پاکستا ن کو ’ ریڈ لسٹ ‘میں کیوں ڈالا گیا ، برطانوی پارلیمنٹ کے 34 ارکان کابڑااعلان

  بدھ‬‮ 7 اپریل‬‮ 2021  |  19:03

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )پاکستان اور بنگلا دیش کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے کے معاملے پر 34 ممبران پارلیمنٹ نے وزیر اعظم بورس جانسن کو خط لکھ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے چونتیس ممبران نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر توجہ دلائی ہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے سے برطانوی شہری متاثر ہوں گے، برطانیہ میں 11 لاکھ سےزیادہ پاکستانی مقیم ہیں۔ممبران پارلیمنٹ کا خط میں کہنا تھا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے کا واضح جواز نہیں دیا گیا۔ نجی ٹی وی اے آروائی کے


مطابق ریڈ لسٹ میں ڈالے جانے کے طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔ انھوں نے خط میں کہا ہے کہ پاکستان میں انفیکشن ریٹ برطانیہ سے بھی کم ہے، پاکستان میں کرونا کیسز دیگر ممالک سے بہت کم ہیں جو ریڈ لسٹ پر نہیں۔ ناز شاہ کے بعد ایک اور برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے پر وضاحت مانگ لی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہمیں بتایا جائے کن شواہد پر پاکستان اور بنگلا دیش کو ریڈ لسٹ میں ڈالا گیا، نیز یہ بھی بتایا جائے کہ ریڈ لسٹ کا دوبارہ جائزہ کب لیا جائے گا۔قبل ازیں برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن جیمز فرتھ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر سوال اٹھادیا۔جیمز فرتھ نے برطانوی وزیر خارجہ پریتی پٹیل کو خط لکھ کر سوال کیا کہ کورونا کی صورتِ حال بھارت، فرانس، جرمنی اور خود برطانیہ میں پاکستان سے زیادہ خراب ہے، بتایا جائے پاکستان کو کن وجوہات پر ریڈ لسٹ میں شامل کیا گیا۔ برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن کے مطابق سفری پابندیوں سے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، میرے حلقے میں بہت سے لوگ پاکستان سے ہیں جو رمضان کے موقع پر پاکستان جانا چاہیں گے لیکن حکومتی فیصلے سے ان کی مشکلات بڑھیں گی۔واضح رہے کہبرطانیہ نے کورونا کے باعث پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے، ریڈ لسٹ میں پاکستان کے علاوہ کینیا، بنگلا دیش اور فلپائن بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق سفری پابندیوں کی ریڈلسٹ میں شامل ممالک سے صرف برطانوی اور آئرش شہریوں کو ملک میں داخلے کی اجازت ہو گی، ریڈلسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے برطانوی شہریوں کو 10 دن قرنطینہ کرنا ہو گا۔برطانوی میڈیا کےمطابق ریڈلسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والوں پر پابندی کا اطلاق 9 اپریل سے ہو گا۔دوسری جانب پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے برطانیہ میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے حکومتِ پاکستان کو مدد کی پیشکش کردی۔ عامر خان نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان میں پھنسے لوگوں کو واپس لانے کے لئے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ چارٹر فلائٹس چلانے کیلئے آج دوبارہ ذلفی بخاری سے بات کروں گا۔باکسر عامر خان نے کہا کہ کوشش ہے برٹش پاکستانیوں کو 9 اپریل سیواپس لائیں۔واضح رہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر دیا ہے، ریڈ لسٹ کا مطلب ہے کہ صرف برطانیہ، آئرش یا برطانوی ریزیڈنسی رکھنے والوں کو برطانیہ آنیکی اجازت ہوگی۔خیال رہے کہ برطانوی ریڈ لسٹ کی وجہ سے 9 اپریل کے بعد کوئی غیر برطانوی شہری برطانیہ داخل نہیں ہو سکے گا۔


زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