برطانوی حکومت کے لیے بہت بڑا دھچکا ،عدالت نے پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا

  جمعرات‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2019  |  12:30

لندن(این این آئی)اسکاٹ لینڈ کی سپریم سول کورٹ نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمنٹ معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جو برطانوی حکومت کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے 78 قانون سازوں نےبورس جانسن کی جانب سے ملکہ ایلزبیتھ دوم کو بریگزٹ پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواست دینے کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔تاہم 4 ستمبر کو سیشن کورٹ کے جج لارڈ ڈوہرتی نے بورس جانسن کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دینے کی اپیل مسترد کردی


تھی اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ سیاست دان کرتے ہیں عدالتیں نہیں کرتیں۔2 روز قبل اسکاٹ لینڈ میں واقع سول سپریم کورٹ کے 3 ججوں نے لارڈ ڈوہرتی کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔دوران سماعت جج لارڈ کارلوے نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے ملکہ الزبتھ دوم کو پارلیمنٹ معطلی کی درخواست کرنا غیر قانونی ہے اور پارلیمنٹ معطل کرنا بھی غیر قانونی ہے۔اس حوالے سے بورس جانسن کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کو مضبوط قانونی لائحہ عمل پیش کرنے کی ضرورت ہے، ایسا کرنے کے لیے پارلیمنٹ معطل کرنا قانونی اور ضروری راستہ ہے۔گزشتہ ہفتے لندن کی ہائی کورٹ میں پارلیمنٹ معطل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔برطانوی حکومت نے عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی جو 17 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔تاہم اس دوران عدالت کی جانب سے معطلی کو غیرقانونی قرار دینے کے باوجود برطانوی پارلیمنٹ معطل رہے گی۔دوسری جانب ناقدین بورس جانسن کے اس اقدام کو 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے منصوبے پر اپوزیشن کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں کیونکہ برطانوی وزیراعظم برسلز کی جانب سے بریگزٹ کی شرائط پر متفق نہیں ہیں۔

موضوعات:

loading...