چانس

  اتوار‬‮ 20 ستمبر‬‮ 2015  |  0:01

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنئے‘ یہ ہالی ووڈ کے اعلیٰ ترین ایکٹرز میں شمار ہوتے ہیں‘ آپ اگر ان کی گھمبیر آواز کے زیرو بم‘ ان کے چہرے کے اتار چڑھاﺅ اور ان کی چال کی ڈھال سے واقف نہیں ہیں تو آپ ان کی فلمیں Street Smart, The Shawshank Redemption اور Invictus دیکھئے‘ آپ مورگن فری مین کے سحر میں میں مبتلا ہو جائیں گے‘ دنیا کے تمام اچھے اداکار خود کو کردار میں ڈھال لیتے ہیں‘ یہ بھکاری کا کردار ادا کرتے ہوئے بھکاری بن جاتے ہیں‘

بادشاہ کے کردار میں بادشاہ ہو جاتے ہیں اور عاشق کے کردار میں عاشق بن جاتے ہیں لیکن مورگن فری مین دنیا کے ان چند اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جو کردار کو اپنے اندر


اندر ڈھال لیتے ہیں اور وہ کردار چند لمحوں میں مورگن فری مین بن جاتا ہے‘ آپ مورگن فری مین کو کسی بھی کردار میں دیکھیں‘ مورگن آپ کو بھکاری‘ عاشق یا بادشاہ نہیں لگے گا‘ آپ مورگن کو مورگن ہی پائیں گے لیکن مورگن فری مین کی اداکاری اور ان کی فلمیں ہمارا موضوع نہیں‘ ہمارا موضوع ان کی زندگی کا وہ چھوٹا سا واقعہ ہے جس نے ایک عام سے غریب سیاہ فام بچے کو دنیا کا عظیم اداکار بنا دیا‘ یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں‘ یہ تقدیر‘ قسمت اور نصیب کی ایک ایسی تشریح ہے جس کی تلاش میں ہم دن رات مارے مارے پھرتے ہیں‘ آپ کو اس واقعے میں وہ سب کچھ مل جائے گا جس کی جستجو میں آپ کتابیں ادھیڑتے اور جوتے گھساتے رہتے ہیں‘ مورگن فری مین امریکی ریاست Tennessee کے شہر Memphis میں 1937ءمیں پیدا ہوئے‘ والدہ سکول ٹیچر تھی اور والد حجام۔ ان کے آباﺅ اجداد نائیجیریا سے غلام بن کر امریکا آئے تھے‘ یہ والدین کے چوتھے بچے تھے‘ گھر میں غربت اور بیماری بھی تھی اور گورے بھی سیاہ فام باشندوں سے نفرت کرتے تھے‘ والدین نے انہیں بچپن میں دادی کے پاس چارلس ٹاﺅن بھجوا دیا‘ ان کا پورا بچپن دادی‘ نانی اور والدین کے گھروں کے درمیان فٹ بال بن کر گزرا‘ یہ احساس کمتری کے مارے ہوئے ایک خاموش طبع بچے تھے‘

سکول میں بھی ان کے زیادہ دوست نہیں تھے‘ یہ اچھے سٹوڈنٹ بھی نہیں تھے‘ یہ میسی سپی (Mississippi) ریاست کے ٹاﺅن گرین ووڈ کے بورڈ سٹریٹ ہائی سکول میں پڑھتے تھے‘ ان کی عمر نو سال تھی‘ یہ کلاس میں بیٹھے تھے‘ استاد نے ان سے آگے بیٹھے بچے سے کوئی سوال پوچھا‘ وہ بچہ جواب دینے کےلئے کرسی سے اٹھا‘ جواب دیا اور کرسی پر واپس بیٹھنے لگا تو مورگن فری مین نے شرارتاً اس کی کرسی کھینچ لی‘ وہ بچہ فرش پر گر گیا‘ پوری کلاس ہنس پڑی‘ استاد سخت تھا‘ وہ چھڑی اٹھا کر مورگن فری مین کو مارنے کےلئے دورڑا‘ یہ ڈر گئے‘ یہ کرسی سے اٹھے اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی‘

استاد بھی پیچھے بھاگا لیکن یہ کلاس سے نکل گئے‘ یہ برآمدے میں دیوانہ وار دوڑنے لگے‘ یہ دوڑتے دوڑتے کسی سے ٹکرائے اور فرش پر گر گئے‘ یہ جس شخص سے ٹکرائے تھے اس نے انہیں اٹھایا‘ ان کے کپڑے جھاڑے اور ان سے پوچھا ” بیٹا آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں“ مورگن فری مین نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتا دی‘ اس شخص نے قہقہہ لگایا‘ ان کی انگلی پکڑی اور کوریڈور میں چلنا شروع کر دیا‘ وہ بھی استاد تھا لیکن وہ اس وقت قسمت کا دیوتا ثابت ہوا‘

