ہائے غرناطہ

  جمعہ‬‮ 28 اگست‬‮ 2015  |  0:01

ہوٹل لاڈرون آگوا کی کھڑکی الحمراءکی طرف کھلتی تھی‘ کھڑکی سے باہر چھوٹا سا ٹیرس تھا‘ میں ٹیرس پر کھڑا ہوا تو دریائے دارو کے بہتے پانیوں کی آوازیں آنے لگیں‘ ٹیرس کے نیچے پتھریلی گلی تھی‘ گلی کے ایک سرے پر مکان تھے اور دوسرے سرے پر پتھروں کی تین فٹ اونچی حد بندی۔ حد بندی کے آگے دریائے دارو تھا‘ یہ دریا کبھی بہت بڑا ہوتا تھا‘ یہ الحمراءکا محافظ بھی تھا لیکن جب مالک نہ رہے‘ جب بنانے والے رخصت ہو گئے تو دریا بھی سمٹ گیا‘ یہ اب چھوٹا سا نالہ لئی بن چکا ہے‘ دریا کے دوسرے کنارے سے سبیکا کی وہ پہاڑیاں شروع ہوتی ہیں جن پر الحمراءآج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے‘ سبز پہاڑیوں کے درمیان


الحمراءکے برج اور مینار دکھائی دے رہے تھے‘ میناروں کے نیچے مکانوں اور حویلیوں کا سلسلہ ہے‘ مکان ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر الحمراءسے دریائے دارو کے کنارے تک آتے ہیں‘ یہ عمائدین کے گھر اور حویلیاں ہوتی تھیں‘ سامنے چھوٹی چھوٹی گلیوں کا سلسلہ بھی تھا‘ رات کے گیارہ بج چکے تھے‘ میں ٹیرس سے اترا اوردریائے دارو کا چھوٹا پل کراس کر کے غرناطہ‘ قدیم غرناطہ کی گلیوں میں اتر گیا‘ وہ پہاڑی گلیاں تھیں‘ نیچے سے اوپر جاتی تھیں‘ فرش پر چھوٹے چھوٹے پتھر جڑے تھے‘ دیواریں سرخ اینٹوں اور لائم سٹون کی تھیں‘ دروازے بھاری لکڑی کے پھاٹک تھے‘ مکان باہر سے قدیم لیکن اندر سے جدید ہیں‘ کوئی شخص مکان کو باہر سے تبدیل نہیں کر سکتا‘ میرا ہوٹل بھی ایک پرانی حویلی میں قائم تھا‘ یہ میری زندگی کا پہلا ہوٹل تھا جس کے کمروں کے نمبر نہیں تھے‘ تمام کمرے مختلف مقامی اور عالمی رائیٹرز کے نام پر تھے‘ یہ لکھاری ان کمروں میں اقامت پذیر رہ چکے تھے‘ ہوٹل انتظامیہ نے بعد ازاں وہ کمرہ ان سے منسوب کر دیا‘ ہوٹل کے گاہک کو چابی کے ساتھ اس لکھاری کا پروفائل بھی دیا جاتا ہے جس کے کمرے میں وہ گاہک اب چند دن گزارے گا‘ قدیم غرناطہ کے گھر اور گلیاں پرانے سٹائل کی ہیں‘ آپ جوں ہی ان گلیوں میں داخل ہوتے ہیں‘ آپ سات سو سال پیچھے اس دور میں چلے جاتے ہیں جب ان گلیوں میں غرناطہ یونیورسٹی کے طالب علم سرپر عمامہ باندھ کر آہستہ آہستہ چلتے تھے اور سرگوشیوں میں بات کرتے تھے‘ یہ ساری گلیاں اور یہ سارے گھر اب ریستوران‘ قہوہ خانے اور ہوٹل ہیں اور گاہک ان کے اندر بیٹھ کر گزرے وقت کی چاپ سنتے ہیں۔ غرناطہ کے دو حصے ہیں‘ پہلا حصہ قدیم شہر ہے‘ یہ قصبہ کہلاتا ہے‘ یہ دریائے دارو سے باہر آباد ہے‘ اس میں ہزاروں مکانات تھے‘ غرناطہ کی 95 فیصد آبادی اس حصے میں رہتی تھی‘ گلیاں تنگ اور طویل تھیں‘ مکانات تین تین ‘چار چار منزلہ تھے‘ ہر مکان کے اندر صحن تھا‘ صحن میں فوارہ اور انگور کی بیلیں ضرور ہوتی تھیں‘ مکانات کے باہر پھولوں کے گملے لٹکائے جاتے تھے‘ مارکیٹیں بھی تھیں‘ پولیس سٹیشن بھی‘ اصطبل بھی اورصاف پانی کے کنوئیں بھی۔ شہر کے ہر کنوئیں کے ساتھ کچھوﺅں کا پنجرہ ہوتا تھا‘ انتظامیہ صبح شام ان کچھوﺅں کو کنوﺅں میں اتارتی تھی‘ کچھوے اگر تیرتے رہتے تو پانی کو محفوظ قرار دے دیا جاتا تھا اور اگر کچھوا مر جاتا تو انتظامیہ کو فوراً معلوم ہو جاتا کسی دہشت گرد یا دشمن نے کنوئیں میں زہر ملا دیا ہے چنانچہ اس کنوئیں کو فوری طور پر بند کر دیا جاتا تھا‘ قدیم غرناطہ میں مسجدیں بھی تھیں لیکن 1492ءکے بعد ان تمام مسجدوں کو چرچز میں تبدیل کر دیا گیا‘ یہ آج تک چرچ ہیں‘ ان پر گھنٹیاں بجتی ہیں لیکن آپ اگر ان کے اندر داخل ہوں تو آپ کو وہاں ان قدیم مسجدوں کی خوشبو آئے گی جن میں طویل عرصے تک اللہ کا ذکر مہکا ہو‘ شہر کے اس حصے کی گرد فصیل ہوتی تھی‘ فصیل کے دروازے بھی تھے لیکن یہ فصیل دروازوں سمیت ختم ہو گئی‘ صرف نشان باقی ہیں‘ غرناطہ کا دوسرا حصہ الحمراءاور اس کے مضافات ہیں‘ غرناطہ کے پہلے حصے کے آخر میں دریائے دارو بہتا ہے‘ دریا کے دوسرے کنارے سے سبیکا کی پہاڑیاں شروع ہو جاتی ہیں‘ دریا کے دوسرے کنارے پر بھی ایک فصیل تھی اور اس فصیل کے اندر سلطنت کے مختلف عمائدین کی رہائش گاہیں تھیں‘ یہ رہائش گاہیں پہاڑ کے ساتھ ساتھ سیڑھیوں کی شکل میں اوپر جاتی ہیں‘ ان رہائش گاہوں کے بعد الحمراءکی فصیل تھی‘ محل اس فصیل کے اندر تھا۔ میں نے غرناطہ میں تین راتیں اور دو دن گزارے‘ میں اس شہر میں تیسری مرتبہ آیا‘ میرے دن شہر کے قدیم حصے میں گزرتے تھے‘ شامیں غاروں میں اور راتیں شہر کی اداس گلیوں میں۔ شہر کے پہلے حصے میں غار ہیں‘ ان غاروں میں خانہ بدوش رہتے ہیں‘ یہ لوگ ہزار سال قبل ہندوستان کے علاقے راجستھان سے غرناطہ آئے اور یہیں بس گئے‘ یہ ختانوں کہلاتے ہیں‘ غرناطہ کے غار اب غار نہیں رہے‘ یہ ریستوران اور ہوٹل بن چکے ہیں‘ ان ریستورانوں میں شام کے وقت فلامنکو ڈانس ہوتا ہے‘ یہ خانہ بدوشوں کا قدیم رقص ہے‘ اس میں صرف گٹار بجایا جاتا ہے‘ باقی سارے مراحل لکڑی کا فرش‘ رقص کرنے والی خواتین کے لکڑی کے جوتے اور ساتھیوں کی تالیاں پورے کرتی ہیں‘ یہ تالیاں اور ان کی لے ہماری قوالی کی ایکسٹینشن ہے‘ ختانوں کے گانوں کی لے مرثیوں سے ملتی جلتی ہے‘ یہ لوگ لے کے کلائمیکس پر پہنچ کر باقاعدہ سینے پر ہاتھ بھی مارتے ہیں‘ یہ خانہ بدوش صرف ان غاروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ شہر کے ایک بڑے اور مرکزی حصے پر بھی قابض ہیں‘ یہ بدمعاش ہیں‘ ہر قسم کے جرم میں ملوث ہوتے ہیں لیکن پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی‘ کیوں؟ کیونکہ یہ ریاست سے تگڑے ہیں‘ ریاست نے ان کے دباﺅ میں آ کر انہیں دس کلو گرام تک منشیات رکھنے کی اجازت بھی دے دی ہے‘یہ لوگ سرکاری عمارتوں پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں‘ یہ پانی‘ گیس اور بجلی کے بل بھی ادا نہیں کرتے‘ یہ لوگ سیاحوں کو بھی لوٹ لیتے ہیں‘ غرناطہ انگوٹھی ہے اور الحمراءاس انگوٹھی کا نگینہ۔ یہ محل انسان کی تعمیراتی صلاحیتوں کی معراج ہے‘ یہ ایک عظیم انسانی معجزہ ہے‘ آپ جوں ہی اس عظیم انسانی معجزے کی طرف رخ کرتے ہیں‘ آپ کی سوئی ہوئی جمالیاتی حسیں انگڑائی لے کر اٹھ جاتی ہیں‘ الحمراءعربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”سرخ قلعہ“ اور یہ سرخ قلعہ چیڑھ کے بلند درختوں اور سرو کی طویل دیواروں کے عین درمیان آباد ہے‘ محل 740 میٹر طویل اور 205 میٹر چوڑی بنیادوں پر بنایا گیا‘ محل کے 13 مینار اور برجیاں ہیں‘ یہ محل 890ءمیں بنا‘ گیارہویں صدی عیسوی میں اس کی تزئین و آرائش ہوئی‘ 1333ءمیں شاہی محل بنا اور 1492ءتک بادشاہ کی سرکاری رہائش گاہ رہا‘ مسلمان معماروں اور عیسائی یہودی آرکی ٹیکٹس میں ایک بڑا فرق تھا‘ یہودی اور عیسائی اپنا سارا تخلیقی زور پینٹنگز اور مجسموں میں لگا دیتے تھے‘ یہ برش اور تیشے سے ایسے ماسٹر پیس تخلیق کرتے تھے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی چنانچہ پرانے بادشاہ محل اور چرچ بنواتے وقت اس دور کے عظیم مجسمہ سازوں اور مصوروں کو ہائر کر لیتے تھے‘ چرچ اور محل کی دیواریں اور چھتیں ان کے حوالے کر دی جاتی تھیں اور وہ لوگ کمال کر دیتے تھے چنانچہ آپ جب بھی یورپی بادشاہوں کے محلات اور قدیم چرچ دیکھتے ہیں تو ان کی دیواریں‘ چھتیں اور قربان گاہوں کے مجسمے آپ کو مبہوت کر دیتے ہیں‘ آپ ان کے آرٹ اور کلچر کو سلام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ اسلام میں مجسمہ سازی اور مصوری کی گنجائش نہیں تھی چنانچہ مسلمان بادشاہوں کے پاس آپشن کم ہوتے تھے‘ یہ لوگ پھر کیا کرتے تھے؟ یہ کیلی گرافی‘ پچی کاری‘ شیشے‘ ٹائلز‘ پھولوں اور درختوں کا سہارا لیتے تھے اور آپ کو الحمراءمیں یہ سارے عناصر ایک جگہ نظر آتے ہیں‘ آپ محل میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے باغات‘ باغات میں پانی کی چھوٹی چھوٹی نالیاں‘ چھوٹے چھوٹے فوارے‘ سرو کی دیواریں‘ فرش کے چھوٹے چھوٹے چھوٹے پتھر اور درختوں پر چہچہاتے پرندے آپ کے تخیل کو جکڑ لیتے ہیں‘ آپ باغات سے ہوتے ہوئے جوں جوں بادشاہ کی رہائش گاہ کی طرف بڑھتے جاتے ہیں‘ آپ کے دل پر بادشاہ کا شکوہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ جوں ہی محل کی مرکزی ڈیوڑھی پر پہنچتے ہیں‘ آپ سر سے ٹوپی یا دستار اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ الحمراءکا آغاز ڈیوڑھی سے ہوتا ہے‘ یہ ایک گلی ہے جس کی دیواریں آسمان کو چھو رہی ہیں‘ آپ گلی سے ہوتے ہوئے پہلے ہال میں پہنچتے ہیں‘ ہال کی چھت‘ دیواریں اور فرش کمال ہے‘ ہال کی ہیبت آپ کے دل پر دستک دیتی ہے‘ اس ہال کے دو حصے ہیں‘ درمیانے حصے پر پردہ ہوتا تھا‘ بادشاہ بعض اوقات پردے کے پیچھے بیٹھ کر مہمانوں کی گفتگو سنتا تھا‘ اس ہال کے ساتھ نماز کا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا‘ یہ کمرہ آج بھی موجود ہے‘ ہال کے ساتھ ایک طویل کوریڈور ہے‘ کوریڈور کی کھڑکیاں باغ کی طرف کھلتی ہیں‘ یہ کوریڈور ایک بڑے صحن میں کھلتا ہے‘ صحن کے چار اطراف چار چار منزلہ اونچی دیواریں ہیں‘ دیواروں کی تیسری منزل پر کھڑکیاں ہیں‘ کھڑکیوں کے پیچھے شہزادیوں اور ملکاﺅں کے کمرے تھے‘ یہ ان کھڑکیوں سے مہمانوں کو دیکھ سکتی تھیں لیکن مہمان انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے‘ یہ کھڑکیاں خصوصی طور پر بنوائی گئی تھیں‘ صحن کا فرش سفید سنگ مر مر کا ہے اور اس کے چاروں اطراف برآمدے ہیں‘ برآمدوں کی چھتیں فن کے عظیم پارے ہیں‘ یہ بادشاہ کے دربار کی پہلی منزل تھی‘ لوگ اس صحن میں رکتے تھے اور انہیں پھر آگے لے جایا جاتا تھا‘ اگلے حصے میں الحمراءکا دوسرا خوبصورت ترین صحن ہے‘ صحن کے عین درمیان پانی کا حوض ہے‘ حوض کے گرد سرو کی دو دو فٹ اونچی باڑ لگی ہے‘ دونوں سروں پر چابی جیسے دو فوارے ہیں‘ یہ فوارے حوض میں پانی گراتے ہیں‘ اس صحن کے چاروں اطراف بھی برآمدے ہیں لیکن یہ برآمدے پچھلے برآمدوں کے مقابلے میں دس گنا خوبصورت اور پرہیبت ہیں‘ یہ صحن بادشاہ کا دربار تھا‘ صحن کے ایک طرف یعنی پہلی چابی کے قریب بادشاہ کا کیبنٹ روم تھا‘ بادشاہ یہاں اپنے مشیروں سے مشورے کرتا تھا اور دوسری چابی کے ساتھ بادشاہ کا دربار تھا اور آپ جوں ہی اس دربار میں داخل ہوتے ہیں‘ آپ خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اور آپ خواہ کتنے ہی سنگ دل اور سڑیل کیوں نہ ہوں‘ آپ اپنی زبان کو سبحان اللہ کہنے سے نہیں روک سکتے اور وہاں ہر شخص کی زبان پر سبحان اللہ تھا۔