مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ بنانے کیلئے بھارت کس خوفناک منصوبے پر عمل پیرا ہے؟ انتہائی تہلکہ خیز بات سامنے آ گئی

  جمعہ‬‮ 5 جون‬‮ 2020  |  20:38

اسلام آباد(این این آئی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعودخان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر ملکی تسلط، ظلم و بربریت اور خوف و دہشت سے سب سے زیادہ وہاں کے بچے متاثر ہو رہے ہیں جنہوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد گولیوں کی تڑ تڑاہٹ، زخمیوں کی آہ بکا اور بارود کے گھنے دھوئیں کے سوا کچھ نہیں دیکھا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں سینکڑوں بچے بھارتی فوج کی بربریت کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گے،ہزاروں ماں یا باپ یا دونوں والدین سے محروم ہو کر یتیمی کی زندگی گزار رہے


ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو نا کردہ جرم کی پاداش میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں اپنا بچپن اور نوعمری کی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار رہے ہیں۔ جارحیت کا شکار بچوں کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ جن بچوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ تعلیم، تفریح طبع میں صرف کرنا تھا یا خوف سے پاک آزادی کے ماحول میں اپنے والدین، بہن بھائیوں، عزیز و اقارب اور ہم جولیوں کے ساتھ کھیل کود میں گزارنا تھا اُن بچوں میں سے ایسے ہزاروں ہیں جو یا تو ناحق قتل کر دئیے گے ، جیلوں میں بند ہیں یا انہیں والدین کی محبت و شفقت سے محروم کر دیا گیا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی مقبوضہ ریاست میں جارحیت کے بعد کشمیر کی تین نسلیں جوان ہو چکی ہیں لیکن وہاں بچوں اور نئی جوان ہونے والی نسل کے محفوظ مستقبل کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کیونکہ دنیا میں بچوں اور انسانوں کے حقوق کے نام نہاد علمبرداروں نے کشمیر کے حالات سے آنکھیں بند کررکھی ہیں اور بھارت کو بچوں، خواتین اور جوانوں پر ہر قسم کا ظلم روا رکھنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اب بھارت کشمیریوں کی علامتی علیحدہ حیثیت کو ختم کرنے کے بعد ایک ایسے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد جموں وکشمیر کے اصل باشندوں کو نسل کشی کے ذریعے ختم کر کے اسے ہندو اکثریتی علاقے میں بدلنا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں نیا ڈومیسائل قانون، ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کر کے اسے بھارتی یونین کا حصہ بنانا اور ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابی حلقوں کی حلقہ بندیوں میں ردو بدل کرنے کے علاوہ بھارت سے غیر مسلم ہندئو شہریوں کو لاکر مقبوضہ کشمیر میں آباد کرنا اس مذموم منصوبے کا حصہ ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارتی عزائم مقبوضہ کشمیر سے کہیں آگے ہیں۔ کیونکہ بھارتی کی حکمران جماعت بی جے پی اور آرایس ایس اعلانیہ کہہ رہی ہیں کہ وہ بھارت میں ہندوئوں کے علاوہ باقی تمام لوگوں کو ودیشی (غیرملکی ) سمجھتے ہیںاور وہ ان تمام لوگوں سے بھارت کو پاک کر کے اسے بھارت بھومی یا اکھنڈ بھارت بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ بھارتی حکمران بار ہا کہہ چکے ہیں وہ پاکستان کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں اور جارحیت کر کے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ ان دھمکیوں اور مقبوضہ کشمیر کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے عملی اقدامات کے بعد ہمارے لئے اور کوئی راستہ نہیں کہ ہم بھارت کے مکروہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے تیاری کریں اور اپنے مادر وطن کی حفاظت اور مقبوضہ کشمیر کے بچوں کو دشمن کے پنجہ استبداد سے آزادی دلانے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کریں۔


موضوعات: