غبارے پھاڑنے کے علاوہ

  منگل‬‮ 11 فروری‬‮ 2020  |  0:01

ہم اسحاق ڈار کی تازہ سیاسی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ پہلے حصے میں 2013ءسے 2017ءتک چار سال آتے ہیں اور دوسرادوراکتوبر2017ءسے آج تک پر محیط ہے‘ مجھے آج یہ اعتراف کرتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے ہم ڈار صاحب کو پہلے حصے میں پاکستان کا ولن سمجھتے تھے‘ ہم نے انہیں اسحاق ڈالر بھی کہا‘ منشی بھی کہا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا خطاب بھی دیا لیکن یہ جوں ہی پاکستان سے ”فرار“ ہوئے یہ ہر آنے والے دن میں ہیرو بنتے چلے جا رہے ہیں۔

حکومت کی ہر معاشی حماقت اسحاق ڈار کو مضبوط سے مضبوط کرتی چلی جا رہی ہے اور وقت یہ ثابت کرتا جا رہا ہے پاکستان کی معیشت کو اگر کوئی شخص سمجھتا تھا تو اس کا


نام اسحاق ڈار ہے‘ ہمیں آج ماننا پڑے گا یہ اسحاق ڈار کا کمال تھا ڈالر103روپے پر مستحکم تھا‘ شرح سودساڑھے چھ فیصدتھی‘ مہنگائی5.8فیصد تھی‘ ٹیکس کی آمدنی 1900ارب روپے سے 3800 ارب روپے تک پہنچ گئی تھی‘ بجلی اور گیس کے نرخ بھی کم تھے اور گروتھ ریٹ 5.8فیصد تھا اور ملک میں دھڑا دھڑ معاشی سرگرمیاں بھی چل رہی تھی‘ بجلی کے ساڑھے دس ہزارمیگاواٹ کے پراجیکٹ بھی لگے‘ قطر سے ایل این جی منگوا کر گیس بھی پوری کر دی گئی‘ پنجاب میں تین میٹروز بھی بنیں‘ پورے ملک کو موٹرویز سے بھی جوڑ دیا گیا‘ سی پیک بھی شروع ہو گیا اورڈیموں پر بھی کام ہونے لگا چناں چہ ہم جتنے بھی مخالف ہو جائیں‘ ہم جتنے بھی بغض اور نفرت سے بھر جائیں ہمیں دل پر پتھر رکھ کر یہ ماننا پڑے گا یہ ملک اسحاق ڈار کے زمانے میں ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اور یہ ترقی بھی کر رہا تھالیکن جوں ہی یہ وزارت خزانہ کی کرسی سے اٹھے ملک کو ریورس گیئر لگ گیا‘ شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے‘ یہ ن لیگ ہی کا دور تھا لیکن ڈالر 115روپے پر چلاگیااور پھر رہی سہی کسر عمران خان کی حکومت نے پوری کر دی‘ ڈالر آج 155روپے ہے‘ ملک میں سولہ ماہ میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہوا لیکن معیشت کا جنازہ نکل گیا‘ منہگائی 15فیصد تک پہنچ گئی۔

آٹا اور چینی غائب ہے‘ خوراک کی اشیاء78 فیصد تک منہگی ہو چکی ہیں‘ وزیر اعظم اپنے منہ سے فرما رہے ہیں ”میری تنخواہ میں میرا گزارہ نہیں ہوتا“ پارلیمنٹ کے اندر دہائی دی جا رہی ہے‘ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں‘ لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں اور بازار ٹھنڈے پڑ گئے ہیں‘ ملک کے معاشی حالات جتنے خراب ہو رہے ہیں لوگوں کو اتنا اسحاق ڈار یادآ رہے ہیں اور لوگ اب سرعام یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں ”آپ اسحاق ڈار کو لے آئیں ملک واپس اپنے ٹریک پر آ جائے گا“ چناں چہ ہمیں آج یہ ماننا ہو گا حکومت کی نااہلی نے کل کے ولن اسحاق ڈار کو آج کا ہیرو بنا دیا‘ لوگ اب انہیں یاد بھی کر رہے ہیں اور” اسحاق ڈار کو واپس لاﺅ “ کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔

اسحاق ڈار 1988ءسے گلبرک لاہور میں رہائش پذیر ہیں‘ یہ اکتوبر2017ءمیں ملک سے باہر چلے گئے‘ حکومت نے ان کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا مقدمہ بنا دیا‘ یہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے لہٰذاحتساب عدالت نے14 دسمبر 2017ءکو ان کی جائیدادقرق کرنے حکم دے دیا‘ دو اکتوبر 2018ءکو احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی گاڑیاں اور اثاثے نیلام کرنے کا حکم بھی سنا دیا‘ اسحاق ڈار نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے ”سٹے آرڈر“ لے لیا تاہم حکومت باز نہ آئی اور اس نے 7فروری کو اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کر دیااور وہاں بے گھر اور نادار لوگ آباد کر دیے۔

حکومت کے اس فیصلے کے دو پہلو ہو سکتے ہیں‘ اسحاق ڈار مفرور اور اشتہاری ہیں لہٰذا حکومت نے بطور سزا ان کے گھر میں بے آسرا اور بے گھر لوگوں کو آباد کر دیا‘ یہ نیکی کا کام ہے اور اس نیکی میں عمران خان اور عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ اسحاق ڈار کو بھی ثواب ملتا رہے گا وغیرہ وغیرہ‘ ہم اگر اس دلیل کو مان لیں تو پھر صرف اکیلے اسحاق ڈار مفرور نہیں ہیں‘ جنرل پرویز مشرف‘ الطاف حسین‘ شوکت عزیز اور جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی بھی مفرور ہیں اور عدالتوں نے انہیں بھی اشتہاری قرار دے رکھا ہے چناں چہ پھر حکومت نیکی کے اس کام میں ان مفروروں کو بھی شامل کر لے۔

ملک میں جنرل پرویز مشرف کے پانچ گھر ہیں‘ الطاف حسین کی خفیہ اور ظاہری جائیدادیں بھی پورے کراچی میں بکھری ہوئی ہیں‘ شوکت عزیز بھی وسیع پراپرٹی کے مالک ہیں‘ پولیس فاﺅنڈیشن میں بھی ان کے نام پر پلاٹس موجود ہیں اور کامران کیانی کی جائیداد اور کارنامے بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں لہٰذا حکومت ان کے گھروں کو بھی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دے‘ آپ یہ گھر بھی بے آسرا اور بے سہارا لوگوں کے لیے کھول دیں‘ یہ تمام مفرور بھی بیمار ہیں اور انہیں بھی غریبوں اور ناداروں کی دعائیں چاہییں۔

لوگ انہیں بھی جھولی پھیلا کر دعائیں دیں تاکہ یہ بھی دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکیں‘ دوسرا پہلو حکومت انتہائی غریب لوگوں کو بڑے گھروں میں ٹھہرا کر دو کی بجائے ایک پاکستان بنانا چاہتی ہے‘ یہ سپرٹ بھی بہت اچھی ہے لیکن یہ سلسلہ بھی صرف اسحاق ڈار تک کیوں محدود رکھا جائے‘ وزیراعظم مہربانی فرما کر اپنے گھر اور اپنے وزراءاور دوستوں کے گھروں کو بھی اس کار خیر میں شامل کر لیں‘ وزیراعظم کے پاس بنی گالا میں تین سو کنال زمین موجود ہے۔

یہ صرف دو میاں بیوی ہیں‘ دونوں درویش بھی ہیں اور ریاست مدینہ جیسی زندگی بھی گزارنا چاہتے ہیں چناں چہ یہ دو کنال اپنے پاس رکھیں اور باقی 298 کنال پر پناہ گاہیں تعمیر کرا دیں‘ جہانگیر ترین بھی چار پانچ سو مربع زمین کے مالک ہیں‘ ان کے کھاتے سے ساڑھے اٹھارہ ہزار ایکڑ سرکاری زمین نکل آئی تھی‘ ان کے نام پر بجلی کے 90میٹر ہیں‘ وزیراعظم ان کی آدھی زمین بھی پناہ گاہوں کے لیے وقف کر دیں‘ شاہ محمود قریشی پاکستان کے بڑے گدی نشینوں میں شامل ہیں۔

ان کے مرید کروڑوں میں ہیں‘ یہ ملتان کے بڑے جاگیردار بھی ہیں‘ وزیراعظم ان کی آدھی زمین بھی پناہ گاہوں میں دے دیں‘ وزیراعظم صرف خسرو بختیار اور محمد میاں سومروکی زمینوں کا تخمینہ بھی لگا لیں اور یہ اعظم سواتی‘ غلام سرور اور فہمیدہ مرزاکے اثاثے بھی دیکھ لیں‘ یہ لوگ کھرب پتی ہیں‘ وزیراعظم ان کے گھر اور جائیدادیں بھی پناہ گاہوں کے لیے وقف کر دیں اور وزیراعظم اپنے مشیروں اور دوستوں کا ڈیٹا بھی دیکھ لیں‘ ان کے اردگرد اس وقت درجنوں ارب پتی ہیں۔

عبدالرزاق داﺅد ملک کا آدھا قرض ادا کر سکتے ہیں‘ اکرام سہگل اور عمران چودھری کی جائیدادیں بھی دو چار لاکھ بے گھروں کے لیے کافی ہوں گی چناں چہ وزیراعظم ان تمام لوگوں کو بھی نیکی کے اس کام میں شامل کر لیں اور یہ انہیں بھی بے گھروں کا سفیر بنا دیں‘ حکومت تمام نیکیاں صرف اسحاق ڈار کی جھولی میں کیوں ڈالنا چاہتی ہے‘ یہ اگر احتساب میں ایک پاکستان نہیں بنا سکے تو یہ لوگ کم از کم پنا گاہوں کے ایشو پر تو ”دو نہیں ایک پاکستان“ بنا سکتے ہیں‘ یہ کیسی نیکی اور یہ بے گھروں کے ساتھ کیسی مہربانی ہے حکومت کو پورے ملک میں صرف ایک مفرور ملا ‘حکومت نے بائیس کروڑ لوگوں میں صرف اسحاق ڈار کو اس فیاضی اس مہربانی کے قابل سمجھا ! کیوں؟ آخر کیوں؟۔

ہمیں ماننا ہوگا حکومت احتساب کی مکمل ناکامی کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے اور یہ اب مخالفوں کے سائیکل کی ہوا نکالنے پر جت گئی ہے‘ احتساب کا عمل میاں نواز شریف سے شروع ہوا تھا لیکن حکومت 300 ارب روپے کی کرپشن سے ایک پیسہ وصول نہیں کر سکی‘ یہ ایون فیلڈ کے فلیٹس بھی حاصل نہیں کر سکی اور یہ میاں نواز شریف کو جیل میں بھی بند نہیں رکھ سکی‘ یہ لندن بیٹھے ہیں اور یہ 2023ءکے انتخابات سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔

میاں شہباز شریف‘ مریم نواز‘ حمزہ شہباز‘ راناثناءاللہ اور مفتاح اسماعیل بھی رہا ہو چکے ہیں‘ خواجہ سعد رفیق‘ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال بچے ہیں‘ یہ بھی فروری کے مہینے میں اپنے گھروں میں ہوں گے‘ آصف علی زرداری بھی اپنے گھر میں ہیں‘ فریال تالپوربھی گھر پہنچ چکی ہیں اور فواد حسن فواد بھی گھر جا چکے ہیں اور احد چیمہ بھی مارچ سے پہلے اپنے گھر میں ہوں گے لہٰذایہ حقیقت ہے حکومت کا احتساب بری طرح ناکام ہو گیا‘ پیچھے بچی تھی تبدیلی تو عوام اٹھارہ ماہ میں تبدیلی کا ذائقہ چکھ کر تھک چکے ہیں۔

حکومت نے اب تک تقریروں کے سوا کچھ نہیں کیا‘ ملک ایمان دار قیادت کے زیر سایہ تین درجے مزید کرپٹ ہو گیا چناں چہ حکومت نے ڈپریشن میں رسی پیٹنا شروع کر دی‘ یہ اب اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ بنا کر خوش ہو رہی ہے لیکن سوال یہ ہے اگر عوام اس کے بعد بھی مطمئن نہ ہوئے تو حکومت پھر کیا کرے گی؟ اس کے پاس کیا آپشن بچ جائے گا‘ میرا خیال ہے وزیراعظم کے پاس اس کے بعد چھروں کی رائفل سے غبارے پھاڑنے کے سواکوئی آپشن نہیں بچے گا۔

یہ وزیراعظم ہاﺅس عرف ریسرچ یونیورسٹی میں دھوپ میں بیٹھ کر غبارے پھاڑا کریں گے‘ حکومت کے 37 ترجمان اس عظیم کارنامے پر تالیاں بجایا کریں گے اور یوں یہ ایک اور شان دار دن گزار کر ریاست مدینہ سے بنی گالا تشریف لے جایا کریں گے‘ اللہ اللہ اور خیر صلا‘ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے!۔