ایک کالم دوسری بار

  اتوار‬‮ 30 جولائی‬‮ 2017  |  0:01

نوٹ:میں نے یہ کالم 29 نومبر 2016ء کو لکھا تھا‘آنے والے دنوں میں یہ کالم حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا‘آپ یہ کالم مہربانی فرما کر دوبارہ ملاحظہ کریں۔۔۔جنرل آصف نواز جنجوعہ آرمی چیف تھے‘ وہ 1992ء کے اگست میں امریکا کے سرکاری دورے پر گئے‘وہ امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر اور وزیر دفاع ڈک چینی سے ملنا چاہتے تھے لیکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کی ملاقات تیسرے درجے کے انڈر سیکرٹری آرنلڈ کینٹور سے

طے کر دی تاہم ڈک چینی ملنے کیلئے تیار ہوگئے‘ آرمی چیف پاکستانی سفیر عابدہ حسین کے ساتھ انڈر سیکرٹری سے ملاقات کیلئے گئے تو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ پر دونوں کو تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا‘ جنرل آصف نواز اس سلوک پر خفا ہو گئے‘ سفیر نے بڑی مشکل سے انہیں یقین دلایا‘ یہ امریکا میں معمول ہے‘ یہ لوگ تمام لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں لیکن جنرل نے اسے اپنی توہین سمجھا‘ یہ لوگ لفٹ کے ذریعے انڈر سیکرٹری کے دفتر پہنچے‘ مہمانوں کا استقبال ایک سابق سفیر نے کیا‘ یہ انہیں انڈر سیکرٹری کے پاس لے گئی‘ کینٹور نے ٹھنڈے انداز سے ان کا استقبال کیا‘ جنرل آصف نواز اور سفیر عابدہ حسین کو صوفے پر بٹھا دیا اور خود کرسی پر بیٹھا رہا‘ گفتگو شروع ہونے سے پہلے خلاف توقع سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بجلی چلی گئی‘ انڈر سیکرٹری نے دراز سے ٹارچ نکالی اور وہ اسے میز پر سیٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا‘ وہ ناکام ہو گیا تو جنرل آصف نواز اپنی جگہ سے اٹھے‘ ٹارچ لی اور اسے میز پر درست زاویئے پر کھڑا کر دیا‘ انڈر سیکرٹری نے اس کے بعد پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام اور دہشت گردی پر سوال اٹھائے اور یوں یہ ملاقات چائے اور کافی کے بغیر ختم ہو گئی‘ سفیر اور آرمی چیف اس کے بعد پینٹا گان گئے‘ پینٹا گان میں آرمی چیف کے ساتھی جنرل سردار علی کو ویٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا اور سفیر اور آرمی چیف کو ڈک چینی کے پاس لے

جایا گیا‘ جنرل آصف نواز نے ڈک چینی کو افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی‘ ڈک چینی سنتے رہے‘ جب آرمی چیف خاموش ہوئے تو ڈک چینی نے کہا ”کیا میں جنرل کے ساتھ تنہائی میں بات کر سکتا ہوں“ جنرل آصف نواز نے سفیر عابدہ حسین کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا‘ سفیر باہر آ گئیں‘ چند منٹ بعد دروازہ کھلا اور ڈک چینی اور جنرل آصف نواز باہر

آ گئے‘ عابدہ حسین کے بقول”جنرل آصف کافی خوش دکھائی دے رہے تھے“ سفیر نے اس رات آرمی چیف کو اپنی رہائش گاہ پر ڈنر دے رکھا تھا‘

ڈنر کے بعد آصف نواز نے عابدہ حسین سے پوچھا ”کیا آپ اندازہ کر سکتی ہیں‘ ڈک چینی نے مجھ سے کیا کہا ہو گا“ عابدہ حسین نے اپنی کتاب ”پاور فیلیئر“ میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا‘ میں نے جواب دیا ”ڈک چینی نے آپ سے کہا ہو گا‘ فوج اگر حکومت پر قبضہ کر کے نیو کلیئر پروگرام کو ریڈ لائین سے پیچھے لے جائے تو ہم مارشل لاء پر خاموش رہیں گے“ عابدہ حسین کے بقول جنرل آصف نواز نے میری آبزرویشن کی داد دی اور کہا ”ہاں ڈک چینی نے مجھ سے یہی کہا تھا لیکن میں نے جواب دیا‘ فوج اقتدار پر قبضے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے“

