آپ بھی باپ ہیں

  جمعہ‬‮ 4 ستمبر‬‮ 2015  |  0:01

فلم شروع ہوئی‘ دس منٹ بعد تین بزرگ اٹھے اور ہال سے باہر چلے گئے‘ اگلے دس منٹ میں تین چار اور فیملیز اٹھیں اور وہ بھی باہر چلی گئیں‘ وقفہ ہوا تو خواتین بھی فلم ادھوری چھوڑ کر گھروں کو روانہ ہو گئیں‘ ہال میں پیچھے نوجوان مرد حضرات اور میرے جیسے چند کنفیوژڈ لوگ بچ گئے اور تالیاں رہ گئیں‘ قہقہے رہ گئے اور فحش فقروں اور فحش حرکتوں پر ”جی اوئے“ کے فقرے رہ گئے‘ فلم ختم ہوئی تو میں اور میرا دوست گہرے تاسف اور بھاری دل کے ساتھ سینما سے باہر آ گئے‘ یہ پاکستانی فلم ”کراچی سے لاہور“ تھی‘ میں نے فلم کی بہت تعریف سنی تھی اور میں اس تعریف سے متاثر ہو کر اپنے دوست کے ساتھ سینما پہنچ گیا‘


فلم اچھی تھی‘ اداکاری‘ کیمرہ ورک‘ لوکیشنز اور سٹوری تمام چیزیں اپنی اپنی جگہ شاندار تھیں اور ساﺅنڈ کی کوالٹی بھی اچھی تھی‘ فلم میں بس ایک خامی تھی اور اس خامی نے اتنی اچھی فلم کا سارا تاثر برباد کر دیا‘ یہ خامی اس کے فحش مکالمے‘ زومعنی فقرے اور چند قابل اعتراض حرکتیں تھیں‘ فلم کے فحش فقروں کی وجہ سے وہ تمام لوگ جو فیملیز کے ساتھ سینما آئے تھے‘ وہ شرمندہ بیٹھے تھے‘ یہ شرمندگی تھوڑی دیر چلی اور اس کے بعد فیملیز‘ بزرگ اور سمجھ دار لوگوں نے ”واک آﺅٹ“ کرنا شروع کر دیا۔ میرے دوست فلموں کے شیدائی ہیں‘ یہ بچپن سے فلمیں دیکھ رہے ہیں‘ یہ پاکستانی فلموں کے گولڈن ٹائم میں قمیض اتار کر دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر سینما کا ٹکٹ حاصل کرتے تھے‘ انہوں نے اپنی آنکھوں سے خاندان بھر کو سینما میں بیٹھتے اور فلموں کو انجوائے کرتے دیکھا‘ پھر انہوں نے وہ دور بھی دیکھا جب معزز لوگ سینما کے قریب سے گزرتے ہوئے شرمندہ ہو جاتے تھے‘ انہوں نے اردو فلموں کو پنجابی میں تبدیل ہوتے اور پھر گنڈاسے کو فلم پر قابض ہوتے بھی دیکھا‘ یہ اس دور کے بھی گواہ ہیں جب سٹوڈیوز میں الو بولے اور اداکار‘ صداکار‘ کیمرہ مین‘ لائٹ مین اور ایکسٹرا خون تھوک تھوک کر مرے‘ جب سینما گھروں کی جگہ شاپنگ سنٹر بنے اور

اداکاروں اور اداکاراﺅں نے کوٹھیاں بیچ بیچ کر اپنا بڑھاپا کاٹا‘ میرے یہ دوست تھیٹروں کے زوال کے بھی گواہ ہیں‘ یہ اکثر لاہور کے ایک تھیٹر کا واقعہ سناتے ہیں‘ تھیٹر میں ایک بار ایک غیر ملکی خاتون آ گئی‘ لاہوریوں نے خاتون کو تھیٹر شروع ہونے سے پہلے ہی گھور گھور کر بھگا دیا‘ میرے یہ دوست میری طرح پاکستانی فلم کی واپسی پر خوش تھے‘ ہم دونوں اکثر چھٹی کے دن فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں‘ ہم جب اس دن باہر نکلے تو میرے دوست نے پیشن گوئی کی ”ہماری فلم ایک بار پھر فوت ہو جائے گی“ میں نے وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا” ہماری پہلی فلم انڈسٹری کو مولا جٹ کھا گیا اور موجودہ فلم انڈسٹری زومعنی فقروں اور فحش مکالموں کے ہاتھوں قتل ہو جائے گی“ میں نے اپنے دوست سے اتفاق کیا کیونکہ کراچی سے لاہور اچھی بھلی فلم تھی لیکن چند فقروں نے ہال میں موجود فیملیز کو اٹھنے پر مجبور کر دیا‘ یہ فقرے اگر نہ ہوتے تو بھی فلم ٹھیک ٹھاک تھی لیکن فلم ساز نے زیادہ ناظرین کے لالچ میں فلم میں وہ مسالہ ڈال دیا جس سے فلمیں تو کامیاب ہو جاتی ہیں لیکن فلم انڈسٹری تباہ ہو جاتی ہے‘ پاکستان اور ہندوستان دونوں ”خاندانی ملک“ ہیں‘ ہمارے خطے میں آج بھی خاندان مضبوط ہیں‘ ہم لوگ خواہ کتنے ہی ماڈرن کیوں نہ ہو جائیں‘ ہم ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی کی موجودگی میں فحش فقرہ برداشت نہیں کر سکتے‘ ہماری زندگی میں بیٹے کی موجودگی میں بھی زومعنی فقرے اور ننگی حرکتوں کی گنجائش نہیں ہوتی چنانچہ بھارت اور پاکستان میں وہ فلمیں اور ڈرامے ناکام ہو جاتے ہیں جن میں ذرا سی بھی فحاشی اور زومعنی فقرے ہوتے ہیں‘ بھارتی سینما دنیا کا سب سے بڑا سینما ہے‘ بھارت میں ہر سال آٹھ سو سے لے کر ہزار تک فلمیں بنتی ہیں‘ بھارتی فلم انڈسٹری ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری سمجھی جاتی ہے‘ وہاں کھرب پتی بزنس فیملیز سے لے کر انڈر ورلڈ کے ڈان تک فلم میں سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن آپ اتنی بڑی انڈسٹری کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں‘ آپ انڈیا میں ہر اس فلم کو ناکام دیکھیں گے جس میں فحاشی کا عنصر موجود تھا یا پھر اس میں گالی گلوچ اور زومعنی فقرے تھے‘ آپ فحاشی کے ہاتھوں ہیوی کاسٹ فلموں تک کو برباد ہوتا دیکھیں گے‘ آپ ان اداکاروں اور اداکاراﺅں کو بھی تباہی کے گڑھے میں اترتا اور معاشرے میں ذلیل ہوتا دیکھیں گے جنہوں نے تالی اور قہقہہ مروانے کےلئے ایک بار اخلاقیات کے تخت سے فرش پر پاﺅں رکھ دیا تھا‘ پاکستان کی فلم اور تھیٹر بھی اس حقیقت کی بدترین مثال ہیں‘ ہماری انڈسٹری کو فحاشی‘ لچر پن‘ گنڈاسے اور مجرے نے تباہ کر دیا تھا‘ ہم لوگ فنون لطیفہ میں بھارت سے بہت آگے ہیں‘ آپ خدا کےلئے اور بول جیسی فلمیں دیکھیں‘ یہ پاکستانی سینما کے زوال کے تیس سال بعد آئیں اور یہ دونوں فلمیں کسی فلم ساز نے نہیں‘ ٹیلی ویژن کے ایک پروڈیوسر نے بنائی تھیں لیکن ان فلموں نے دنیا کو حیران کر دیا‘ ہم جب اتنے ٹیلنٹڈ ہیں تو پھر ہمیں فلم کو کامیاب کرنے کےلئے فحاشی کا سہارا لینے کی کیا ضرورت ہے‘ ہمیں فلم میں پٹھان ٹرک ڈرائیور ڈالنے کی کیا مجبوری ہے اور اس کے منہ سے ایسے فقرے ادا کروانے کی کیا حاجت ہے جسے سن کر شریف آدمی کے کان سرخ ہو جائیں اور یہ حرکت صرف ایک فلم میں نہیں ہوئی‘ میں نے اس نوعیت کے فقرے اور حرکات ”نامعلوم افراد“ میں بھی دیکھیں‘ سنیں اور دوسری پاکستانی فلموں میں بھی۔ آج کل ایک اور فلم کا چرچا ہے جس میں بچے کی ”مسلمانی“ کا لمبا سین ہے اور یہ عمل صرف دکھایا نہیں گیا بلکہ منہ سے بھی اس کی اتنی وضاحت کی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص ماں بہن کے ساتھ بیٹھ کر یہ فلم نہیں دیکھ سکتا‘ ہمارے فلم ساز فلموں میں ایسے الفاظ اور وہ فقرے بھی کثرت سے ڈال رہے ہیں جو صرف ممبئی میں بولے جاتے ہیں اور بھارت کی اپنی ریاستیں ان فقروں پر اعتراض کر رہی ہیں‘ آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے‘ بھارتی فلم ساز جب اپنی فلمیں مہاراشٹر سے باہر بھجواتے ہیں تو یہ ان سے ممبئی کے ”سلینگز“ نکال دیتے ہیں لیکن ہم

اپنی فلموں میں ابے بھی ڈال رہے ہیں‘ بیوڑا بھی‘ پیٹی بھی‘ کھوکھا بھی اور کھولی بھی۔ کیا یہ غلط نہیں؟ ہمارے فلم ساز شاید بھارتی فلم سازوں کے پریشر میں ہیں اور یہ اس پریشر میں وہ غلطیاں کر رہے ہیں جن کی آج تک بھارتی فلم ساز بھی جرا¿ت نہیں کر سکے‘ آپ بھارتی فلم بجرنگی بھائی جان اور کراچی سے لاہور دونوں کو آمنے سامنے رکھ کر دیکھ لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا‘ یہ فرق صرف سلمان خان یا عائشہ عمر کا فرق نہیں‘ یہ موضوع اور سکرین پلے کا فرق بھی ہے‘ چلئے ہم پاکستانی فلم کا بھارتی فلم سے تقابل نہیں کرتے‘ ہم بول اور کراچی سے لاہور کا موازنہ کرتے ہیں‘ بول بھی تو پاکستان ہی میں بنی تھی اور اس کے تمام تکنیک کار بھی پاکستانی تھے‘ یہ فلم اگر فحاشی‘ عریانی اور زومعنی فقروں کے بغیر کامیاب ہو سکتی ہے تو پھر باقی فلمیں کیوں نہیں ہو سکتیں؟ میرے خیال میں پاکستانی فلموں کے تمام اداکاروں‘ اداکاراﺅں‘ ہدایت کاروں‘ فلم سازوں اور مکالمہ نویسوں کو حقائق کا خیال رکھنا چاہیے‘ حکومت اور سنسر بورڈ کو بھی توجہ دینی چاہیے‘ ہماری فلم انڈسٹری تیس سال کی خاموشی اور زوال کے بعد دوبارہ جنم لے رہی ہے‘ لوگ بڑی مشکل سے سینماﺅں کی طرف آ رہے ہیں‘ یہ اپنے خاندان کو بھی فلم دیکھنے کےلئے لا رہے ہیں‘ مجھے خطرہ ہے اگر حکومت‘ سنسر بورڈ اور فلم سازوں نے اس طرف توجہ نہ دی تو خاندان سینماﺅں سے واپس چلے جائیں گے اور سکرین کے سامنے صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو ہر فحش فقرے اور ننگی حرکت پر تالی بجانا‘ قہقہہ لگانا اور بھنگڑا ڈالنا فرض سمجھتے ہیں اور جس دن یہ ہو گیا‘ جس دن خواتین اور بزرگ سینما سے اٹھنا شروع ہو گئے‘ وہ دن ہماری فلم اور سینما کا آخری دن ہو گا‘ میری فلم سازوں سے درخواست ہے آپ جب بھی فلم بنائیں‘ آپ بھارتی مزاحیہ اداکار جونی واکر کا یہ فقرہ ضرور ذہن میں رکھ لیں ”میں فلم میں جب بھی کوئی اخلاق سے گرا فقرہ بولنے لگتا ہوں تو مجھے اپنے بچے یاد آ جاتے ہیں اور میں سوچتا ہوں‘ یہ فقرہ جب میرے بچے سنیں گے تو وہ اپنے باپ کے بارے میں کیا سوچیں گے‘ یہ خیال آتے ہی میں اپنی زبان دانتوں تلے دبا لیتا ہوں“ آپ لوگ بھی فلم بناتے‘ فلم لکھتے اور مکالمے بولتے وقت ایک لمحے کےلئے اتنا ضرور سوچ لیا کریں‘ یہ فلم جب آپ کے بچے یا آپ کے بہن بھائی دیکھیں گے تو یہ آپ کے بارے میں کیا سوچیں گے‘ مجھے یقین ہے‘ یہ ایک سوال آپ کے ضمیر کو ہزار سوالوں سے بچا لے گا۔

معذرت: مجھ سے کل کے کالم ”آپ نے کیا پایا‘کیا کمایا“میں ایک غلطی سرزد ہوگئی‘ ڈاکٹر عاصم حسین سرڈاکٹر ضیاءالدین احمد کے پوتے نہیں ہیں‘ یہ ان کے نواسے ہیں‘ ڈاکٹر عاصم کی والدہ ڈاکٹر اعجاز فاطمہ ڈاکٹر ضیاءالدین کی صاحبزادی اور والد تجمل حسین داماد ہیں‘ قارئین تصحیح فرما لیں۔