جمعرات‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2026 

مرگی کا مریض صحت مند زندگی گزار سکتاہے، طبی ماہرین نے خوشخبری سنا دی، ماؤں کو بچوں کے حوالے سے اہم بات بھی بتا دی گئی

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)طبی ماہرین نے کہا کہ مرگی کا مرض بچپن، جوانی اور پچاس سال کی عمر ہوجانے کے بعد بھی ہو سکتا ہے یہ بیماری قابل علاج ہے لہذا اس مرض میں مبتلا افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ پاکستان میں ایک محتاظ اندازے کے مطابق مرگی کے مریضوں کی تعداد تقریبا 20لاکھ ہے۔مرض میں مبتلا مریض کوجوتا سنگھانا،تھپڑ مارنا، پانی ڈالنا، منہ میں انگلی ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا،اہل خانہ کو کوشش کرنا چاہئے کہ ایسے مریض کو زخمی ہونے سے بچایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر احسن نعمان، پروفیسر اطہر جاوید،پروفیسر ایم نعیم قصوری، ڈاکٹر محسن ظہیر،اور ڈاکٹر شاہد مختار آگاہی سیمینار میں کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹروں، پیرا میڈکس کے علاوہ مریضوں کے عزیز و اقارب بھی موجود تھے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نیورو سرجنز اور نیورولوجسٹس نے کہا کہ مرگی کا مرض لا علاج نہیں صحت یابی ممکن ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مرض کی تشخیص بر وقت کی جائے۔ یہ دماغی بیماری ہے جس کاعلاج 21ویں صدی میں جدید آپریشن اور ادویات کی مدد سے ممکن ہے اورمریض صحت یاب ہو کر نارمل زندگی گزار سکتا ہے جبکہ حاملہ خواتین احتیاط کے ذریعے تندرست بچے کو جنم دے سکتی ہے۔ پروفیسرز صاحبان کا کہنا تھا کہ مرگی کے مریض دوروں کے دوران دماغی طور پر نارمل ہو تے ہیں۔ یہ مرض 95فیصد مورثی نہیں ہوتا ہے، مرگی کی گئی اقسام ہیں، صحیح تشخیص سے علاج بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50سال کے بعد مرگی کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر،شوگر اوربرین ٹیومر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بچوں کے پیٹ میں عجیب سا درد ہوتا ہے لیکن مائیں اس پر توجہ نہیں دیتیں یہ علامات بچوں کیلئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو مرگی کا مرض ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو چاہئے کہ وہ اپنے معالج سے فرسٹ ایڈ کی مکمل معلومات حاصل کریں۔ طبی ماہرین کا مزید کہناتھا کہ مرگی کے مریض کو فوراً مستند ڈاکٹر یا نیورو فزیشن سے رجوع کرنا چاہیے۔خون کے متعلقہ ٹیسٹ، ای ای جی،ای ایم جی اور ایم آر آئی کروا کر باقاعدہ ادویات استعمال کرنی چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…