اوئے مختاریا

  جمعرات‬‮ 2 اپریل‬‮ 2020  |  0:01

تھیلیسیمیا دنیا کے خوف ناک ترین امراض میں شامل ہے‘ یہ مرض اللہ جس کو لگا دے اس بے چارے کی زندگی پھر زندگی نہیں رہتی‘ تھیلیسیمیا کے مریض عموماً بچے ہوتے ہیں‘ یہ دوسروں کے خون کے محتاج ہوتے ہیں‘ مہینے میں انہیں کم از کم خون کی چار بوتلیں لگتی ہیں اور خون کہاں سے آتا ہے؟ ڈونرز دیتے ہیں‘ این جی اوز یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جاتی ہیں‘ لوگوں سے خون کی اپیل کرتی ہیں‘ خون جمع ہوتا ہے اور سکریننگ کے بعد مریض بچوں کو لگا دیا جاتا ہے۔

بچوں کو اگر خون نہ ملے تو بے چارے سسک سسک کر مر جاتے ہیں‘ پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کا شکار ہیں‘ یہ بری طرح دوسروں کے خون کے محتاج


ہیں‘ تھیلیسیمیاکے بچے نوول کرونا کا پہلا شکار ثابت ہوئے‘ ملک میں لاک ڈاؤن ہوااور سوسائٹی کا سائیکل ٹوٹ گیا‘ خون دینے اور خون جمع کرنے والے دونوں گھروں میں محصور ہو گئے چناں چہ لاکھ بچے سسکنے لگے‘ بچوں کے لواحقین اس وقت حکومت‘ این جی اوز اور عام لوگوں کی منتیں کر رہے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا بندوبست نہیں ہو رہا‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں تھیلیسیمیا کے بچوں کو فریش بلڈ لگایا جاتا ہے‘ لوگ خون دیتے ہیں اوریہ خون بچوں کو لگا دیا جاتا ہے‘ لاک ڈاؤن میں ظاہر ہے یہ ممکن نہیں رہتا چناں چہ اللہ رحم کرے ہم کرونا کے ہاتھوں بچ پاتے ہیں یا نہیں لیکن یہ طے ہے اگر لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوتا تو یہ بچے خدانخواستہ دنیا میں نہیں رہیں گے‘ تھیلیسیمیا کی ادویات بھی مارکیٹ سے ختم ہو چکی ہیں‘ یہ بیرون ملک سے آتی ہیں اور فضائی اور زمینی راستوں کی بندش کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ چکی ہے چناں چہ یہ بچے اب کیا کریں گے؟ دوسرا سوال یہ بچے کس کی ذمہ داری ہیں؟ کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہیں؟ میں سو فیصد ریاست کو ذمہ دار سمجھتا ہوں‘ ریاست نے کبھی ان بچوں کو اپنا بچہ نہیں سمجھا‘ حکومت نے آج تک ان کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی تھی۔

میری حکومت سے درخواست ہے یہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو کسی محکمے کے حوالے کر دے‘ یہ بے شک انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جھولی میں ڈال دے‘ کرکٹ بورڈ ہی ان کے لیے کوئی پالیسی بنا دے‘ یہ ان کے لیے خون کی سپلائی چین بنا دے‘ یہ والنٹیئرز ڈاکٹر لے اور ایس او پیز بنا دے تاکہ ملک میں اگر مستقبل میں کبھی کرفیو لگے گا یا لاک ڈاؤن ہو تو بھی ان بچوں تک فریش خون پہنچتا رہے گا‘ خواہ یہ وزیراعظم کے طیارے کے ذریعے بھجوایاجائے یا پھر چیف جسٹس آف پاکستان کی گاڑی میں لیکن تھیلیسیمیا کا کوئی بچہ خون کی کمی کا شکار نہیں ہوناچاہیے‘ ہم اگر کرونا کے اس لاک ڈاؤن کے دوران یہ ہی سیکھ لیں تو کمال ہو جائے گا‘ کرونا ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا کر ہی جائے گا۔

ہم اگر کرونا کو ایک ”نیشنل اپارچیونٹی“ سمجھ لیں تو آپ یقین کریں یہ بحران ہمیں قوم بنانے کے لیے کافی ہو گا‘ یہ ہمارے تمام سسٹم اپ گریڈ کر دے گا مثلاً ہمارے پاس سنہری موقع ہے ہم پاکستان کے تمام شہریوں کو ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے ساتھ جوڑ دیں‘ ملک کا جو بھی شہری ڈاکٹر یا کیمسٹ کے پاس جائے یہ ایک کلک کے ساتھ اس کی میڈیکل ہسٹری بناتے چلے جائیں یوں پورے ملک کا میڈیکل ڈیٹا نادرا کے پاس آ جائے گا اور ملک میں جب بھی مستقبل میں کوئی وبا‘ کوئی آفت آئے گی تو ریاست کو پتا ہو گا یہ وبا کس شہر کے کس مریض کو متاثر کر سکتی ہے اور یوں ریاست اسے بروقت مطلع کر دے گی۔

پاکستان آج سے ہر قسم کی ادویات اور میڈیکل آلات بنانا شروع کر دے‘ وینٹی لیٹر بہت مہنگا ہوتا ہے‘ پوری دنیا میں سال میں صرف 63 ہزار وینٹی لیٹرز بنتے ہیں‘ ہمارے پورے ملک میں ہزار بارہ سو سے زائد وینٹی لیٹرز نہیں ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا ہم یہ ملک میں نہیں بنا سکتے؟ ہم بنا سکتے ہیں بس حکومت نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی‘ یہ آج توجہ دے دے‘ سرمایہ کاروں کو ٹیکس میں رعایتیں دے‘ بینک انہیں کم سود پر قرضہ دے دیں اور ملک میں وینٹی لیٹرز بننا شروع ہو جائیں یوں قیمت بھی کم ہو جائے گی اور ہم وینٹی لیٹرز ایکسپورٹ کر کے سرمایہ بھی کمائیں گے۔

ہم اگر جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک بنا سکتے ہیں تو ہم وینٹی لیٹرز کیوں نہیں بنا سکتے؟ ہم اسی طرح ای سی جی‘ ایم آر آئی اورسی ٹی سکین کی مشینیں بھی پاکستان میں بنائیں‘ ہم باہر سے ایکسپرٹس منگوائیں‘ یہ ہمارے لوگوں کو ٹرینڈ کر دیں اور ہم اپنی ضرورت کے مطابق سکیننگ مشینیں بنا لیں‘ حکومت ادویات سازی میں بھی فارما سوٹیکل کمپنیوں کو سہولت دے‘ یہ کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ مہنگی اور کم دستیاب ادویات پاکستان میں بن سکیں۔

ہم کم از کم ادویات اور طبی آلات میں تو خودکفیل ہو جائیں‘ ہم اس ضمن میں کیوبا کی مثال لے سکتے ہیں‘ کیوبا غریب ملکوں میں شمار ہوتا ہے لیکن فیڈل کاسترو نے کمیونزم اور پابندیوں کے باوجود کیوبا کو ہیلتھ سسٹم میں دنیا کا بہترین ملک بنا دیا‘ میڈیکل کالجز سے لے کر ہسپتالوں تک اور ڈاکٹرز سے لے کر طبی آلات تک کیوبن ہیلتھ سسٹم دنیا کا بہترین سسٹم ہے اور یہ وہ ملک ہے امریکا نے جس کے تمام ڈاکٹرز کو امیگریشن دے دی تھی اور کیوبا کے تمام ڈاکٹرزامریکا دوڑ گئے تھے۔

ہسپتالوں میں زخمیوں کی پٹی کرنے والا بھی نہیں بچا تھا لیکن فیڈل کاسترو نے دس سال میں کیوبا کو ہیلتھ سروسز میں نمایاں مقام دلا دیا‘ ہم یہ کام کیوں نہیں کر سکتے‘ ہم کیوں ماسک اور ٹیسٹنگ کٹس کے لیے بھی دوسرے ملکوں کے محتاج ہیں؟ وزیراعظم کو چاہیے یہ ملک کو کم از کم ہیلتھ سروسز میں تو سپر پاور بنا دیں اور یہ بڑی آسانی سے یہ کام کر سکتے ہیں اور ہم نے لاک ڈاؤن کے درمیان محسوس کیا عوام کے دل سے ریاست کا خوف ختم ہو چکا ہے۔

یہ اپنی زندگی کے لیے بھی حکومت کی وارننگ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ حکومت کو یہ رٹ دوبارہ بحال کرنی ہو گی‘ حکومت فیصلہ کر لے ہم نے ریاست کو ریاست بنانا ہے‘ ریاست جب کوئی اعلان کرے گی تو پھر اس پر عمل بھی ہو گا اور کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کو اسے توڑنے کی اجازت نہیں ہو گی‘ وزیراعظم بھی نظر آئے گا تو یہ بھی دھر لیا جائے گا‘ حکومت یہ فیصلہ کر لے یہ اپنی رٹ دوبارہ قائم کرے گی‘ یہ کیا بات ہوئی حکومت نے لاک ڈاؤن کیا اور پورے ملک میں لوگ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مارکیٹیں بھی کھلی ہیں اور لوگ بھی آ جا رہے ہیں‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ کیا یہ ریاست نہیں اوراگر ہے تو کیا یہ ایسی ہوتی ہے؟ملک میں اس وقت 114میڈیکل کالجز ہیں‘ ہم اگر ہر میڈیکل کالج میں دو سو طالب علم لگا لیں تو یہ22 ہزار 8 سوطالب علم بن جاتے ہیں‘ حکومت ان کے سلیبس میں تھوڑی سی ترمیم کر دے‘ میڈیکل کالج تمام طالب علموں کو پہلے چھ ماہ صرف ایمرجنسی کی ٹریننگ دیں‘ یہ اگر ٹرینڈ ہو جائیں تو انہیں سٹوڈنٹ سمجھا جائے ورنہ انہیں ڈراپ کر دیا جائے۔

یہ طالب علم ہنگامی حالات میں ہسپتالوں کی ”ورک فورس“ بن جائیں‘ یہ جتنا عرصہ ایمرجنسی ڈیوٹی دیں وہ عرصہ ان کی ہاؤس جاب کا حصہ سمجھا جائے‘ یہ سکیم ہنگامی حالات میں طبی عملے کی کمی پوری کر دے گی‘ حکومت والنٹیئر فورس کو بھی مستقل کر دے‘ لوگ خود کو اس میں رجسٹر کرتے رہیں اور حکومت انہیں مختلف قسم کے آن لائین کورسز کراتی رہے‘ یہ لوگ بھی کرونا جیسی صورت حال میں ملک کے لیے اثاثہ ثابت ہوں گے اور آخری تجویز ہم نے لاک ڈاؤن کے دوران دیکھ لیا ہم کس قسم کی غیرمہذب‘ بے عقل اور نادان قوم ہیں۔

حکومت کو چاہیے یہ نیشن بلڈنگ کا کوئی محکمہ بنائے اور یہ محکمہ قوم کی تربیت کرے‘ ہم نے اگر قوم کو قطار میں کھڑا ہونے‘ ہاتھ دھونے اور کپڑے جوتے پہننے کی تمیز ہی سکھا دی تو ہم ترقی کی سڑک پر آ جائیں گے لیکن بدقسمتی سے یہ معمولی سا کام بھی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں‘ ہمارے پاس اس کے لیے بھی انرجی اور وقت نہیں۔آپ نے سوشل میڈیا پر ندیم افضل چن کی اپنے منیجر مختار سے گفتگو سنی ہو گی‘ وہ بات بظاہر عجیب محسوس ہوتی ہے لیکن وہ حقیقت تھی۔

پاکستان میں کرونا واقعی بہت زیادہ ہے‘ راولپنڈی کے کمشنر نے پچھلے ہفتے بتایا تھا صرف راولپنڈی ڈویژن میں 15 ہزار مریض ہیں‘ آپ باقی ملک کا اندازہ خود کر لیجیے‘یہ بھی اب ثابت ہو رہا ہے حکومت نے جان بوجھ کر ٹیسٹنگ کٹس لیٹ منگوائی تھیں‘ اس کی وجہ خوف تھا‘ حکومت کا خیال تھا ٹیسٹنگ کٹس آ گئیں تو لوگ ٹیسٹ کرائیں گے‘ مریضوں کی تعداد ہزاروں میں چلی جائے گی اور یوں ملک میں افراتفری ہو جائے گی‘ لیبارٹریاں بھی نتائج آہستہ آہستہ دے رہی ہیں۔

اس کی وجہ بھی ملک کو پینک سے بچانا ہے اور دوسرا ہمارے پاس وینٹی لیٹرز نہیں ہیں‘ اگر ملک میں پانچ ہزار مریض نکل آئے تو ہمارا سارا سسٹم بیٹھ جائے گا‘ حکومت اس وجہ سے ”گوسلو“ پالیسی پر کام کر رہی ہے لہٰذا میری عوام سے درخواست ہے آپ اپنی حفاظت خود کریں‘ آپ کے دروازے سے باہر کرونا ہے‘یہ شکار تلاش کر رہا ہے‘ آپ اس سے بچ کر رہیں‘ ندیم افضل چن نے مختار کو ٹھیک بتایا تھا‘ آپ بھی روز صبح اٹھ کر خود کو مختار سمجھیں اور خود کو کہیں اوئے مختاریا۔۔۔۔