پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں کو زہریلا دودھ پلایا جانے لگا ، پانی میں کونسا خوفناک کیمیکل ملا کر فروخت کیا جانے لگا ؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

راولپنڈی(این این آئی)گلوبل جسٹس، پیس اینڈ ہیومن رائٹس وکلاء فورم اور قرآن پاک کے فہم کو عام کرنے کی تنظیم ’’رکوع فائو نڈیشن‘‘ کے چئیرمین محمد نعیم عصمت ایڈووکیٹ نے شہر بھر میں زہریلے کیمیکل سے آلودہ دودھ اور انتہائی مضر صحت گوشت کے بے دھڑک اور بڑھتے ہوئے کاروبار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو زہر کھلانے اور ان کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے والوں کو کھلی چھٹی

دے رکھی ہے ۔ تنظیم کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ زہریلے کیمیکل اور چکنائی سے سفید کیا گیا پانی پورے شہر میں دودھ کے نام پر دھڑلے سے فروخت ہو رہا ہے جو مقامی طور پر بھی تیار ہوتا ہے اور شہرسے باہر کے علاقوں سے بھی ٹینکروں میں بھر کر لایا جاتا ہے ۔ اسی طرح دوسرے شہروں سے مردار جانوروں سمیت لاغر ، کم عمر اور انتہائی مضر گوشت بھی کسی خوف اور ڈر کے بغیر بیچا جا رہا ہے ۔ عوام کی رگوں میں اترنے والا یہ زہر زندگی کیلئے خطرہ تو ہے ہی مگر اس سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ کوئیٹہ کے سابقے یا لاحقے کے نام کے ساتھ جگہ جگہ کھلنے والے ہوٹلوں میں یہ دودھ اور گوشت زیادہ سپلائی ہوتا ہے جبکہ گلی محلوں میں قائم ملک شاپس اور میٹ شاپس پر بھی یہ موت بغیر کسی خوف اور ڈر کے بانٹی جا رہی ہے ۔ محمد نعیم عصمت ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس دودھ کو ٹیسٹ کرنے کا کوئی نظام نہیں اور نہ ہی وہ اس جانب توجہ دے رہی ہے ۔ قصابوں کی دکانوں پر صحت کیلئے انتہائی مضر گوشت فروخت ہو رہا ہے اور قصائیوں نے جگہ جگہ اپنے مذبحہ خانے کھول رکھے ہیں جہاں قریب المرگ اور انتہائی لاغر جانوروں کو ذبح کرکے انہیں عوام کے آگے بیچا جاتا ہے ۔ اسی طرح شہر سے باہر کے علاقوں سے موذی امراض کے باعث مر جانے والے مردار جانوروںکا گوشت بھی شہر بھر میں سپلائی ہوتا ہے ۔ انہوں نے وزیر

اعظم ، وزیر اعلی پنجاب ، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور محکمہ صحت کے حکام سمیت دیگر اعلی متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کاروبار میں ملوث مکروہ اور گھنائونے کردار کے گرد قانون کا گھیرا تنگ کریں اور محض وقتی و کاغذی کاروائی کی بجائے ایک ایسا سسٹم بنائیں کہ عوام کے ساتھ دھوکہ ، فراڈ اور دو نمبری کا خاتمہ

ممکن ہو سکے ۔ نیز کوئٹہ کے نام سے روزانہ لاکھوں روپے کمانے والے ہوٹلوں کو بھی چیک کیا جائے جو انتہائی سفاکی کے ساتھ نہ صرف دو نمبر دودھ اور گوشت عوام کو کھلا رہے ہیں بلکہ ان کی آڑ میں منشیات جیسا مکروہ دھندھا بھی فروغ پا رہا ہے جو چار چار لاکھ روپے ماہانہ کرائے کی بلڈنگوں میں ہوٹل کھول کر معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…