جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث بند پلانٹ میں سے زہریلی گیس کا اخراج ، بڑے پیمانے پرہلاکتیں،ہزاروں متاثر، سڑکوں پر ڈھیر لگ گئے ، انتہائی دل دہلا دینے والے مناظر

datetime 7  مئی‬‮  2020 |

نئی دہلی( آن لائن )جنوبی بھارت کے وشاکھاپٹنم میں ایک ملٹی نیشنل کیمیکل پلانٹ میں گیس لیک ہونے سے دس افرادہلاک جبکہ پانچ ہزار سے زائد بیمار پڑگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق آندھراپردیش کے وشاکھاپٹنم میں واقع ایل جی پالیمر انڈسٹری میں اچانک گیس کے اخراج سے ایک بچی سمیت دس افرادہلاک ہوگئے جبکہ پانچ ہزار سے زائد افراد بیمار ہوگئے ۔کئی لوگ اب بھی سڑکوں پر بے ہوش پڑے ہوئے ہیں ۔

مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اورعلاقے میں افراتفری کا ماحول ہے۔بچاو اور راحت کا کام تیزی سے جاری ہے، لوگوں کو اسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ پولیس نے جائے حادثہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور وہاں فائر ٹینڈر کے ساتھ ایمبولنس بھی موجود ہیں۔یہ حادثہ رات ڈھائی سے تین بجے کے درمیان پیش آیا جب لوگ سوئے ہوئے تھے۔لوگ آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کررہے ہیں۔ بالخصوص عمر دراز او ر بچوں کو سانس لینے میں زیادہ پریشانی ہورہی ہے۔ٹی وی کی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگو ں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ لوگ زخمیوں کوبچانے کے لیے سڑکوں پر دوڑ رہے ہیں اور انہیں ایمبولنس میں ڈالنے کی تگ دو کررہے ہیں۔ پس منظر میں پلانٹ سے خطرے کا سائرن بھی بجتا ہوا سنائی دے رہا ہے۔گیس کے تین سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ تقریبا دو ہزار لوگوں کو علاقے سے نکال کر مختلف مقامات پر پہنچایا گیا ہے جب کہ بہت سے لوگ خود ہی دوسری جگہ منتقل ہورہے ہیں۔ضلع مجسٹریٹ ونئے چند نے میڈیا کو بتایا کہ اسٹائرین نامی گیس لیک ہوئی ہے۔ ہم صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کے حکام صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔بعض ذرائع کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں نرمی کے بعد اس پلانٹ میں کل ہی کام شروع ہوا تھا۔

لیکن شاید پروٹوکول پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر ہنر مند اور غیر پیشہ ور افراد کو کام پر لگادیا گیا۔ہندوستان پالیمر کمپنی کا قیام 1961میں ہوا تھا۔ 1997میں کمپنی کو جنوبی کوریا کے ایل جی کیمیکلز نے ایکوائر کرلیا تھا اور اسے ایل جی پالیمر کا نام دیا تھا۔پلانٹ میں پالیسٹرین نامی ایک قسم کا پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے جس کا استعمال کھلونے اور دیگر گھریلو ساز و سامان تیار کرنے میں ہوتا ہے۔صنعت و تجارت کے وفاقی وزیر پیوش گوئل نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا کہ میں تمام لوگوں کی سلامتی او ربہتری کی دعا کرتاہوں اور مصیبت کی اس گھڑی میں وشاکھا پٹنم کے عوام اور ان لوگوں کے ساتھ ہوں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھود یا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…