حلف لیتی ہیں اور ارکان حلف کے باوجود اپنا ووٹ دوسرے امیدوار کو دے دیتے ہیں۔

آپ تین مارچ کا جنرل الیکشن دیکھ لیں‘ پاکستان تحریک انصاف کے 17 ایم این ایز نے حلف کے باوجود یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا اور 12 مارچ کو ایک سینیٹر نے دونوں امیدواروں پر مہر لگا کر جان بوجھ کر اپنا ووٹ ضائع کر دیا اور اپوزیشن کے پانچ سینیٹرز نے حلف کے باوجود مولانا عبدالغفور حیدری کی بجائے مرزا محمد آفریدی کو ووٹ دے دیا‘ سوال یہ ہے یہ لوگ اگر اس قدر بے اعتبار اور کم زور کردار کے حامل ہیں تو پھر آپ ان لوگوں کو ملک کے مقدس ترین ایوان میں لے کر کیوں آتے ہیں اور یہ لوگ اگر جینوئن ہیں تو پھر آپ ان سے بار بار خفیہ حلف کیوں لیتے ہیں اور آپ انہیں ووٹ پر نشان لگا کر یہ کیوں بتاتے ہیں آپ نے کس جگہ مہر لگا کر ووٹ کو کس طرح تہہ کرنا ہے؟

آپ حکومت کو بھی دیکھ لیجیے‘ اس نے پچھلے دو ماہ میں سینیٹ کے الیکشن کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا‘ یہ اب بھی یوسف رضا گیلانی کا راستہ روکنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی اور آپ ریاست کو بھی دیکھ لیجیے‘ یہ بھی سارا سارا دن حکومت بچانے اور حکومت چلانے میں مصروف ہے‘ یہ ایم این اے اکٹھے کر رہی ہے‘ سینیٹرز توڑ رہی ہے‘ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھیر رہی ہے اور یہ جلسے روک اور کروا رہی ہے لہٰذا ملک اللہ کے آسرے پر چل رہا ہے۔

آپ کسی دن ریاست‘ حکومت اور اپوزیشن کی کارکردگی کا جائزہ لے لیں‘ دنیا سوا سال سے کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے‘ دنیا بھر میں ویکسین کے تجربات ہو رہے تھے لیکن ہم نے سوا سال میں ویکسین بنانا تو دور ویکسین لگانے کا بندوبست بھی نہیں کیا‘ امریکا 38ملین‘ برطانیہ25 ملین اور یورپ اپنی آدھی آبادی کو ویکسین لگا چکا ہے‘ چین نے چارماہ میں کورونا کا ایپی سنٹر ووہان کلیئر کر دیا تھا لیکن ہمارے ملک میں اب تک ویکسین کی صرف 15لاکھ خوراکیں آئی ہیں اور ہم یہ بھی عوام کو لگا نہیں پا رہے جب کہ باقی 21کروڑ اور85لاکھ لوگوں کے لیے ابھی تک ویکسین کا بندوبست ہی نہیں ہوا۔

آپ پورے ملک کو چھوڑ دیجیے ‘آپ صرف وفاقی دارالحکومت کو لے لیجیے‘ اسلام آباد کی آبادی 11لاکھ ہے‘ ہم اب تک اس شہر کے ایک فیصد لوگوں کو بھی ویکسین نہیں لگا پائے‘ ہم اگر قوم ہوتے تو ہم اپنے سو دو سو سائنس دانوں یا ویکسین ایکسپرٹس کو باہر بھجوا دیتے‘ ہم پاکستان کی دس پندرہ فارماسوٹیکل کمپنیوں کو گلوبل کمپنیوں کے ساتھ جوڑ کر ملک میں ویکسین بنانا شروع کر دیتے یوں ہم اپنے عوام کو بھی ویکسین دے دیتے اور ایکسپورٹ بھی کرتے‘ دنیا اپنے آدھے لوگوں کو ویکسین لگا چکی ہے لیکن ہم نے دو دن قبل پرائیویٹ امپورٹ کی اجازت دی اور اتوار کو اس کی مارکیٹ پرائس طے کی۔

کیا ہم یہ کام جنوری یا فروری میں نہیں کر سکتے تھے؟ کیا ہم روس اور چین کے ساتھ مل کر پاکستان میں ویکسین نہیں بنا سکتے تھے؟ یہ کام اگر انڈیا میں ہو سکتاہے اور یہ اگر اپنے لوگوں کو بھی ویکسین لگا سکتا ہے اور یہ اگر اس کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ بھی کر سکتا ہے تو ہمیں بہرحال رک کر یہ سوچنا ہوگا ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے تھے؟ دوسرا پوری دنیا نے اپنے اپنے ملکوں میں ”ایس او پیز“ نافذ کر لیے لیکن آپ کو اس ملک میں پارلیمنٹ ہاﺅس‘ مسجدوں‘ بازاروں حتیٰ کہ ہسپتالوں میں بھی ماسک نظر نہیں آتے۔

ہم آج بھی ہاتھ صاف نہیں کرتے‘ ہمارے وزیراعظم مارچ 2021 میں کورونا کا شکار ہونے والے واحد حکمران ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ دنیا اس سے بہت آگے نکل چکی ہے‘ ہمارے وزیراعظم نے ویکسین بھی 18مارچ کولگوائی اور یوں یہ ویکسین لگوانے والے حکمرانوں میں بھی سب سے پیچھے ہیں‘ یہ ہو کیا رہا ہے اس ملک میں؟ آپ خود سوچیے جب پورا ملک اپنی انجینئرنگ کی صلاحیتوں کو سینیٹ کے الیکشنز اور پی ڈی ایم کو توڑنے میں لگا دے گا تو پھر کورونا کے خلاف جنگ کون لڑے گا؟ ویکسین اور ایس او پیز کا بندوبست کون کرے گا؟ ہمیں بہرحال رکنا پڑے گا اور پھر سوچنا پڑے گا‘ ہم کیوں آج بنگلہ دیش اور افغانستان کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں‘ ہم آخر مزید کہاں پہنچنا چاہتے ہیں‘ ہم آخر کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ہمیں بہرحال رک کر یہ سوچنا ہوگا۔


زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