جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

’’ایک تنکے نے ڈبو ڈالا‘‘

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

حضرت سیدنا وہب بن منبہؓ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک نوجوان نے ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کی۔ پھر ستر سال تک مسلسل عبادت کرتا رہا۔ دن کو روزہ رکھتا۔ رات کو جاگتا۔ اس کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ نہ کسی سایہ کے نیچے آرام کرتا اور نہ ہی کوئی عمدہ غذا کھاتا۔ جب اس کا انتقال ہوا گیا تو اس کے بعض دوستوں نے اسے خواب میں دیکھ کر مافعل اللہ بک؟

یعنی اللہ عزوجل نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟اس نے بتایا کہ اللہ عز و جل نے میرا حساب لیا۔ پھر سب گناہوں کو بخش دیا مگر آہ!ایک تنکا جسے میں نے اس کے مالک کی مرضی کے بغیر لے لیا تھا اور اس سے دانتوں میں خلال کیا تھا وہ تنکا اس کے مالک سے معاف کروانا رہ گیا تھا۔افسوس صد افسوس!اس سبب سے ابھی تک مجھے جنت سے روکا ہوا ہے۔مجھے جنت سے روکا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…