بددعائیں

  بدھ‬‮ 11 جون‬‮ 2014  |  21:21

چودھری حارث الٰہی پاکستان کے ایک بڑے سیاسی خاندان کے سپوت ہیں‘ وہ مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کے بھتیجے اور امریکی شہریت کے حامل ہیں ‘ جنوری کے آخری ہفتے میں جب لندن پولیس نے چودھری وجاہت حسین اور شافع حسین کو گرفتار کیا تو چودھری حارث الٰہی بھی گرفتار شدگان میں شامل تھے۔ چودھری حارث الٰہی نے چند روز قبل برطانیہ کے مشہور اخبار ’’گارڈین ‘‘ کو انٹرویو دیا‘چودھری حارث الٰہی نے اس انٹرویو میں گرفتاری کا سارا واقعہ بیان کیا‘ انہوں نے فرمایا ’’وہ سپین سے لندن واپس آ رہے تھے‘ وہ جوں ہی گیٹ وک ائیرپورٹ پر اترے تو لندن پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا‘ انہیں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں‘ ان کی جامہ تلاشی ہوئی اور انہیں اتنا بے عزت کیا گیا کہ


بے اختیار ان کے آنسو نکل آئے‘‘ چودھری حارث الٰہی نے بتایا ’’ہمیں آٹھ گھنٹے بعد مطلع کیاگیا ہمیں دہشت گردی کے اقدام اور منصوبہ بندی میں گرفتار کیا گیا ‘ ہم سے تفتیش کے دوران انتہائی خوفناک سوالات پوچھے گئے۔ ہم سے پوچھا گیا ہم عراق اور افغانستان میں جنگ پر امریکہ کی حمایت کرتے ہیں یا مخالفت‘ بے نظیر بھٹو کے قتل میں کون ملوث ہے اور ہم صدر پرویز مشرف اور ان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ ق کے حامی ہیں یا مخالف‘ ہم نے ان سوالوں کے جواب میں بتایا ہم مسلم لیگ ق کی قیادت کے خونی رشتے دار ہیں لیکن انہوں نے ہماری بات کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ تفتیش کرنے والوں نے ہم سے پوچھا‘ ہم نے دہشت گردی کی کوئی تربیت تو حاصل نہیں کی‘ کیا آپ یہ جانتے ہیں دھماکہ کیسے ہوتا ہے‘ بم کیسے بنایا جاتا ہے اور خود کش حملہ آور کہاں سے آتے ہیں۔ ان تمام سوالوں اور اس سلوک کے بعد ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے ‘ ہمیں اس کے بعد ہتھکڑیوں میں پیڈنگٹن پولیس اسٹیشن لایا گیا جس کے بعد ہمارا وکیل وہاں آگیا‘اس نے پولیس کے ساتھ بات کی اوریوں پولیس کو اپنی غلطی کا اندازا ہوگیا اور اس کے بعدوہ ہمیں ہیتھرو ائرپورٹ لائے اور ہمیں جہاز میں سوار کردیاگیا‘‘ چودھری حارث الٰہی نے اس انٹرویو میں بڑے تاسف سے بتایا ’’ہم لوگ جب برطانوی پولیس کے قبضے میں تھے تو ہمیں پوری امید تھی ہمیں کوئی نہ کوئی یہاں سے نکال لے گا لیکن اس وقت میں نے سوچا‘ وہ لوگ جن کے پیچھے کوئی بڑا لیڈر یا بااثر شخص نہیں ہوتا‘وہ لوگ جب قید میں ڈالے جاتے ہیں اور انہیں قید میں یہ امید بھی نہیں ہوتی کہ کوئی آئے گا اور انہیں یہاں سے چھڑا لے جائے گا توان لوگوں پر کیا گزرتی ہو گی۔ ہمیں جیل کے ان چند گھنٹوں میں معلوم ہوا انسان کے بنیادی حقوق کتنے اہم ہوتے ہیں اور میرا ذاتی خیال ہے دنیا کے کسی شخص اور ادارے کو کسی بے گناہ شخص سے اس طرح تفتیش کرنے کا حق حاصل نہیں‘‘۔میں نے چودھری حارث الٰہی کا یہ انٹرویو ’’گارڈین‘‘ اخبار میں پڑھا تھا اور جب میں اس انٹرویو کی آخری سطروں پر پہنچا تھا تو مجھے قدرت کے ڈیزائن کا اندازا ہوا اور میں بے اختیار مسکرا اٹھا‘میں پچھلے پندرہ ‘ بیس دنوں سے یہ سوچ رہا تھااللہ تعالیٰ نے جنوری کے آخری ہفتے میں چودھری خاندان کو اس تکلیف سے کیوں گزارا؟ مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں ہو رہی تھی لیکن میں نے جونہی چودھری حارث الٰہی کا انٹرویو پڑھا تو میرے دماغ میں فلیش سا ہوا اور مجھے قدرت کا ڈیزائن سمجھ آ گیا اور مجھے محسوس ہوا قدرت اس واقعے کے ذریعے چودھری خاندان کو ان مظلوموں اور بے گناہوں کی کیفیات سے متعارف کراناچاہتی تھی جنہیں شام کے وقت گھر‘ دکان یا مسجد سے اٹھا لیا جاتا ہے اور اس کے بعد ان کے لواحقین مہینوں ان کی آواز اور شکل کو ترستے رہتے ہیں۔آپ تصور کیجئے ‘قید کے یہ چوبیس گھنٹے چودھری خاندان کیلئے کتنے پریشان کن تھے‘ ایک طرف ان کے خاندان کے چھ افراد سپین اور لندن کے درمیان غائب ہو گئے اور دو دن تک ان کا ان سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔ آپ ذرا ان چوبیس گھنٹوں میں چودھری شجاعت حسین‘ چودھری پرویز الٰہی اور ا نکے خاندان کی کیفیت اور اضطراب کا اندازا کیجئے ‘ دوسری طرف آپ ان چھ افراد کو دیکھئے جنہوں نے زندگی میں بھی کوئی تکلیف نہیں دیکھی تھی لیکن پھر انہیں جہاز میں ہتھکڑیاں لگا کر باہر لایا گیا‘ انہیں انٹروگیشن سیل میں لایا گیا‘ان کے سارے رابطے منقطع کر دئیے گئے‘ انہیں برہنہ کر کے ان کی تلاشی لی گئی اور انہیں چھوٹے سے سیل میں بند کر دیاگیا اور 24گھنٹے تک انہیں یہ خبر تک نہ ہوئی وہ کس جگہ ہیں اور ان کا مستقبل کیا ہو گا؟۔ آپ پاکستان میں موجود چودھری خاندان اور سیل میں محبوس چھ افراد کی کیفیت اورحالت کا اندازا لگائیے اور اس کے بعد ان لوگوں کی حالت دیکھئے جو ڈیڑھ ماہ تک لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں بند رہے تھے اور مدرسے کے سامنے توپیں نصب تھیں‘جن پر پانی‘ بجلی اور گیس بند کر دی گئی تھی اور انہیں ہر لمحہ یہ محسوس ہوتا تھا ابھی فائر کی آواز آئے گی اوروہ سب ختم ہو جائیں گے۔آپ ان لوگوں کی حالت زار کااندازا لگائیے جن کے بچے اور بچیاں لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں شہید ہوئے اورانہیں ان کی نعشیں تک نہ ملیں۔ آپ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے ان لوگوں کا اندازا لگائیے جو آج تک بے گناہی کی سزا بھگت رہے ہیں اور انہیں یہ تک معلوم نہیں کس وقت کس طرف سے میزائل آئے گااور یہ میزائل ان کی زندگی کے خاتمے کا اعلان کر دے گا۔ آپ بلوچستان کے ان نوجوانوں اور بوڑھوں کی کیفیت کا اندازا لگائیے جو مسلم لیگ ق کے پانچ سالہ اقتدار کے دوران گھروں سے غائب ہوئے اور آج تک ان کا نام ونشان نہ ملا۔ بلوچستان میں 12سو ایسے گھرانے ہیں جن کے افراد غائب ہیں اور ان کے لواحقین ان کی آواز اور شکل کو ترس رہے ہیں۔آپ ان گھرانوں کی تکلیف کا اندازا کیجئے ‘آپ ان 126افراد کی کیفیت کا اندازا بھی لگائیے جنہیں ہماری ایجنسیوں نے اٹھایا اور اس کے بعد ان کے لواحقین تین برسوں سے سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں اور ان دھکوں کے دوران ہماری عدلیہ تک فارغ ہو گئی لیکن کسی نے ان کو پیاروں کی شکل تک نہ دکھائی اور آپ ان ججوں اور وکلاء کی حالت کااندازا لگائیے جو ملک میں رول آف لاء کی بحالی کیلئے نکلے اور حکومت نے انہیں اٹھا کر گھروں میں پھینک دیا اوراس کے بعد ان کے دروازوں پر پولیس بٹھا دی اور آپ ڈاکٹر عبدالقدیر اور ان کے لواحقین کا اندازا کیجئے جو اس ملک کے ہیرو تھے لیکن ایک دن اسی ہیرو کو حکومت نے قومی مجرم بنادیا۔