اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کچھ دو ،کچھ لو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکرفلسطینی ریاست قائم ہوسکتی ہے،اسرائیلی وزیراعظم افسوسناک بیان سامنے آگیا

datetime 30  مئی‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس ( آن لائن) عبرانی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے فلسطینی علاقوں پر صہیونی خود مختاری کے ویڑن کی تفصیلات جاری کردیں۔عبرانی اخبار کو ایک طویل انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاھو نے کہا کہ اگر فلسطینی مغربی کنارے اور وادی اردن کے تمام علاقوں پر سیکیورٹی کنٹرول پر راضی ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی الگ ریاست کے حصول کی طرف جاسکتے ہیں۔

یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(صدی کی ڈیل)کے منصوبے میں طے کی گئی ہے۔نیتن یاھو نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی نیم خود مختار ریاست کے قیام اور اس کے حصول کے لیے 10 شرائط پرعمل درا?مد کرنا ہوگا۔ یعنی مغربی کنارے اور وادی اردن میں آباد بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنا ہوگا۔متحدہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہوگا۔کسی بھی مہاجرین فلسطینی کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور تمام فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ماننا ہوگا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مغربی کنارے پر خود مختاری کا اطلاق کرنے کا یہ سنہری اور تاریخی موقع ہے جسے وہ کسی صورت میں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تاریخی رجحان کو تبدیل کرنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔گذشتہ تمام سیاسی منصوبوں میں 1967 کی سرحدوں تک علاقوں پر اسرائیلی مراعات شامل تھیں۔ القدس کو تقسیم کرنے اور مہاجروں کے مسئلے کو حل کرنے کی بات کی گئی تھی۔نیتن یاہو نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے، وہاں کے سفارتخانے کی منتقلی کے ساتھ ساتھ گولان کی پہاڑیوں پراسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے، غرب، اردن ، وادی اردن اور بحر مردار کے اسرائیلی الحاق کیاعلانات کی حمایت کی ہے۔ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو نے کہا کہ وہ عالمی عدالت انصاف کی طرف سے اسرائیلی سیاسی اور عسکری رہ نمائوں کے خلاف مقدمات کا قیام مضحکہ خیز ہے اور ہم اپنی قیادت کا ہرفورم پردفاع کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…