جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

امریکا کی ایران کی ڈرون انڈسٹری پر نئی پابندیاں

datetime 22  مارچ‬‮  2023 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکا نے ایران اور ترکیہ میں چار اداروں اور تین افراد پر ایران کے ڈرون اور ہتھیاروں کی تیاری کے پروگراموں میں مدد کے لیے یورپی ساختہ ڈرون انجنوں سمیت آلات کی خریداری میں ملوث ہونے پر پابندیاں عائد کی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ آلات کی فراہمی کا نیٹ ورک ایرانی وزارت دفاع اور معاونت کی جانب سے کام کرتا ہے۔یہ پابندیاں تازہ ترین ہیں جو واشنگٹن نے ایران میں ڈرون انڈسٹری کو نشانہ بنانے کے ایک حصے کے طور پر لگائی ہیں۔امریکا نے اس ماہ کے شروع میں چین میں قائم ایک نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ڈرون تیار کرنے والی ایک ایرانی کمپنی کو طیاروں کے پرزے بھیجے ہیں جنہیں تہران آئل ٹینکرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور روس کو برآمد کرتا تھا۔دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے ڈرونز اور روایتی ہتھیاروں کی اس کے پراکسیز کے لیے دستاویزی تعیناتی علاقائی سلامتی اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کسی بھی دائرہ اختیار میں غیر ملکی سپلائی نیٹ ورکس کو ظاہر کرتا رہے گا جو ایران کے فوجی صنعتی کمپلیکس کو سپورٹ کرتا ہے۔نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔پابندیوں کی فہرست میں ایرانی ڈیفنس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر، امان اللہ بیدار، جو کہ محکمہ خزانہ کے مطابق سینٹر کے کمرشل ڈائریکٹر اور پروکیورمنٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور بیدر کی فرزان انڈسٹریل انجینئرنگ کمپنی شامل تھی۔پابندیوں کے دائرے میں آنے والوں میں مراد بوکی نام کا ایک ترک شہری بھی شامل ہے۔ محکمہ خزانہ نے اس پر بیدار کی کمپنی کے لیے کیمیکل اور بائیولوجیکل ڈیٹیکٹر سمیت دفاعی ایپلی کیشنز کے ساتھ مختلف آلات کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کا الزام لگایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…