وہ مورگن فری مین کا ہاتھ پکڑ کر انہیں سکول کے آڈیٹوریم میں لے آیا‘ ہال میں کسی ڈرامے کی ریہرسل چل رہی تھی‘ استاد نے ہال میں پہنچ کر تالی بجائی‘ ریہرسل میں مصروف بچوں اور بچیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور اونچی آواز میں اعلان کیا‘ آپ اپنی فوج کے نئے سپاہی سے ملئے‘ تمام بچوں نے تالیاں اور نعروں سے انہیں خوش آمدید کہا‘ وہ استاد اس کے بعد ان کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”آپ کا نام کیا ہے“ مورگن فری مین نے اپنا نام بتایا‘ استاد دوبارہ مسکرایا اور بولا ” آپ ایک پیدائشی ایکٹر ہیں‘

میں سکول میں تھیٹر کا استاد ہوں‘ ہم ایک ڈرامے کی ریہرسل کر رہے ہیں‘ آپ آج سے اس ڈرامے کا حصہ ہیں“ مورگن فری مین نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ” لیکن کیا میرے ٹیچر مجھے اس کی اجازت دے دیں گے“ استاد نے مسکرا کر جواب دیا ” یہ میرا مسئلہ ہے‘ میں استاد سے بات کر لوں گا“ مورگن فری مین نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ استاد انہیں لے کر پرنسپل کے پاس گیا‘ پرنسپل نے انہیں تھیٹر کلاس میں شفٹ کر دیا اور یوں کرسی کھینچنے کی ایک غلطی‘ ایک حرکت نے سیاہ فام نالائق طالب علم کو مورگن فری مین بنا دیا‘

وہ ڈرامے کاحصہ بنے‘ڈرامہ مکمل ہوا‘ سکول نے دیکھا‘ مورگن فری مین کی اداکاری پر تالیاں بجیں اور پھر رگن فری مین نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ہم اب مورگن فری مین کی کہانی کو چند لمحوں کےلئے یہاں روکتے ہیں اور پنجاب کے مشہور کردار راجہ رنجیت سنگھ کا ایک واقعہ لیتے ہیں‘ رنجیت سنگھ گوجرانوالہ کا رہنے والا تھا‘ یہ ایک عام سا شخص تھا‘ مغل کمزور ہوئے تو رنجیت سنگھ نے چھوٹی سی فوج بنائی اور مارتا دھاڑتا جولائی1799ءمیں لاہور پر قابض ہو گیا‘

رنجیت سنگھ ان پڑھ لیکن وژنری انسان تھا‘ اس نے ایک اطالوی جنرل ژاں بپتیست وینچورہ کی خدمات حاصل کیں‘ وینچورہ نے اس کی سلطنت ملتان سے جلال آباد تک پھیلا دی‘ راجہ رنجیت سنگھ واحد بادشاہ تھا جس نے پٹھانوں کو فتح کیا‘ یہ فتح وینچورہ کا کمال تھا‘ وینچورہ کے بارے میں مشہور تھا‘ وہ اس وقت تک ناشتہ نہیں کرتا تھا جب تک اس کے سامنے دس پٹھانوں کو پھانسی نہیں دے دی جاتی تھی‘ آپ نے یقینا یہ فقرہ سنا ہو گا ”سو جا سو جا ورنہ گبر آ جائے گا“

یہ فقرہ وینچورہ سے منسوب تھا‘ وینچورہ ستمبر 1843ءمیں پنجاب سے فرانس چلا گیا اور وہ اپریل1858ءمیں فرانس ہی میں انتقال کر گیا لیکن آج بھی اٹک کے پل کے پار بے شمار مائیں اپنے بچوں سے کہتی ہےں ” سو جا سو جا ورنہ وینچورہ آ جائے گا“ وینچورہ جب فرانس گیا اور لوگوں نے اس سے سکھ حکومت کے عروج و زوال کی وجہ پوچھی تو وہ ایک لفظ میں جواب دیتا تھا ”مقدر“۔ لوگ تفصیل پوچھتے تھے تو وہ کہتا تھا ” رنجیت سنگھ مقدر کا دھنی تھا‘ وہ جہاں قدم رکھ دیتا تھا

وہ جگہ اس کی ہو جاتی تھی‘ وہ مر گیاتو سکھوں کا مقدر بھی فوت ہو گیا“ وینچورہ کی آبزرویشن درست تھی‘ راجہ رنجیت سنگھ واقعی خوش نصیب تھا‘ اس کی رنگت سیاہ تھی‘ چہرے پر چیچک کے داغ تھے‘ وہ ایک آنکھ سے کانا بھی تھا اور دائمی مریض بھی تھا لیکن اس نے اس کے باوجود دنیا کی واحد سکھ سلطنت کی بنیاد رکھی ”کیسے؟“ اس کا جواب ہے ”مقدر“۔ ایک بار ایک ایرانی کنیز اس کے سامنے ناچ رہی تھی‘ وہ ناچتے ناچتے رنجیت سنگھ کے سامنے پہنچی تو اس کی ہنسی نکل گئی‘

رنجیت سنگھ بھانپ گیا‘ اس نے اسے روک کر پوچھا ” تم ہنس کیوں رہی تھی“ کنیز نے جان کی امان پائی اور ڈرتے ڈرتے جواب دیا ” عالی جاہ میں نے جب آپ کی طرف دیکھا تو میرے دماغ میں آیا‘ اللہ تعالیٰ جب حسن بانٹ رہا تھا تو آپ اس وقت کہاں تھے اور میری ہنسی نکل گئی“ رنجت سنگھ نے قہقہہ لگایا اور کہا ”تم جس وقت حسن لینے کےلئے خوبصورتی کی قطار میں کھڑی تھی‘ میں اس وقت مقدر کی کھڑی کے سامنے تھا‘ تم

نے حسن لے لیا‘ مجھے مقدر مل گیا چنانچہ آج حسن مقدر کے سامنے ناچ رہا ہے“۔ ہم اگر ان دونوں کہانیوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں یہ جانتے دیر نہیں لگے گی مقدر کا دوسرا نام چانس ہے اور قدرت چانس دنیا کے ہر شخص کو دیتی ہے اور وہ لوگ جو چانس کا سرا پکڑ لیتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور جو مقدر کی کھڑکی کے سامنے پہنچ کر ڈبل مائینڈڈ ہو جاتے ہیں‘ وہ باقی زندگی وقت کا ماتم کرتے گزارتے ہیں‘ آپ فرض کیجئے اس دن استاد مورگن کے آگے بیٹھے بچے سے سوال نہ کرتا‘ کلاس قہقہے نہ

لگاتی‘ استاد ناراض نہ ہوتا‘ وہ مارنے کےلئے مورگن کے پیچھے نہ بھاگتا‘ مورگن کلاس سے نہ دوڑتا‘ ڈرامے کا استاد عین وقت برآمدے میں نہ آتا‘ مورگن اس سے نہ ٹکراتا اور استاد اسے ریہرسل کی جگہ لے کر نہ جاتا تو کیا ہوتا؟ کیا مورگن‘ مورگن فری مین بنتا؟ شاید نہ بنتا لہٰذا کرسی کھینچنے سے لے کر ریہرسل کے ہال تک دس منٹ کا وہ ایکٹ قسمت کا کھیل تھا‘ قسمت کا وہ کھیل اہم تھا لیکن اس سے زیادہ اہم مورگن فری مین کی ہاں تھی‘ وہ اگر اس دن ریہرسل میں شریک ہونے سے انکار کر دیتا‘ وہ آڈیٹوریم سے واپس آ جاتا تو ایکٹر بننے کا چانس ضائع ہو جاتا بالکل اسی طرح مغل پورے ہندوستان میں کمزور ہوئے لیکن آزاد ریاست کا چانس صرف رنجیت سنگھ نے لیا۔

وہ بھی اگر ہندوستان کے دوسرے 25 کروڑ باشندوں کی طرح چپ چاپ بیٹھا رہتا یا پھر گوجرانوالہ فتح کر کے صبر کر لیتا تو وہ بھی دس بیس برس میں ختم ہو جاتا‘ دوسرا چانس وینچورہ تھا‘ نپولین کی شکست کے بعد فرانس اور اٹلی کے بے شمار جنرل نوکریوں کی تلاش میں ہندوستان آئے‘ وینچورہ بھی ان میں شامل تھا‘ رنجیت سنگھ واحد حکمران تھا جس نے وینچورہ کو چانس دیا‘ اپنی فوج کا بڑا حصہ اس کے حوالے کیا اور وینچورہ نے نہ صرف نوشہرہ اور وزیر آباد میں گورننس کی مثال قائم کر دی

بلکہ سکھ حکومت جلال آباد کے پہاڑوں تک پھیلا دی‘ راجہ رنجیت سنگھ اگر وینچورہ کا چانس نہ لیتا اور وینچورہ بھی اس کی پیش کش قبول نہ کرتا تو یہ کہانی بھی گوجرانوالہ کی گلیوں میں جذب ہو جاتی اور اگر مورگن فری مین بھی ڈرامہ استاد کی پیش کش پر سر ہاں میں نہ ہلاتا تو مورگن فری مین بھی آسکر ونر اداکار نہ بنتا‘ یہ بھی گرین ووڈ کے ہائی سکول کے برآمدے میں ضائع ہوجاتا بالکل اسی طرح جس طرح سکول کے دوسرے لاکھوں طالب علم گم نامی کے اندھیرے کی سیاہی بن گئے۔مقدر چانس ہوتا ہے‘ قدرت یہ چانس ہمیں روز دیتی ہے‘ ہمارا کمال بس اتنا ہے ہم اس چانس کو مس نہ ہونے دیں‘ ہم اسے فوراً گرفت میں لے لیں‘ آپ بھی دائیں بائیں دیکھیں‘ چانس آپ کے ساتھ بھی کھڑا ہو گا۔