بھارت کے نومنتخب40 فیصد ارکان پارلیمنٹ پر ریپ، قتل سمیت کئی مقدمات درج

  اتوار‬‮ 26 مئی‬‮‬‮ 2019  |  12:10

نئی دہلی(این این آئی)ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر)نے کہاہے کہ بھارت کی نئی پارلیمنٹ کے 40 فیصد سے زائد قانون ساز ریپ اور قتل سمیت کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق اے ڈی آر کی رپورٹ میں کہاگیاکہ کانگریس کےایک قانون ساز قتل، ڈکیتی سمیت 204 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی نشستوں پر کامیاب ہونے والے 543 اراکین میں سے کم از کم 233 افراد پر مجرمانہ اقدامات کے مقدمات فرج ہیں۔رپورٹ کے مطابق جیتنے والے 539 افراد کے ریکارڈز کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ


مجرمانہ کیسز کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد 2004 سے اب تک سب سے زیادہ رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کامیاب ہونے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 303 قانون سازوں میں سے 116 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ایک پر دہشت گردی کے مقدمات بھی درج ہیں۔کانگریس کے 52 اراکین پارلیمنٹ میں سے 29 پر مقدمات درج ہیں جبکہ کیرالا ریاست سے جیتنے والے قانون ساز دین کوریاکوس پر تنہا 204 مقدمات درج ہیں۔اے ڈی آر کا کہنا تھا کہ مقدمات کا سامنا کرنے والے قانون سازوں کی تعداد گزشتہ ایک دہائی میں دگنی ہوئی ہے جن میں سے 11 پر قتل، 30 پر گلے کاٹنا اور 3 پر ریپ کا الزام ہے۔بھارتی قانون کے مطابق 2 سال یا اس سے زائد کی سزا پانے والے مجرمان پر انتخابات میں حصہ لینے کی پابندی ہے، تاہم چند جرائم میں اس سے استثنیٰ بھی حاصل ہے۔گزشتہ حکومت کے 185 قانون سازوں میں سے، جنہیں مختلف مقدمات کا سامنا تھا، کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی جبکہ کئی واپس پارلیمنٹ میں آگئے ہیں۔

موضوعات:

loading...