جنرل نے اس کے بعد کہا ”لیکن نواز شریف ملک کیلئے ناگزیر نہیں ہیں اگر چند ارکان اسمبلی وفاداریاں بدل لیں تو وزیراعظم تبدیل ہو جائے گا جس سے ہمیں امریکیوں سے مہلت مل جائے گی“۔جنرل آصف نواز جنجوعہ پاکستان آئے اور فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات میں تیزی آ گئی‘ دسمبر 1992ء میں عابدہ حسین پاکستان آئیں‘ آرمی چیف نے انہیں فخر امام کے ساتھ ڈنر پر بلایا اوردونوں میاں بیوی کو بتایا ”میں نے میاں نواز شریف کو ہٹا کر بلخ شیر مزاری کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے“

یہ انکشاف حیران کن تھا‘ یہ دونوں خاموش رہے‘ نواز شریف اور آصف نواز کی یہ چپقلش بڑھتی رہی لیکن کسی حتمی نتیجے سے پہلے 8 جنوری 1993ء کو جنرل آصف نواز کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ انتقال کر گئے‘ حکومت نے اطمینان کا سانس لیا‘ جنرل آصف نواز کے بعد جنرل فرخ خان سینئر تھے‘ وہ چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ صدر اسحاق خان انہیں آرمی چیف بنانا چاہتے تھے لیکن میاں صاحبان کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف کو چیف بنوانا چاہتے تھے‘ صدر اور وزیراعظم کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے چنانچہ میاں شہباز شریف اور چودھری نثار نے عابدہ حسین کو واشنگٹن سے بلوایا اور انہیں جنرل اشرف کی لابنگ کیلئے صدر کے پاس بھجوا دیا لیکن صدر نے صاف جواب دے دیا‘

چودھری نثار بعد ازاں خود صدر کے ساتھ انگیج ہوئے اور دونوں جنرل عبدالوحید کاکڑ کے نام پر متفق ہو گئے‘ نیا آرمی چیف آ گیا لیکن صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات قائم رہے‘ یہ اختلافات اپریل 1993ء میں عروج پر پہنچ گئے‘ جنرل خالد مقبول اس وقت بریگیڈیئر تھے اور یہ امریکا میں ڈیفنس اتاشی تھے‘ عابدہ حسین نے ان سے کہا ”آپ امریکیوں سے ٹوہ لگاؤ‘ یہ اسلام آباد کے واقعات کو کیسے دیکھتے ہیں“ بریگیڈیئر خالد مقبول نے چند گھنٹے بعد سفیر کوبتایا ”حکومت کے پاس تین چار روز سے زیادہ وقت نہیں“

سفیر نے اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا‘ صدر غلام اسحاق خا ن نے18 اپریل کو حکومت برطرف کر دی‘ بلخ شیر مزاری کو نگران وزیراعظم بنا دیا گیا‘ نواز شریف سپریم کورٹ چلے گئے‘ سپریم کورٹ نے 26مئی1993ء کو حکومت بحال کر دی لیکن اس بار جنرل عبدالوحید کاکڑ آگے بڑھے اور انہوں نے غلام اسحاق خان اور نواز شریف دونوں کو فارغ کر دیا‘ الیکشن ہوئے‘ میاں نواز شریف الیکشن جیت رہے تھے لیکن یہ ہار گئے اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ آپ کمال دیکھئے‘

نواز شریف کو فارغ کرنے کا اشارہ ڈک چینی نے دیا تھا‘ بلخ شیر مزاری کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ جنرل آصف نواز نے کیا تھا‘ وہ انتقال کر گئے اور میاں برادران نے ان کی جگہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کو آرمی چیف بنوایا لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود میاں نواز شریف فارغ ہوئے اور بلخ شیر مزاری وزیراعظم بنے‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ ثابت کرتا ہے چہرے بدلنے سے فیصلے تبدیل نہیں ہوتے اور اگر سپریم کورٹ بھی فیصلوں کے راستے میں حائل ہو جائے تو بھی فیصلہ‘ فیصلہ رہتا ہے‘

آپ دیکھ لیجئے میاں نواز شریف کو اس وقت ہٹانے کا فیصلہ امریکا نے کیا تھا اور فوج نے اس فیصلے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی چنانچہ کرداروں کی تبدیلی کے باوجود وہی ہوا جس کا فیصلہ ہو چکا تھا اور اس فیصلے کو امپلی منٹ کرانے کیلئے وزیراعظم بھی امریکا نے فراہم کیا‘ صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل کاکڑ نے امریکا کی خواہش پر ورلڈ بینک کے ایک ریٹائر ملازم معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنا دیا‘ معین قریشی کو پاکستانی پاسپورٹ اور شیروانی اس وقت پیش کی گئی جب وہ وزارت عظمیٰ کا حلف لینے کیلئے خصوصی طیارے میں سوار ہو چکے تھے‘

معین قریشی نے الیکشن کرائے‘ میاں نواز شریف کواقتدار کے ایوانوں سے آؤٹ کیا‘ پاکستانی پاسپورٹ اور شیروانی واپس کی اور امریکا واپس لوٹ گئے۔آپ اگر آج کے حالات کا 1993ء کے واقعات سے تقابل کریں تو آپ کو ان میں مماثلت ملے گی‘ امریکا‘ پاکستان میں سول ملٹری اختلافات اور میاں نواز شریف مثلث کے تینوں زاویئے اپنی اپنی جگہ موجود ہیں‘ امریکا نواز شریف سے خوش بھی نہیں‘ کیوں؟ اس کی چند وجوہات ہیں‘ میاں نواز شریف 1990ء سے پاکستان کو سنٹرل ایشیا سے جوڑنا چاہتے ہیں‘

انہوں نے سنٹرل ایشیا کو پاکستان سے جوڑنے کیلئے 1990میں موٹروے کی بنیاد رکھی اور یہ 1997ء میں سنٹرل ایشیا کی ریاستوں سے معاہدے کرنے لگے‘ یہ آج بھی وہی ”غلطی“ کر رہے ہیں‘ یہ امریکا کے دونوں دشمنوں چین اور روس کو گوادر میں جمع کر رہے ہیں اور یہ امریکا کیلئے قابل قبول نہیں‘ دوسری وجہ سول ملٹری اختلافات ہیں‘ میاں نواز شریف فوج کے ساتھ اور فوج میاں نواز شریف کے ساتھ کبھی کمفرٹیبل نہیں رہی اور مستقبل میں بھی اس کا کوئی چانس نہیں‘ میاں نواز شریف کو ان کی قسمت مسلسل بچا رہی ہے‘

عمران خان نے دو نومبر کو ان پر کاری وار کرنا تھا لیکن آپ میاں نواز شریف کی قسمت ملاحظہ کیجئے‘ ملک کے ایک بزنس ٹائیکون عین وقت پر ان کی مدد کیلئے پہنچ گئے‘ اس بزنس ٹائیکون نے پہلے ستمبرمیں علامہ طاہر القادری کوراولپنڈی سے لاہور واپس بھجوا یا اور جب 9 اکتوبر کو شیخ رشید علامہ صاحب کو منانے کیلئے لندن جا رہے تھے تو بزنس ٹائیکون کا بیٹا شیخ رشید سے پہلے لندن پہنچ گیا اور اس نے علامہ صاحب کوکینیڈا بھجوا دیا‘ اس ساری افراتفری اور بھاگ دوڑ میں بزنس ٹائیکون کے ساڑھے آٹھ کروڑ روپے خرچ ہو گئے لیکن عمران خان اکیلے رہ گئے اور یہ دوسری مرتبہ بھی دس لاکھ لوگ جمع نہ کر سکے اور یوں میاں نواز شریف پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے‘

یہ بظاہر میاں نواز شریف کی خوش قسمتی ہے‘ یہ اب تک تمام میچ جیت گئے ہیں‘ آج جنرل قمر جاوید باجوہ بھی چارج لے رہے ہیں لیکن وہ سوال آج بھی قائم ہے‘کیا چارج تبدیل ہونے سے فیصلہ بھی تبدیل ہو جائے گا؟ شاید نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ یہ آصف نواز کی طرح فردواحد کا فیصلہ نہیں یہ مشترکہ فیصلہ ہے اور اس مشترکہ فیصلے میں بلخ شیر مزاری کی طرح ایک متبادل وزیراعظم بھی موجود ہے‘ ہم نے بس اب اتنا دیکھنا ہے کیا میاں نواز شریف مستقبل میں بھی اتنے ہی خوش نصیب ثابت ہوتے ہیں یا پھر ان کی قسمت کی ایکسپائری ڈیٹ آ چکی ہے اور یہ جاننے کیلئے اب زیادہ دن نہیں لگیں گے۔نوٹ: جنرل آصف نواز سے متعلق تمام واقعات سیدہ عابدہ حسین کی کتاب ”پاور فیلیئر“ سے لئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں