ایک پاکستان وہ بھی تھا

  جمعہ‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2018  |  0:01

امریکا اور عالمی بینک کے ماہرین نے ہمیں 1960ءکی دہائی میں وارننگ دی آپ اگر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو آپ دس سال میں منگلا اور تربیلا جیسا ایک ڈیم ضرور بنائیں‘ ہم بھی اس حقیقت سے واقف تھے چنانچہ ہم نے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بجلی کے محکمے کو واپڈا میں شامل کر لیا‘ بجلی اس سے قبل آبپاشی کے محکمے کے ماتحت ہوتی تھی‘ ہم نے امریکا سے بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنیں بھی بچھوالیں‘ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی دنیا میں پاکستان اور جاپان صرف دو ملک ہیں جن میں نیشنل گرڈ سٹیشن ہیں اور پورا ملک بجلی کی ایک نیشنل ٹرانسمیشن لائین کے ساتھ منسلک ہے جبکہ باقی ملکوں میں بجلی کے چھوٹے چھوٹے پلانٹس ہیں اور

یہ پلانٹس صرف علاقے کی ضرورت پوری کرتے ہیں‘

ہم نے اس زمانے میں سوچا تھا ہم بجلی بیچ کر پرانے ڈیموں کی لاگت بھی پوری کرلیں گے اور نئے ڈیم بھی بنا ئیں گے‘ ہم نے ورلڈ بینک کی مدد سے منگلا‘ پھر کالاباغ اور پھر تربیلا ڈیم بنانا تھا‘ ہمارے انجینئرز نے اس دوران ٹرینڈ ہو جانا تھا اور ہم نے اس کے بعد ہر دس سال میں دیامر بھاشا جیسا کوئی نہ کوئی بڑا ڈیم بنانا تھا‘ کالاباغ ڈیم آسان تھا‘ کالاباغ دریائے سندھ پر ڈیم کےلئے آخری پوائنٹ ہے‘ اس کے بعد کراچی تک ڈیم نہیں بن سکتا‘ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں دریائے سندھ کا بالائی حصہ ڈیم کےلئے مناسب نہیں‘ دیامر بھاشا سے اوپر بڑا ڈیم نا ممکن ہے چنانچہ کالاباغ ہمارے انجینئرز کے سیکھنے کی آخری تجربہ گاہ تھا‘ ہم نے ورلڈ بینک کو پیشکش کی آپ صرف منگلا اور تربیلا بنا دیں کالاباغ ڈیم ہم خود بنا لیں گے چنانچہ امریکی کمپنیاں 1976ءمیں تربیلا ڈیم بنا کر چلی گئیں لیکن آپ بدقسمتی ملاحظہ کیجئے ہم 2018ءتک کالاباغ نہیں بنا سکے‘ کیوں؟ یہ ایک دکھی داستان ہے اور اس دکھی داستان میں ایک ایسی قوم کا المیہ چھپا ہے دنیا جس کی ترقی کی مثالیں دیا کرتی تھی لیکن پھرہمیں نظر لگ گئی‘ ملک ٹوٹا‘ صدارتی کی جگہ پارلیمانی نظام آیا‘ نالائق‘ مفاد پرست اور کم تعلیم یافتہ لوگ اسمبلیوں میں پہنچے‘ یہ لوگ حکومتوں کو بلیک میل کر کے وزیر بنے اور پھر کرپشن‘ اقرباءپروری اور نالائقی کا بازار گرم ہو گیا‘ حکومت نے کرپشن روکنے کےلئے پلاننگ کمیشن‘ ایف آئی اے‘ اینٹی کرپشن اور نیب جیسے ادارے بنائے‘ غلام فاروق اور غلام اسحاق خان جیسے ایماندار لوگوں کے اختیارات بورڈز کے پاس چلے گئے اور ترقیاتی منصوبوں کےلئے پی سی ون اور ٹھیکوں کےلئے تین کمپنیوں کی کوٹیشن ضروری قرار دے دی گئی‘ حکومتوں کا احتساب بھی شروع ہو گیا اور ہر احتساب میں کامران لاشاری جیسے بیورو کریٹس کی گرفتاریاں لازم ہو گئیں اور یوں کرپشن تو نہ رکی لیکن پورا ملک رک گیا‘ ہر چیز کا بیڑہ غرق ہو گیا۔

میں اس زوال میں واپڈا کو بھی قصوروار سمجھتا ہوں‘ امریکا نے1976ءتک واپڈا کے پانچ سو انجینئرز ٹرینڈ کئے تھے‘ یہ پانچ سو انجینئرز اگر دو ہزار انجینئرز کو ٹرینڈ کر دیتے تو آج واپڈا کے پاس ڈیم انجینئرز کی پوری فوج ہوتی لیکن یہ لوگ نوجوان انجینئرز کو ٹرینڈ کرنے کی بجائے اپنا علم اور مہارت قبرستان میں لے گئے‘ امریکیوں نے ہمیں علم سکھا دیا لیکن ہم نے وہ علم اپنی قوم تک ٹرانسفر نہیں ہونے دیا‘ دوسرا 1976ءتک جو فیصلے ایس ڈی او لیول تک ہوتے تھے وہ 2018ءمیں اتھارٹی کے دفتر تک آتے ہیں‘

ٹریکٹر کے ٹائر بدلنے کا فیصلہ بھی فائل میں درج ہوتا ہے اور یہ فائل سال بھر کا سفر طے کر کے اتھارٹی تک آتی ہے‘ بورڈ جب اس کی منظوری دیتا ہے تو پورا ٹریکٹر تباہ ہو چکا ہوتا ہے‘ اس دوران منصوبے پر کام بھی رکا رہتا ہے‘ آپ کمال ملاحظہ کیجئے جو اتھارٹی دیامر بھاشا کے ڈیزائن کی منظوری دیتی ہے‘ وہی اتھارٹی ٹریکٹروں کے پرزے خریدنے کی اجازت بھی دیتی ہے چنانچہ پھر کام کیسے ہو گا اور اگر ہو گا تو یہ وقت پر کیسے مکمل ہو گا؟ آپ اب کالا باغ ڈیم کی کہانی بھی سن لیجئے‘ 1984ءمیں کالاباغ ڈیم کا ڈیزائن مکمل نہیں ہوا تھا‘

ڈیزائن بنانے والی کمپنی کو پتہ چلا نوشہرہ شہر میں 1929ءمیں خوفناک سیلاب آیا تھا‘ کمپنی نے 1929ءکے سیلاب کی اونچائی کا تخمینہ لگانے کےلئے شہر میں نشان لگائے‘ افواہ پھیل گئی کالاباغ ڈیم کی وجہ سے نوشہرہ شہر میں نشان زدہ مقامات تک پانی بھر جائے گا‘ شہر میں سراسیمگی پھیل گئی‘ سیاسی جماعتیں آگے آئیں اور انہوں نے اس سراسیمگی کو اپنا سیاسی منشور بنا لیا‘ کسی نے اس دوران یہ بھی مشہور کر دیا کالاباغ کی وجہ سے سندھ کے حصے کا پانی کم ہو جائے گا اور سمندر کا کھارا پانی سندھ کی زمینوں پر چڑھ جائے گا‘

جاگیردار بھی درمیان میں کود پڑے اور یو ںیہ منصوبہ 1984ءمیں کھٹائی میں پڑگیا‘ اس دوران امریکیوں کے ٹرینڈ پانچ سو انجینئرز بوڑھے‘ ریٹائر اور فوت ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ ہمارے پاس آج انمیں سے ایک بھی ڈیم انجینئر موجود نہیں‘ ہم اب مکمل طور پر غیر ملکیوں کے محتاج ہیں‘ ہم اگر وقت پر کالاباغ ڈیم بنا لیتے تو ملک میں پانی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا‘ ہم لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بھی بچ جاتے‘ ہمیں فرنس آئل اور گیس کے مہنگے پاور پلانٹس بھی نہ لگانا پڑتے‘ ہمیں تیس چالیس پیسے فی یونٹ بجلی بھی ملتی رہتی‘

ہمارے پاس اس وقت دو تین ہزار ٹرینڈ ڈیم انجینئرز بھی ہوتے اور ہم ملک میں دھڑا دھڑ ڈیم بھی بنا رہے ہوتے لیکن ہم اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارتے رہے اور ہمارے پاﺅں کٹتے چلے گئے۔میں یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں دنیا کے ہر ڈیم کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے‘ ڈیم عمر پوری کرنے کے بعد مٹی سے بھر جاتے ہیںاور یوں یہ پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی بنانے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں‘ دنیا میں ابھی تک ڈیموں سے مٹی کے مکمل اخراج کی کوئی ٹیکنالوجی نہیں آئی اور یہ اگر آ بھی گئی تو اس کی مالیت ڈیم کی کل قیمت کے برابر ہو گی اور پاکستان جیسے ملک یہ افورڈ نہیں کر سکیں گے‘ ہمارا منگلا اور تربیلا ڈیم اپنی مدت پوری کر چکے ہیں‘

یہ اب کسی بھی وقت تفریح گاہ بن جائیں گے جس کے بعد ملک میں پانی کا بحران بھی پیدا ہو جائے گا اور ہم سستی بجلی کی لگژری سے بھی محروم ہو جائیں گے تاہم یہ فائدہ ضرور ہوگا نوشہرہ اور سمندر کے قریب موجود زمینیں ضرور بچ جائیں گی لیکن لوگ پیاس اور قحط سے مر جائیں گے۔ہم اب موجودہ حکومت کے وژن کی طرف آتے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان نیک نیت اور مخلص ہیں لیکن ان کی ٹیم ملکی تاریخ کی ناتجربہ کار ترین اور نااہل ترین ٹیم ہے‘ حکومت اس وقت دو قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے‘

پہلی قسم مخلص لیکن ناتجربہ کار ہے‘ یہ لوگ ناتجربہ کاری میں حماقتوں کا انبار لگاتے چلے جا رہے ہیں‘ دوسری قسم تجربہ کار لیکن گھاگ لوگوں پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ پہلی ناتجربہ کار ٹیم کی ناکامی کا انتظار کر رہے ہیں‘ہم یہاں میاں نواز شریف اور عمران خان کے درمیان فرق بھی واضح کرتے چلیں‘ میاں نواز شریف چہرے سے سادہ لگتے ہیں لیکن ان کے فیصلے میچور ہوتے تھے جبکہ عمران خان شکل سے میچور محسوس ہوتے ہیں لیکن ان کے فیصلے انتہائی بچگانہ ہیں‘

مثلاً آپ ذلفی بخاری‘ عون چودھری اور مراد سعید کو لے لیجئے‘ ذلفی بخاری کو مشیر بنانا انتہائی ناپختہ فیصلہ ہے‘ عون چودھری کو عمران خان کی تقریب حلف برداری سے اگلے دن سیکورٹی رسک قرار دے کر وزیراعظم ہاﺅس سے نکال دیا گیا تھا یہ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیربنا دیئے گئے اور مراد سعیدبی ایس (آنرز) کے امتحانات میں گڑ بڑ کرتے پکڑے گئے تھے ‘ یہ وزیرمملکت برائے مواصلات بنا دیئے گئے‘وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نہ پڑھ سکتے ہیں‘ نہ لکھ سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں‘

یہ زندگی میں پٹواری اور ایس ایچ او کے تبادلے سے اوپر نہیں گئے تھے لیکن آپ نے انہیں چیف منسٹر بنا دیا‘ کیا یہ لوگ ملک کا مقدر بدلیں گے؟کیا یہ تیسری دنیا کے اس پسماندہ ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں لائیں گے؟میں اس کے باوجود ڈرتے ڈرتے حکومت کو ایک چھوٹا سا مشورہ دینا چاہتا ہوں‘ میرا خیال ہے حکومت اگر اس پر توجہ دے تو ہم 1970ءکی گلوری کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔پاکستان نے انتہائی غربت‘ نامساعد حالات اور جہالت کے باوجود تین ورلڈ ریکارڈ قائم کئے ہیں‘

ہم نے ایٹم بم بنایا‘ ہم نے دنیا کے دو بڑے ڈیم اور بہترین نہری نظام بنایا اور ہم نے دنیا کی بہادر ترین فوج بنائی‘ حکومت ماہرین کی تین ٹیمیں بنائے‘ ان ٹیموں میں ریٹائر بیورو کریٹس اور جنرلز کو شامل کرے اور یہ ٹیمیں ریسرچ کریں ہم نے یہ تین کارنامے کیسے سرانجام دیئے تھے‘ ہم نے معمولی وسائل کے ساتھ ایٹم بم کیسے بنا لیا تھا‘ ہم نے ڈیم اور نہری نظام کیسے بنایا تھا اور ہم معمولی تنخواہوں کے ساتھ اتنی بڑی فوج کیسے افورڈ کر رہے ہیں اور یہ فوج اتنی ماہر اور بہادر کیوں ہے؟

آپ وجوہات تلاش کریں اور پھر ملک کے تمام ترقیاتی اداروں میں وہ سپرٹ‘ وہ قوانین نافذ کر دیں‘ ہم اپنی گلوری کی طرف واپس آ جائیں گے‘ حکومت کو اب یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا ملک میں احتساب پہلے ہو گا یا پھر ترقیاتی کام‘ امریکا میں کرپشن کے نوے فیصد میگا سکینڈل دوسری جنگ عظیم کے بعد‘ چین میں 1990ءسے 2005ءکے دوران اور بھارت میں من موہن سنگھ کے 10برسوں میں سامنے آئے تھے‘ کیوں؟ کیونکہ ان تینوں ادوار میں کھربوں ڈالر کے ترقیاتی کام ہوئے تھے‘

بھارت ان 10برسوں میں شائننگ انڈیا‘ چین دنیا کی صنعتی سپر پاور اور امریکا تاریخ کی پہلی سپر پاور بنا تھا‘ ہم بھی اگر اپنے معاشی‘ صنعتی اور ترقیاتی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے اداروں کی ساخت اٹامک انرجی کمیشن جیسی بنانی ہو گی‘ ہمیں ان اداروں کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی‘ نیب‘ ایف آئی اے اور عدالتی نظام سے بچانا ہو گا ورنہ ہم اسی طرح دائروں میں چکر لگالگا کر دم توڑ جائیں گے۔آپ یقین کیجئے ملک میں اگر 1960ءاور 1970ءکی دہائی میں سوموٹو نوٹس‘ نیب کے ریفرنس‘ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اور ایف آئی اے ہوتی تو پاکستان آج ایٹمی طاقت ہوتا اور نہ ہی ہم دنیا کے دو بڑے ڈیم بنا پاتے اور غلام اسحاق خان ‘ غلام فاروق اور ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے محسن بھی جیلوں میں مرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں