’’خطہ امریکاکے ہاتھ سے نکلا گیا ‘‘ایران کے بعد دو بڑے ممالک نے امریکہ کیخلاف اعلان جنگ کر دیا

  بدھ‬‮ 8 جنوری‬‮ 2020  |  18:51

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے بعد عراقی ملیشیا نے بھی امریکہ سے جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔سربراہ عراقی ملیشیا کا کہنا ہے کہ امریکہ سے اپنے شہدا کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہیں، امریکا سے عراق کا انتقام ایران سے کم نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا ایران نے اپنا ردعمل دے دیا، اب عراق کی طرف سے جواب دینے کا وقت ہے۔بدھ کی صبح ایران نے عراق میں موجود امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر حملے کیے۔امریکہ کے محکمہ دفاع کے مطابق ایران سے 12 بلیسٹک میزائل داغے گئے جن سے الانبار اور اربیل میں


امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔پینٹاگان کی طرف سے جاری ابتدائی بیان کے مطابق ایران نے امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بنایا تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق فی الحال نہیں کی گئی۔دوسری جانب ایران کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ حملے میں 80 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرنا تھا جس کو موخر کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاس کے گرد سیکیورٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔امریکی فیڈرل ایویشن نے مسافر طیاروں کومشرق وسطی کی فضائی حددود استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ جمعے امریکہ نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈورن حملے میں ہلاک کر دیا تھا جو ایران امریکہ کشیدگی میں اضافے کا سبب بنا۔ دوسری جانب لبنانی ملائیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ٹی وی کے ذریعے امریکہ پر حملے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا جب امریکی فوجیوں کی کی لاشیں امریکہ پہنچیں گی تو ڈونلڈٹرمپ کو پتہ چلے گا کہ خطہ ان کے ہاتھ سے نکلا گیا ہے اور وہ الیکشن بھی بری طرح سے ہار گئے ہیں جنرل قاسم سلیمانی کی موت نے ناصرف ایران اور عراق بلکہ پورے خطے میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے ۔ دوسری جانب طیب اردوان اورحسن روحانی کے درمیان ٹیلفونک رابطہ ۔ تفصیلات کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کےبعد ترکی صدر طیب اردوان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان رابطہ ہو ا ہے جس میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمان کےقتل پر انتہائی افسوس ہے ایران کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کر دیا ۔ دو روز قبل ایرانی صدر حسن روحانی اور ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون رابطہ ہو تھا ۔ترک صدر نے اپنی حمایت کا مکمل یقین دلایاتھا۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ہم امریکی سازشوں کیخلا ف اکٹھے نہ ہوئے تو پھر بڑا خطرہ ہے جو امن کو تباہ کر دے گا ۔ جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کر کے امریکہ نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے اگر ایسے موقعے پر ہم خاموش رہے تو ہمارادشمن خود کو طاقتور اور جارحانہ رویے اپنالے گا ۔ جنرل قاسم کی موت نے پوری قوم کو افسردہ کر دیا ہے ۔ جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد بہت افسردہ ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں جلد ایران کا دورہ کروں گا جہاں پر ترکی اور تہران کے درمیان خطے کی صورتحال سمیت دیگر ایشو پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

موضوعات: