لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہروں پر بھارتی حکومت پریشان، مودی نے بورس جانسن سے شکایت کردی،حیرت انگیز صورتحال

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  20:50

نئی دہلی(آن لائن)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ہونے والے مظاہروں پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے شکایت کردی۔مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے خلاف گزشتہ ہفتے بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر ہزاروں افراد نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا تھا، جنہوں نے پاکستانی اور کشمیری پرچم اٹھا رکھے تھے۔احتجاج کے حوالے سےنریندر مودی کے حامیوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں نے الزام عائد کیا تھا کہ مظاہرین نے بھارتی


خواتین اور بچوں پر بوتلیں اور انڈے مارے، جبکہ برطانوی حکام انہیں روکنے میں ناکام رہے۔دوسری جانب لندن پولیس نے بتایا کہ پولیس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور ہتھیار رکھنے پر 4 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔برطانوی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’اپنی گفتگو میں نریندر مودی نے ایک بڑے ہجوم کے ہاتھوں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر یومِ آزادی پر ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کا حوالہ دیا‘۔بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم بورس جانسن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ ہائی کمیشن، اس کے عملے اور وہاں آنے والے افراد کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے‘۔اس موقع پر نریندر مودی نے بورس جانس کو بتایا کہ ’دہشت گردی، بھارت اور یورپ دونوں کے لیے مسئلہ ہے اور اس سے لڑنے کے لیے کارروائی کرنی پڑے گی‘۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق نریندر مودی نے داعش کے پھیلاؤ کے خطرے کے تناظر میں بنیاد پرستی، عدم برداشت اور تشدد کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

loading...