پاکستان کی تاریخ میں پچھلے پانچ برس رول آف لاء‘ انصاف اور انسانی حقوق کے معاملے میں بدترین سال سمجھے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے ان پانچ برسوں میں پاکستان پر مسلم لیگ ق کی حکومت تھی اور چودھری شجاعت حسین اس پارٹی کے سربراہ تھے اور شائد قدرت اس چھوٹے سے واقعے کے ذریعے چودھری صاحب کو یہ بتانا چاہتی تھی انسان خواہ کتنا ہی بڑا‘ کتنا ہی اونچا اور کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو جائے وہ انسان ہی رہتا ہے اوردنیا کے ہر انسان کو ذلت بھی محسوس ہوتی ہے‘ اسے درد بھی ہوتا ہے‘اس کی عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے اور اسے خوف بھی لاحق ہوتا ہے اور دنیا میں صرف وہی لوگ اچھے اور بڑے ہوتے ہیں جو انسانوں کی تکلیفیں کم کرتے ہیں‘ جو ماؤں کے آنسو گرنے سے پہلے ان کے بیٹے ان کے قدموں میں لاکھڑے کرتے ہیں اور جو باپوں کی بددعاؤں سے پہلے ان کے بیٹے واپس کر دیتے ہیں اور جوانسانوں کی عزت نفس کی بربادی سے پہلے انہیں ریلیف‘ انصاف اور محبت دیتے ہیں۔ چودھری حارث الٰہی نے درست فرمایا تھا ’’ہمیں قید میں جا کر معلوم ہوا بنیادی حقوق کتنے اہم ہوتے ہیں‘‘بالکل درست کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چودھری خاندان کو انسانوں کے بنیادی حقوق سمجھانے کیلئے یہ چھوٹا سا امتحان اتارا تھااورقدرت چاہتی تھی چودھری حارث الٰہی اور ان کے ذریعے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کو ان لوگوں کی تکلیف کا احساس دلایا جائے جو آج بھی پاکستان کے خفیہ سیلوں میں پڑے ہیں اور روز اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے ذمہ داروں کی بربادی کی دعائیں کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے چودھری خاندان پر یہ تکلیف صرف اور صرف بنیادی حقوق کی اہمیت سمجھانے کیلئے اتاری تھی اور مجھے خوشی ہے چودھری حارث الٰہی اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سمجھ گئے ہیں‘لیکن کاش چودھری شجاعت حسین بھی یہ پیغام سمجھ جائیں اور وہ آج سے ان لوگوں کیلئے کام شروع کر دیں جومسلم لیگ ق کی حکومت کے دوران جیلوں میں پھینک دئیے گئے اور ہمارے نظام نے انہیں آج تک عدالتوں میں پیش نہیں کیا۔ مجھے خطرہ ہے اگر چودھری صاحب نے قدرت کے اس پیغام کو نہ سمجھا تو شائد اللہ تعالیٰ انہیں دوسری وارننگ نہ دے کیونکہ جس طرح دنیا میں کسی دکھی دل کی دعا اکارت نہیں جاتی بالکل اسی طرح کسی مظلوم کی بددعا بھی رائیگاں نہیں جاتی اور یہ حقیقت ہے ہماری سابق حکومت کو ہزاروں دکھی دلوں نے بددعائیں دی تھیں اور بددعاؤں کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور اگر چودھری صاحب نے یہ سلسلہ نہ روکا تو شائد بہت دیر ہو جائے اور شائد دوسری وارننگ کا موقع نہ آئے ۔