سعودی عرب کے اہم ترین شہزادے کو حراست میں لینے کا انکشاف ولی عہد نے شہزادے سے کیا کرنے کا کہا تھا جس کا انہوں نے صاف انکار کر دیا ؟امریکی تنظیم نے حیرت انگیز انکشافا ت کر دیئے

  ہفتہ‬‮ 9 مئی‬‮‬‮ 2020  |  21:30

ریاض (این این آئی)انسانی حقوق کی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں شہزادہ فیصل بن عبداللہ کو حراست میں لے کر قید کر لیا ہے اور ان کے کسی بھی قسم کے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔شہزاد فیصل بن عبداللہ کو ماضی میں کرپشن کے خلاف مہم کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر 2017 میں رہا کردیا گیا تھا۔امریکا کی انسانی حقوق کی تنظیم نے شاہی خاندان سے رابطہ رکھنےوالے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سابق بادشاہ عبداللہ کے صاحبزادے شہزادہ فیصل بن عبداللہ کو سیکیورٹی


فورسز نے 27مارچ کو حراست میں لیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ ان دنوں شہزادہ فیصل کورونا وائرس کی وجہ سے آئسولیشن میں تھے کیونکہ شاہی خاندان کے ایک فرد میں کورونا کی تصدیق ہوئی تھی۔خبر رساں ادارہ کسی آزاد ذرائع سے ان کی حراست کی تصدیق نہیں کر سکی جبکہ سعودی حکومت کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ذرائع نے بتایا کہ مارچ کے اوائل میں حکام نے شاہ سلمان کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور سابق ولی عہد محمد بن نائف کو حراست میں لے لیا تھا۔شہزادہ نائف کو 2017 میں ولی عہدی کے لیے محمد بن سلمان کے حق میں دستبردار ہونے کا کہا گیا تھا اور انہیں نظر بند کردیا گیا تھا۔شاہی خاندان سے قریبی روابط کے حامل ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ان تمام افراد کو شاہی السعود خاندان کے تابع بنانا ہے تاکہ اگر بادشاہ کی موت ہو تو محمد بن سلمان کے بادشاہ بننے کی راہ میں یہ کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا شہزادہ فیصل کو بھی مارچ کے اوائل میں کی گئی گرفتاریوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے جہاں اس اقدام کے نتیجے میں احمد کے بیٹے نائف اور محمد بن نائف کے بھائی نواف کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔سعودی حکام نے ان حراستوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا جس کے بعد اختلاف رائے رکھنے والوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے تحت علما،خطیبوں، دانشوروں اور دائیں بازو کے سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔اس کے بعد 2017 میں کرپشن کے خلاف ایک مہم شروع کی گئی تھی جس کے تحت شاہی خاندان کے افراد، وزرا اور کاروباری افراد سے تفتیش کی گئی تھی۔انسانی حقوق کی تنظیم کے مشرق وسطیٰ کے نائب ڈائریکٹر مچل پیج نے کہا کہ اب ہمیں شہزادہ فیصل کو بھی سعودی عرب میں حراست میں لیے گئےسینکڑوں افراد کی فہرست میں شامل کرنا ہو گا حالانکہ ہمیں معلوم نہیں کہ انہیں کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔دوسری جانب سعودی حکومت اور شاہی خاندان ان تمام تر الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔گزشتہ سال حکام نے کہا تھا کہ حکومت کرپشن کے خلاف مہم اب ختم کرنے جارہی ہے لیکن کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہمعلوم نہیں ہو سکا کہ شہزادہ فیصل کو کہاں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ذرائع نے بتایا تھا کہ شہزادہ فیصل نے دسمبر 2017 کے بعد سے سرعام حکام کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ ترک کردیا تھا اور ان کے دل کے مسائل کے سبب اہلخانہ کو ان کی بہت فکر لاحق تھی۔دسمبر 2017 میں ایک سینئر سعودی عہدیدار نے بتایاتھا کہ شہزادہ فیصل اور ایک اور شاہی شخصیت شہزادہ میشال بن عبداللہ کو حکومت سے مالی معاملات طے ہونے کے بعد ریاض کے کارلٹن ہوٹل سے رہا کردیا گیا تھا جہاں کرپشن کے خلاف مہم میں حراست میں لیے گئے افراد کو اسی ہوٹل میں رکھا گیا تھا۔


موضوعات: